زیتون کا فائدہ

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
كُلوا الزَّيتَ وادَّهِنوا بِهِ فإنَّهُ مِن شجَرةٍ مبارَكَةٍ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زیتون کا تیل کھاؤ اور اسے (جسم پر) لگاؤ، اس لیے کہ وہ مبارک درخت ہے“


(تخریج الحدیث: [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1851]«سنن ابن ماجہ/الأطعمة 34 (3319)، قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1319)،(تحفة الأشراف: 10392) (صحیح)») صحيح الجامع ٤٤٩٨، صحيح الترغيب ٢١٢٧، حسن لغيره

وضاحت: کیونکہ یہ درخت شام کی سر زمین میں کثرت سے پایا جاتا ہے، اور شام وہ علاقہ ہے جس کے متعلق رب العالمین کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس سر زمین کو ساری دنیا کے لیے بابرکت بنایا ہے، کہا جاتا ہے کہ اس سر زمین میں ستر سے زیادہ نبی اور رسول پیدا ہوئے انہیں میں ابراہیم علیہ السلام بھی ہیں، چوں کہ یہ درخت ایک بابرکت سر زمین میں اگتا ہے، اس لیے بابرکت ہے، اس لحاظ سے اس کا پھل اور تیل بھی برکت سے خالی نہیں ہے۔
------------------------------
پیشکش از : IMG_20220121_111430.jpgابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
 
Top