بچوں کی دینی تربیت
ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
--------------------------------

اولاد والدین کے پاس اللہ کی طرف سے امانت ہے، والدین کی ذمہ داری ہے کہ اس امانت کی حفاظت کریں اور ان کے حقوق ادا کریں، قیامت کے دن ان سے اس ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا، فرمان نبوی ﷺ ہے:
أَلا كُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، فالإِمامُ الذي على النّاسِ راعٍ وهو مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، والرَّجُلُ راعٍ على أهْلِ بَيْتِهِ، وهو مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ، والمَرْأَةُ راعِيَةٌ على أهْلِ بَيْتِ زَوْجِها، ووَلَدِهِ وهي مَسْئُولَةٌ عنْهمْ، وعَبْدُ الرَّجُلِ راعٍ على مالِ سَيِّدِهِ وهو مَسْئُولٌ عنْه، ألا فَكُلُّكُمْ راعٍ وكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عن رَعِيَّتِهِ.
[صحيح البخاري: ٧١٣٨]
آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام (امیرالمؤمنین) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا، آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں باز پرس ہو گی۔
ویسے تو ماں باپ دونوں کی ذمہ داری ہے مگر باپ کے مقابلے میں ماں کی ذمہ داری زیادہ ہے، بچے عام طور پر ماؤں سے زیادہ قریب ہوتے ہیں اور زیادہ وقت بھی ماں کے پاس ہی گزارتے ہیں، اس لئے ہر عورت کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت کی فکر کرے اور اس جانب خصوصی توجہ دے،یاد رہے! پرورش و پرداخت اور تعلیم وتربیت کے معاملے میں اولاد کے درمیان تفریق نہ کریں بلکہ عدل سے کام لیں، کیونکہ یہ عظیم گناہ ہے، حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی تھا، اس کا بیٹا اس کے پاس آیا، اس نے اس کو بوسہ دیا اور اپنی ران پر بٹھایا، کچھ ہی دیر کے بعد اس کی بیٹی آئی، تو اس نے اس کو اپنے پہلو میں بٹھایا، نبی کریم ﷺ نے یہ دیکھ کر کہا:
فهلّا عَدَلْتَ بينَهُما
کیوں نہیں تم نے ان کے درمیان عدل سے کام لیا؟
[أخرجه البزار:٦٣٦١ ، والطحاوي في شرح معاني الآثار (٥٨٤٧) واللفظ له، السلسلة الصحيحة ٧‏/٢٦٣]
ایک دوسرے حدیث میں نبی ﷺ نے اولاد کے درمیان عدل و انصاف کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارے تمام بچے تمہارے ساتھ برابر حسن سلوک کریں تو تم بھی ان کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کرو، ارشاد نبوی ﷺ ہے: اعدِلوا بين أولادكم في النِّحَلِ، كما تُحبّون أن يعدِلوا بينكم في البِرِّ والُّلطفِ.
[صحيح ابن حبان: ٥١٠٤ ،صحيح الجامع: ١٠٤٦ ]
عطیات اور تحائف دینے میں اولاد کے درمیان عدل کرو، جیسے تم چاہتے ہو کہ حسن سلوک اور پیار ومحبت میں وہ تمہارے ساتھ عدل کریں۔
افسوس کی بات ہے کہ آج معاشرے میں بہت سارے مسلمان مرد وخواتین جاہلیت کی طرح لڑکیوں کی پیدائش کو باعث ننگ وعار سمجھتے ہیں، شادی بیاہ کے مسائل کو لے کر انہیں زحمت اور بوجھ سمجھتے ہیں اور ان کو ناپسند کرتے ہیں، حالانکہ یہ بیٹیاں والدین کے لئے رحمت وسعادت ہیں، سچی غم خوار اور خدمت گزار ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لا تَكْرَهوا البَناتِ؛ فإنَّهُنَّ المُؤْنِساتُ الغالِياتُ
[أخرجه أحمد (١٧٣٧٣)، وابن أبي الدنيا في «النفقة على العيال» (٩٨)، والطبراني (١٧/٣١٠) (٨٥٦)السلسلة الصحيحة: ٣٢٠٦ ]
لڑکیوں کو ناپسند نہ کرو کیونکہ وہ ( والدین) کی حقیقی غمخوار ہوتی ہیں اور قیمتی ہیں۔
دخول جنت کا ذریعہ ہیں، جہنم کی آگ سے آڑ اور پردہ ہیں۔بشرطیکہ ماں باپ ان کے حقوق ادا کریں، ان کے کھانے، پینے، رہنے سہنے، لباس وپوشاک اور تعلیم وتربیت کا معقول انتظام کریں، دنیوی حقوق کے ساتھ دینی تربیت کی فکر کریں، ان کے اخلاق وکردار کو سنواریں، بلوغت کے بعد دیندار وبا اخلاق لڑکے سے شادی کر دیں، یہ تمام ذمہ داریاں بحسن وخوبی انجام دینے والے والدین کو احادیث میں بشارتیں سنائی گئی ہیں، فرمان نبوی ﷺ ہے: مَنْ كان لهُ ثلاثُ بناتٍ أوْ ثلاثُ أَخَواتٍ، أوْ بنَتانِ، أوْ أُخْتانِ، فَأحسنَ صُحْبَتَهُنَّ واتَّقى اللهَ فيهِنَّ؛ فَلهُ الجنةُ
[صحيح ابن حبان ،صحيح الترغيب: ١٩٧٣،صحيح لغيره]
جس کے پاس تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو دوبیٹیاں یا دو بہنیں ہوں پس وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لئے جنت ہے۔
اسی طرح کا ایک واقعہ ہے:
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک فقیرنی میرے پاس آئی اپنی دونوں بیٹیوں کو لیے ہوئے، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں،اس نے ہر ایک بیٹی کو ایک ایک کھجور دی اور تیسری کھجور کھانے کے لیے منہ سے لگائی، اتنے میں اس کی بیٹیوں نے (وہ کھجور بھی مانگی کھانے کو) اس نے اس کھجور کے جس کو خود کھانا چاہتی تھی دو ٹکڑےکیے ان دونوں کے لیے، مجھے یہ حال دیکھ کر تعجب ہوا، میں نے جو اس نے کیا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ، أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ.
اللہ تعالیٰ نے اس سبب سے اس کے لیے جنت واجب کر دی یا اس کو جہنم سے آزاد کر دیا۔
[صحيح مسلم : كِتَابٌ : الْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَالْآدَابُ ، بَابٌ : فَضْلُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ : 2630]
دوسری حدیث میں ہے کہ صرف جنت نہیں بلکہ جنت میں نبی ﷺ کی رفاقت کی بھی خوش خبری دی گئی ہے،انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَهُ۔
[صحيح مسلم : كِتَابٌ : الْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَالْآدَابُ ، بَابٌ : فَضْلُ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ : 2631]
‏‏‏‏ جو شخص دو لڑکیوں کو پالے ان کے جوان ہونے تک قیامت کے دن، میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا (یعنی میرا اس کا ساتھ ہو گا قیامت کے دن)
اسی طرح لڑکیوں کی بہترین تعلیم وتربیت والدین کے لئے جہنم کی آگ سے آڑ اور پردہ بھی ہے، جیساکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ، وَأَطْعَمَهُنَّ وَسَقَاهُنَّ، وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ، كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۔
[سنن ابن ماجه : كِتَابُ الْأَدَبِ، بَابٌ : بِرُّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانُ إِلَى الْبَنَاتِ : 3669]
جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی استطاعت کے مطابق کھلائے، پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی۔
تربیت کے باب میں اسی وقت کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جبکہ والدین زبانی نصیحت کے ساتھ عملی نمونہ پیش کریں، گھر کا ماحول دینی بنائیں ماں باپ خود تربیت یافتہ ہوں ، ورنہ ہماری نصیحتوں کا بچوں پر کوئی اثر نہ ہو گا،خاص طور پر ماں نیک اور دین دار ہو، سچ ہے:

اصلاح قوم آپ کو منظور ہے اگر
بچوں سے پہلے ماؤں کو تعلیم دیجئے


کیونکہ ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے، اسی تربیت پر بچے کی شخصیت پروان چڑھتی ہے، اخلاق کی جو تربیت ماں کی گود میں ہوتی ہے اسی تربیت پر بچے کی سیرت کے بننے یا بگڑنے کا انحصار ہوتا ہے، سچ کہا عربی مصری شاعر حافظ ابراھیم نے :
الأم مدرسة إذا أعددتها
أعددت شعباً طيب الأعراق

ماں ایک درسگاہ ہے اگر تم نے اس درس گاہ کو سنوار دیا تو گویا ایک با اصول اور پاکیزہ نسب والی قوم کو تیار کر دیا۔

ماحول بڑی تیزی سے بگڑتا جا رہا ہے، نئی ٹکنالوجی کی سہولیات نے گناہوں کے ارتکاب کو آسان تر بنا دیا ہے، نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں اخلاقی بگاڑ کی کوئی حد نہیں ہے، ایسے حالات میں والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر مکمل توجہ دیں اور انہیں سچا مسلمان بنائیں، اس طرح سے گھر اور سماج میں خوش گوار ماحول قائم ہوگا، دنیا میں پرسکون وپرکیف زندگی نصیب ہوگی اور آخرت میں سب سے بڑی کامیابی جنت کی نعمتوں کی شکل میں حاصل ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے آمین
------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
21/جنوری 2022 ، بروز جمعہ
 
Top