اے لوگو اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کی اطاعت کرو، اس کی نافرمانی سے بچو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے،علم والے ہی اللہ سبحانہ تعالی سے ڈرتے ہیں، جیسا کہ اللہ نے فرمایا:
اِنَّمَا يَخْشَى اللّـٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَآءُ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ غَفُوْرٌ (فاطر۔ 28)
بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے عالم ہی ڈرتے ہیں، بے شک اللہ غالب بخشنے والا ہے۔
اسلامی بھائیو! حسن خاتمہ قابل تعریف موت ہے، امن و امان کے ساتھ گردن کو اونچا کرتی ہے، روح کو تازگی بخشتی ہے اور دل جنت کا مشتاق ہوتا ہے ۔
حسن خاتمہ کی ضد( اس کا الٹا) سوء خاتمہ ہے، جو بڑی تنگ اور انتہائی گھبراہٹ والی موت ہے، جس سے تمام انبیائے کرام علیھم السلام ،صالحین، اور اللہ سے ڈرنے والے لوگ پناہ مانگتے ہیں ۔
حسن خاتمہ یعنی اچھی موت اور سوء خاتمہ یعنی بری موت کے تعلق سے دو واقعات جو آپ کو بہت تعجب خیز لگیں گے اور صحابہ کرام کے درمیان پیش آئے۔ سنیئے!

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، خیبر جو یہودیوں کا شہر تھا، جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا، ان نا پاک لوگوں سے اس سرزمین کو پاک کرنے کے لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔

تو سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خیبر روانہ ہوئے ۔ رات میں سفر طے ہو رہا تھا ۔ ایک آدمی نے عامر رضی اللہ عنہ سے کہا : اے عامر ! کیوں نہ ہمیں اپنے کچھ نوادرات سناؤ؟ ۔۔۔۔۔ عامر رضی اللہ عنہ شاعر تھے ۔۔۔۔ سواری سے اترے اورقوم کی حدی خوانی کرنے لگے ۔ اشعار یہ تھے :
اَللّٰھُمَّ لَو لَا اَنتَ مَا اھتَدَینَا
وَلَا تَصَدَّقنَا وَلَا صَلَّینَا
فَا غفِر فِدَاءً لَکَ مَا اتَّقَینَا
وَ ثَبِّتِ الْاَ قدَامَ اِنْ لاَّ قَینَا
وَ اَلقِیَن سَکِینَۃً عَلَینَا
اِنَّا اِذَا صِیحَ بنا اَبِینَا
وَبِا لصِّیَاحِ عَوَّلُوْا عَلَیْنَا

" اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ۔ نہ صدقہ کرتے نہ صلاة ادا کرتے ۔ ہم تجھ پر قربان ! تو ہمیں بخش دے ، جب تک ہم تقویٰ اختیار کریں اور اگر ہم ٹکرائیں تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکینت نازل فرما ۔ جب ہمیں للکارا جاتا ہے تو ہم اکڑ جاتے ہیں ۔ اور للکار میں ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے " ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون حدی خوان ہے ؟ لوگوں نے کہا : عامر بن اکوع ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ اس پر رحم کرے ۔ قوم کے ایک آدمی نے کہا ، اب تو ( ان کی شہادت ) واجب ہو گئی۔

مسلمانوں نے آخری رات جس کی صبح جنگ شروع ہوئی خیبر کے قریب گزاری لیکن یہود کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جب رات کے وقت کسی قوم کے پاس پہنچتے تو صبح ہوئے بغیر ان کے قریب نہ جاتے ۔ چنانچہ اس رات جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلس ( اندھیرے ) میں فجر کی نماز ادا فرمائی ۔ اس کے بعد مسلمان سوار ہو کر خیبر کی طرف بڑھے ۔ ادھر اہلِ خیبر بے خبری میں اپنے پھاوڑے اور کھانچی وغیرہ لے کر اپنی کھیتی باڑی کے لئے نکلے تو اچانک لشکر دیکھ کر چیختے ہوئے شہر کی طرف بھاگے کہ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم لشکر سمیت آگئے ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ منظر دیکھ کر ) فرمایا : " اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوا ۔ اللہ اکبر خیبر تباہ ہوا ۔ جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو ان ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔
پھر خیبر کی جنگ شروع ہوتی ہے اور قلعہ درقلعہ مسلمان فتح کرتے جاتے ہیں، یہانتک کہ خیبر فتح ہوجاتا ہے۔
یہاں آپ کے سامنے اسی جنگ کے دو واقعات کو ذکر کرنا ہے ۔
پہلا واقعہ
یہودی کا غلام
وہ بکریوں کا چرواہا تھا، حبشی نسل تھا، ایک یہودی کا غلام تھا۔ اور اس خطے کے سب لوگوں کی طرح اسکا بھی رنگ سیاہ تھا۔ اور سخت محنت مشقت کی وجہ سے اسکا پسینہ بے تحاشا بہتا تھا۔ وہ سارا دن یہودیوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اپنی زندگی میں مگن بکریاں چرانے کے علاوہ اسے دنیا کی کسی اور چیز سے غرض نہیں تھی۔

ایک دن بیٹھا ہواتھا یہودی جنگی تیاریوں کے بارے میں باتیں کرتے ہوے اسکے پاس سے گزرتے ہیں۔ اچانک اس کے دل میں احساس پیدا ہوتا ہے پتہ کروں کہ وہ کونسی طاقت ہےجو یہودیوں کے مقابلے پر آرہی ہے؟

وہ یہودیوں کے پاس گیااور ان سےپوچھا یہ جنگ کس کے ساتھ کرنے والے ہو؟
وہ بولےہماری جنگ اس شحض کے ساتھ ہوگی جو نبوت کا دعوی کرتا ہے۔

اسی دن اسے خواہش ہوئی کی وہ اس شحض کو دیکھے، اٹھا لوگوں سے پوچھتا ہوا رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے بتائیں کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیںِ؟

ﷲ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتایاۛۛ:
میری دعوت توحید کی دعوت ہے، ﷲ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراو اور مجھے ﷲ کا رسول مانواور یہ کہ میں ﷲ کی وحی سے اس کے احکام لوگوں کو پہنچاتا ہوں”۔

اس نے کہا اگر میں ایک ﷲ پر ایمان لے آؤں اور آپ کو نبی مان لو تو کیا ہوگا؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “جنت ملے گی”۔

وہ بہت حیران ہوا اور کہا:
اے ﷲ کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرا رنگ سیاہ ہے
میں خو بصورت بھی نہیں، اور میرے پاس کچھ بھی نہیں۔” اگر میں ﷲ کی راہ میں لڑتے ہوے شہید ہو جاؤں تو کیا مجھے جنت ملے گی؟”
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ہاں؛ ﷲ تجھے ضرور جنت دےگا۔

اس نے پوچھا مگر اب اس ریوڑ کو کیا کروں؟ بکریوں کا مالک قلعہ میں بند بیٹھا تھا. یہ مالک یہودی تھا اور خیبر میں صرف یہودی آباد تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بکریاں جہاں سے ہانک لائے ہو اسی سمت ان کا رخ پھیر دو وہ خود بخود اپنے باڑے میں پہنچ جائیں گی۔
اس نے اس پر اتنا اور اضافہ کیا کہ مٹھی میں کنکریاں لیں اور ریوڑ پر پھینکتے ہوئے کہا: ” اب میں تمہاری چوپانی نہیں کرسکتا اپنے مالک کے پاس جاؤ ”. دیکھتے ہی دیکھتے بکریاں قلعے کی دیوار کے نیچے پہنچ گئیں۔
جہاں ان کا باڑہ تھا۔
اسکے بعد وہ اٹھا اور یہودیوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوگیا اور لڑتے لڑتے اللہ کی راہ میں جان دے دی۔ جب سرور کائنات ﷺ کو اس کی شہادت کہ خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی لاش کودیکھ کرفرمایا؛
“ﷲ نےاس کے چہرے کو حسین بنا دیا ہے،اسکے بدن کو خوشبوؤں سے معطرکر دیا ہےاورجنت کی دوحوریں اسے عطا کردی ہیں”۔

یہ حسین چہرے والے اسود راعی رضی اللہ تعالی عنہ تھے۔
انھوں نے سوائےجہاد فی سبیل اللہ کےعلاوہ کوئی کام نہیں کیا ایک صلاة پڑھنے تک کی مہلت نہیں ملی، لیکن انھوں نے صدق دل سے نور ہدایت سے اپنےدل کو منورکیا اوراتنا بڑامرتبہ حاصل کیا۔
( سیرت ابن ہشام )
دوسرا واقعہ
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ہمراہ (احد یا خیبر کی لڑائی میں) مشرکین سے مڈ بھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں ان کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر پڑ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں کے کوئی بھی اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے (اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کو پیچھا کروں گا (دیکھوں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوزخی کیوں فرمایا ہے) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب وہ کھڑا ہوتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا، تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہوگیا اور زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لئے اس نے چاہا کہ موت جلدی آجائے اور اپنی تلوار کا پھل زمیں پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلے میں کر لیا اور تلوار پر گِر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوئی؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چنانچہ اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آجائے۔ اس لئے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا ور اس پر گِر کر خود جان دے دی۔

اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت جیسا کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔

ان دونوں واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے عمل کے تعلق سے دھوکے میں نہیں رہنا چاہئے۔
اور نیک نیتی کے ساتھ شریعت کے مطابق، مرتے دم تک اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کرنا چاہئے۔
اللہ سب کو اچھے اعمال کی توفیق بخشے، اور جنتی لوگوں میں سے بنائے۔ آمین

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top