اڈپی کرناٹکا میں مسلم طالبات پر حجاب کی پابندی ظلم اور تعصب بھرا فرمان ہے، کیوں کہ بھارت کا آئین مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ لباس کی بھی آزادی دیتا ہے، یہ فرمان مذہبی آزادی اور لباس کی آزادی دونوں کو چھیننے کے مترادف ہے۔
اور یہ سب کام فاشسٹ طاقتوں کے اشارے پر کیا جا رہا ہے، جو ملک میں انارکی، نفرت، اور ایک نظریہ سب کے اوپر تھوپنا چاہتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم طلاق پر قانون بنا کر مسلم بہنوں کی ہمدردی کا راگ الاپ رہے تھے، وزیراعظم صاحب! یہ بچیاں بھی مسلم بچیاں ہیں، اپنے حق کے لئے مہینوں سے احتجاج کر رہی ہیں،ان بچیوں نے سرکاری اسکول کا رخ اس لئے کیا تھا،کیونکہ ان کے پاس پرائیویٹ اسکولوں کی بھاری بھرکم فیس ادا کرنے کی طاقت نہیں تھی، دوسری بات کی وہ کئی سالوں سے اسی طرح تعلیم حاصل کر رہی تھیں، تیسری بات کہ حجاب ڈریس کوڈ کا مخالف نہیں ہے بس یہ ہیکہ ڈریس کے ساتھ حجاب سے اپنے تحفظ و پردے کو بر قرار رکھا جاتا ہے ۔
اس لئے ان کا احتجاج بجا ہے، اور لباس تعلیم سیکھنے کے لئے رکاوٹ نہیں بننا چاہئے،امریکی تہذیب میں بھی سعودی طالبات پورے حجاب کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں،تو ہمارے اپنے ملک میں اپنے ہی ملک کی طالبات کو جو اپنی عصمت و عفت کی حفاظت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں کیسے روکا جا سکتا ہے؟
بہرحال یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے، امید ہے کہ عدالت ان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے طالبات کو تعلیم مکمل کرنے کے اجازت دے گی۔
تاکہ بچیاں جلد احتجاج ختم کرکے یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کریں اور ملک و ملت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں ۔

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top