ذیشان خان

Administrator
عرفاتی بھائی بنانے کا حکم

مقبول احمد سلفی
جیساکہ حجاج کرام سے معلوم ہوا ہے کہ خواتین دوران حج میدان عرفات میں کسی اجنبی مرد کو اپنا بھائی تسلیم کرلیتی ہیں ، اسےاپنا بھائی مانتی ہیں بلکہ حقیقی بھائی سے بھی زیادہ درجہ دیتی ہیں اور حج سے واپسی پہ بھی اس سے رابطہ رہتا ہے ۔
واضح رہے کہ یہ حج کی آفتوں میں سے ایک بڑی آفت ہے جو خاتون حجاج کے درمیان پھیلنے لگی ہے ۔ اس طرح خواتین کا عرفاتی بھائی بنانا اسلامی نقطہ نظر سے حرام ہے ، اس فعل حرام کے اندر کئی قسم کی شرعی قباحتیں اور حرمتیں ہیں ۔ مثلا
٭ کسی عورت کا اجنبی مرد سے بلاضرورت بات کرنا حرام ہے ۔
٭ عورت کا بے پردہ (چاہے صرف چہرہ ہی کیوں نہ کھلاہو)اجنبی مرد کے سامنے آنا حرام ہے ۔
٭ عورت کا کسی اجنبی مرد سے خلوت حرام ہے ۔
٭اجنبی مرد سے اختلاط حرام ہے۔
٭ عورت کا اجنبی مرد سے تعلق یعنی رابطہ قائم رکھنا حرام ہے ۔
٭ کسی اجنبی مرد کو اس طرح بھائی بنانا نصوص شرعیہ کی بنیاد پرحرام ہے ۔
٭ یہ تعلق فحش گوئی اور فحش کام تک لے جاسکتا ہے ۔
٭ اس کام سے حج جیسے پاکیزہ فریضے پہ بہت برا اثر پڑے گا۔
خواتین کا بھائی بنانے کے لئے مقصد چاہے کچھ بھی ہو ، کوئی سفر کا محرم نہیں تھا اس وجہ سے یا حج میں تعاون حاصل کرنے کی غرض سے وغیرہ وغیرہ ،،،،،یہ " انماالمومنون اخوۃ" کے دائرے میں نہیں آتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم ایمان کے اعتبار سے سارے مردوزن بھائی بھائی ہیں مگر اسلام نے مردوزن کے درمیان اقسام بنائے ہیں جن کے تحت چلنا ہے ۔ عرفاتی بھائی بنانے کا طریقہ غیر اسلامی ہے ، ہرحال میں اس کا سدباب ہونا چاہئے ، خصوصا خواتین کے سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے اقدام سے عورتوں کو باز رکھیں ، اور حج کے ساتھ ساتھ اپنے گھرانے کی حفاظت کریں ۔
 
Top