اللہ کے بندو! دنیا میں ہر شخص امن و امان، سکون، اور تحفظ چاہتا ہے، اپنی زندگی میں لوگوں کی بہت کچھ تمنائیں ہوتی ہیں،اور سب کی تمنائیں مختلف ہوتی ہیں، جنہیں شمار بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔
فقیر چاہتا ہے کہ وہ مالدار ہو جائے، اور دوسرے مالداروں کی طرح وہ بھی نعمتوں سے لطف اندوز ہو، مریض چاہتا ہے اس کو جلد سے جلد شفایابی مل جائے، اور اپنی زندگی سے مستفید ہو، یعنی بیمار شخص بستر پہ پڑا ہوا ہے کھانے پینے کی لذت اس کو نہیں مل پا رہی ہے، تو وہ اس بیماری سے چھٹکارا پاکر ان ساری چیزوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے ۔
یتیم کی تمنا ہوتی ہے کہ اس کے بھی والد ہوتے تو اسے بھی وہ شفقت و محبت نصیب ہوتی جس سے دوسرے لوگ بہرور ہو رہے ہیں، غیر شادی شدہ خواتین کی تمنا ہوتی ہے کہ انہیں اچھا شوہر مل جائے جو ان کی قدر کرے، ان کی حفاظت کرے، ان کی ضروریات کا خیال رکھے، اور زندگی خوشگوار ہوجائے،غرضیکہ کی ہر شخص کی مختلف تمنائیں ہوتی ہیں، انہیں صفات کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں جمع کیا ہے ۔
واحدثكم حديثا فاحفظوه، قال: إنما الدنيا لاربعة نفر: عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل فيه رحمه ويعلم لله فيه حقا فهذا بافضل المنازل، وعبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية، يقول: لو ان لي مالا لعملت بعمل فلان فهو بنيته فاجرهما سواء، وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو يخبط في ماله بغير علم لا يتقي فيه ربه ولا يصل فيه رحمه ولا يعلم لله فيه حقا فهذا باخبث المنازل، وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما، فهو يقول: لو ان لي مالا لعملت فيه بعمل فلان فهو بنيته فوزرهما سواء (قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.)

ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں، اور میں تم لوگوں سے یہ باتیں بیان کر رہا ہوں جسے یاد رکھو!
پہلی بات:۔
کسی بندے کے مال میں صدقہ دینے سے کوئی کمی نہیں آتی
دوسری بات:۔
کسی بندے پر کسی قسم کا ظلم ہو اور اس پر وہ صبر کرے تو اللہ اس کی عزت کو بڑھا دیتا ہے۔
اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے لئے سوال (بھیک مانگنے کا) دروازہ کھولتا ہے، تو اللہ اس کے لیے فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے،
۔ (یا اسی کے ہم معنی آپ نے کوئی اور کلمہ کہا)
تیسری بات ہے۔
تم لوگوں سے ایک اور بات بیان کر رہا ہوں اسے بھی اچھی طرح یاد رکھو: ”یہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لئے ہے: ایک بندہ وہ ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال اور علم کی دولت دی، اور وہ اپنے رب سے اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں ڈرتا ہے، اور اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے، اور اس میں سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھتا ہے ایسے بندے کا درجہ سب درجوں سے بہتر ہے۔ اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے علم دیا، لیکن مال و دولت سے اسے محروم رکھا پھر بھی اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس شخص کی طرح عمل کرتا لہٰذا اسے اس کی سچی نیت کی وجہ سے پہلے شخص کے برابر اجر ملے گا، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا لیکن اسے علم سے محروم رکھا، وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا ہے، نہ ہی صلہ رحمی کرتا ہے، اور نہ ہی اس مال میں اللہ کے حق کا خیال رکھتا ہے، تو ایسے شخص کا درجہ سب درجوں سے بدتر ہے، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت اور علم دونوں سے محروم رکھا، وہ کہتا ہے کاش میرے پاس مال ہوتا تو فلاں کی طرح میں بھی عمل کرتا (یعنی: برے کاموں میں مال خرچ کرتا) تو اس کی نیت کا وبال اسے ملے گا اور دونوں کا عذاب اور بار گناہ برابر ہو گا“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔(34488)

یہی دنیا میں لوگوں کی قسمیں ہیں ایک قسم ہے جو مرتبے کے لحاظ سے افضل ہے۔
دوسری قسم وہ ہے جو مرتبے کے لحاظ سے بڑی گندی اور خبیث ہے۔

آپ دیکھیں ایک شخص مال میں اللہ رب العالمین کے حکم کی رعایت کی وجہ سے افضل ہے،
تو دوسرا شخص مال کے بغیر اپنے علم کی وجہ سے اچھی نیت رکھتے ہوئے ایک اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے مالدار کے برابر اجر کا مستحق ہے۔
تیسرا شخص مال ہی کی وجہ سے اللہ رب العالمین کی نافرمانی میں ملوث ہے، تو چوتھا شخص اپنی جہالت کے سبب بری نیت کی وجہ سے گنہگار مالدار کے برابر گناہ میں شریک ہے ۔
اسی لئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لا حسد إلا في اثنتين رجل آتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق ورجل آتاه الله -[71]- الحكمة فهو يقضي بها ويعلمها)

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
دو قسم کے لوگوں پر رشک کرنا جائز ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا، اور پھر اس کو راہ حق میں اسے خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی،
اور ایک وہ آدمی جسے اللہ نے علم و حکمت عطا کی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اسے (دوسروں کو) سکھاتا ہے۔ “( بخاری و مسلم(60109 - 202)

ایسے ہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عن الصدقات أيُّها أفضل؟ قال: ((على ذي الرحم الكاشِح)
سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو اپنے اس رشتہ دار کو دیا جائے جس سے اس کے دل میں دشمنی ہو ۔

کیوں کہ اگر آپ ایسے رشتہ دار کو اگر صدقہ دینے جائیں گے ،تو ظاہر سی بات ہے سلام کریں گے، اس کی خیریت پوچھیں گے، جس سے رشتہ میں جو کھٹاس تھی وہ ختم ہو جائے گی، گویا آپ کو دو اجر ملے گیا، ایک رشتہ کو جوڑنے کا، دوسرا صدقہ کا۔
معلوم ہوا کہ وہ مالدار جو اپنے مال کو صحیح جگہ اور اللہ کے راستے میں خرچ کرے،تو اس کی فضیلت ہے ۔
اسی طرح سے علم کا خزانہ رکھنے والے عالم کی فضیلت اس سے زیادہ ہے، کیوں تاریخ شاہد ہے کہ عالم کا نام دنیا و آخرت دونوں میں باقی رہتا ہے ۔
آج دیکھیں گے دنیا میں کتنے علم والے گزرے ہیں جن کا نام ہر پل ہماری زبان پر ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں۔

معلوم ہوا کہ ہمارے پاس مال اور علم ہے تو چاہئے کہ ہم اس کا صحیح استعمال کریں، تکبر اور ریاکاری سے بچتے ہوئے، اخلاص نیت کے ساتھ، اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے، اس کو عمل میں لائیں ۔
اللہ تعالی ہمیں مال اور علم کے صحیح استعمال کی توفیق بخشے، آمین
صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top