ذیشان خان

Administrator
وفات یافتہ والد کی طرف سے عمرہ کرنا

بعض علماء حج پر عمرہ کو قیاس کرکے میت کی طرف سے عمرہ کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں ۔
دلیل ، ترمذی کی مندرجہ ذیل روایت ہے ۔
«عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ اَبِيْهِ قَالَ : جَائَ تْ اِمْرَأَةٌ إِلَی النَّبِیِّﷺ فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّیْ مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ : نَعَمْ حُجِّیْ عَنْهَا»
(صحيح الترمذى للالبانى739/ترمذى-ابواب الحج-باب ما جاء فى الحج عن الشيخ الكبير والميت)
’’ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئی اور پوچھا کہ میری والدہ فوت ہو گئی اور اس نے حج نہ کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کر‘‘
عمرہ کرنے کا طریقہ وہی ہے جس طرح عام آدمی اپنی طرف سے عمرہ کرتا ہے ، البتہ شروع میں نیت کرتے وقت میت کا نام لے لیا جائے گا، اگر نام بھی نہ لے صرف دل میں ارادہ کرلے اور عمرہ کی نیت کرتے وقت صرف لبیک عمرۃ کہے تو بھی درست ہے ۔

واللہ اعلم
 
Top