خطبہ مسنونہ کے بعد
اللہ کے بندو!
سب سے بہترین نصیحت اللہ کی ہے جو اس نے اپنی کتاب کریم کے اندر کی ہے
ارشاد باری تعالی ہے :
وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَاِيَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ ( سورة النساء۔ 131)
اور ہم نے وصیت کیا ہے پہلی کتاب والوں کو بھی اور تمہیں بھی کہ اللہ سے ڈرو۔
تو میں سب سے پہلے خود کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرتے رہنے،اور اس کی اطاعت و بندگی کی وصیت کرتا ہوں۔
اسلامی بھائیو!
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہی مکارم اخلاق کی تکمیل کے لئے ہوئی۔
جیسا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا:
إنما بعثت لأتمم مكارم الأخلاق" میں تو اعلٰی اخلاقی اقدار کو ہی مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔
فطری طور پر اللہ تعالی نے انسان کے اندر اخلاقی صفات پیوست کر دی ہیں، اسی کی تربیت اور یاد دہانی کے لئے اللہ نے کتابیں نازل کیں، رسولوں کو بھیجا، تاکہ لوگ اس سے انحراف کرکے بداخلاقی کا شکار نہ ہوں۔
فرمان الہی ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا۔

اور اگر یہ اس نصیحت پر عمل کرتے تو ان کے حق میں بہتر ہی ہوتا اور ان کو زیادہ ثبات حاصل ہوتا (النساء۔ 66)
اور اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :
هُوَ الَّـذِىْ بَعَثَ فِى الْاُمِّيِّيْنَ رَسُوْلًا مِّنْـهُـمْ يَتْلُوْا عَلَيْـهِـمْ اٰيَاتِهٖ وَيُزَكِّـيْـهِـمْ وَيُعَلِّمُهُـمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَۖ وَاِنْ كَانُـوْا مِنْ قَبْلُ لَفِىْ ضَلَالٍ مُّبِيْنٍ (2)
وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں ایک رسول انہیں میں سے مبعوث فرمایا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، اور بے شک وہ اس سے پہلے صریح گمراہی میں تھے۔
اس لئے تزکیہء نفس اور
اور شریعت کے مطابق اخلاقی تربیت بہت ضروری ہے۔
تاکہ انسان کے دل میں اللہ پر ایمان، اس کی تعظیم، اس کا خوف، اور شریعت کی پاسداری کا جذبہ پیدا ہو۔
اسی طرح سے اخلاقی شعور بھی بیدار ہو، یعنی سچائی، امانتداری، عدل و انصاف حیاء اور پاکدامنی، اچھے کاموں کی طرف رہنمائی اور برے کاموں سے روکنا، خیر اور بھلائی کے کاموں کو بجا لانا، مساکین و فقراء کی خبرگیری، یہ سب ایسی صفات ہیں جو انسان کو نیک بخت اور باسعادت بنادیتے ہیں ۔
اخلاقی صفات میں سے سب سے اہم اور خصوصی طور سے جس کا خیال رکھنا چاہئے وہ ہے صاف و شفاف عقیدہ، اور مسلمان اپنے دین اسلام کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ ہمیشہ اس کے ذہن میں رہے کہ ہمارا دین اسلام ہے، اور یہی سب سے سیدھا، درست اور مضبوط دین ہے، اور اسلام احسان، ایک دوسرے کی مدد، ایک دوسرے سے میل محبت سے پیش آنا، عہد اور وعدہ کی پاسداری، حسن ظن، عفو درگزر، مریض کی عیادت، اپنے بھائی کے خوشی و غم میں شرکت ۔
اور اپنی ذمہ داری کا احساس و شعور، اور نظام و قوانین کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
: لا تحاسدوا ولا تناجشوا ولا تباغضوا ولا تدابروا ولا يبيع بعضكم على بيع بعضکم علی بعض۔
( صحيح مسلم : 2564)
تم ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، نہ خرید وفروخت میں بولی بڑھا کر ایک دوسرے کو دھوکہ دو ، نہ باہم بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے پیٹھ پھیرو [ یعنی اعراض و بے رخی مت کرو ] اور نہ تمہارا یک دوسرے کے سودے پر سودا کرے۔
اسی طرح سے یتیموں کمزوروں عمر دراز لوگوں کے ساتھ حسن معاملہ اور ان پر احسان کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
السَّاعِي على الأَرْمَلَةِ والمِسْكِينِ، كالمُجَاهِدِ في سبيل الله». وأَحْسَبُهُ قال: «وكالقائم الذي لا يَفْتُرُ، وكالصائم الذي لا يُفْطِرُ

بیواؤں اور مسکینوں کے لئے کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے راوی کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس حدیث میں یہ بھی کہا تھا؛ ” صلوة میں کھڑے رہنے والے اس شخص کی طرح ہے، جو تھکتا ہی نہ ہو اور اس لگاتار روزہ رکھنے والے کی طرح ہے، جو افطار ہی نہ کرتا ہو۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے سب سے بلند ترین مقام پر فائز تھے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا :
وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ: اور بیشک تم یقینا عظیم اَخلاق پر ہو۔}
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں ہمیشہ یہ دعا کیا کرتے تھے ۔
اللهم اهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت ( مسلم)
اے اللہ میری حسن اخلاق کی طرف رہنمائی کر کیوں کہ تیرے علاوہ کوئی حسن اخلاق سے مزین کرنے والا نہیں
اور مجھے بداخلاقی سے بچا، اس لئے کہ تیرے علاوہ کوئی بد اخلاق سے پھیرنے والا نہیں۔
دیگر امتوں میں آپ دیکھیں گے اخلاق کی اتنی اہمیت نہیں لیکن اسلام نے اخلاق کو واجب قرار دیا ہے
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًا (مسند احمد: ۷۳۹۶)
مؤمنوں میں ایمان کے لحاظ سے کامل ترین وہ لوگ ہیں جن کااخلاق اچھا۔
اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاق کو بہتر بنائیں ۔
اپنے آپ کو اسلامی سانچے میں ڈھالیں اور مہذب بنائیں، اسی میں ہماری زندگی اور آخرت دونوں کی خوبصورتی ہے، اسی کے ذریعے سے اپنے اور بیگانے سب کے دل کو جیتا جا سکتا ہے،اسی کے ذریعہ سے ہم اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں، پیار و محبت کے ساتھ ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹ سکتے ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ تعالی ہمارے اخلاق کو بہتر بنائے، اور دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی عطا فرمائے ۔ آمین ۔
 
Top