صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

اللہ کے بندو!
جان لو یہ دنیا فانی ہے، جس طرح سے ایک سایہ تھوڑی دیر میں زائل ہو جاتا ہے، اسی طرح سے یہ ایام بھی آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں،جو دن گزر گئے وہ پھر واپس آنے والے نہیں، کامیاب وہی لوگ ہونگے جو اللہ کی طاعت بندگی کرکے اس کی خوشنودی حاصل کرلیتے ہیں۔
اس وقت ہم ماہ شعبان میں داخل ہوچکے ہیں، زندہ دل لوگ، رمضان المبارک جو تمام مہینوں کا سردار اور فضیلت والا مہینہ ہے اس کے انتظار میں ہیں
عرب لوگ اس مہینہ کو شعبان اس وجہ سے کہتے تھے کیونکہ یہ ماہ رجب کے بعد آتا ہے، اور رجب یہ حرمت میں والے مہینوں میں سے ایک ہے، لہذا وہ رجب کے مہینے کا احترام کرتے ہوئے لڑائی جگھڑے سے رکے رہتے تھے، اور شعبان آتے ہی اپنے اپنے مقاصد کے لئے ادھر ادھر آنے جانے لگتے تھے، منتشر ہو جاتے تھے، اور قبائلی لڑائیوں کے لئے، تگ و دو کرنے لگتے تھے، اسی وجہ سے اس مہینے کا نام شعبان رکھا گیا، جس کے معنی ہیں منتشر ہوجانا ادھر ادھر بکھر جانا

پھر جب اللہ نے اپنی رحمت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، تو آپ نے اسے عبادت میں، طاعت و بندگی اور خیر کے کاموں میں بدل دیا اور لوگوں کے نظریے تبدیل ہوگئے ۔
ماہ شعبان سے متعلق کچھ چیزیں ہیں جنہیں ہمیں جاننا ضروری ہے ۔

1- بندوں کے اعمال اس مہینے میں اللہ کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذٰلِکَ شَهْرٌ، یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ، بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ، وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِیْهِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ یُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ.

’’یہ وہ (مقدس) مہینہ ہے جس سے لوگ غافل اور سست ہیں۔ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان یہ وہ مہینہ ہے جس میں (بندوں کے) اَعمال رب العالمین کے حضور لے جائے جاتے ہیں۔ لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اُٹھائے جائیں کہ میں صوم سے ہوں۔‘‘

(نسائی، السنن، کتاب الصیام، باب صوم النبي داؤد، 4/201، رقم: 2357)

2- اس مہینے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے صوم رکھتے تھے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

کَانَ أَحَبُّ الشُّهُورِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم أَنْ یَصُوْمَهٗ شَعْبَانَ، ثُمَّ یَصِلُهٗ بِرَمَضَانَ.

’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے صوم رکھنا زیادہ محبوب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان (کے روزوں) کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیا کرتے تھے۔‘‘

(أحمد بن حنبل، المسند، 6/188، رقم: 25589)

اور مسلم شریف کی روایت میں ہے کہ "کان یصوم شعبان الا قلیلا"
یعنی شعبان کے اکثر روزے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکھا کرتے تھے، یا کبھی رکھتے، کبھی نہیں رکھتے۔

3- صومِ شعبان غفلت دور کرنے کا سبب ہے۔ اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ شعبان کا صوم رکھنا مستحب ہے، جیسا کہ مغرب اور عشاء کے درمیان نفل کے اہتمام کو سلف مستحب سمجھتے تھے، اور اس کی بھی وجہ لوگوں سے غفلت کو دور کرنا ہے، اسی طرح سے بازار میں اللہ کا ذکر، اور قیام اللیل کا اہتمام کرنا یہ سب اسی سبب ہے کیونکہ یہ ایسے اوقات ہیں جس میں انسان راحت و آرام اور نیند کی وجہ سے اکثر اللہ سے غافل ہو جاتا ہے۔

4-ماہ شعبان کے آخری دو دنوں میں صوم رکھنا جائز نہیں۔
سوائے اس شخص کے جو برابر سوموار اور جمعرات کا ہر ہفتے روزہ رکھتا ہو اور اس میں سے کوئی دن آجائے، یا چھوٹے ہوئے رمضان کے صوم کی قضاء کرنا ہو تو اسے رکھیں گے۔
آخر میں آپ نے فرمایا اے لوگو اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ: یَطْلَعُ ﷲُ إِلَی خَلْقِهِ فِي لَیْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَیَغْفِرُ لِجَمِیْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِکٍ أوْ مُشَاحِنٍ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه عَنْ أَبِي مُوْسَی الأَشْعَرِيِّ، وَابْنُ حِبَّانَ وَاللَّفْظُ لَهُ.

أخرجه ابن ماجہ في السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فیها، باب ما جاء في لیلة النصف من شعبان، 1/445، الرقم: 1390، وابن حبان في الصحیح، 12/481، الرقم: 5665، والطبراني في المعجم الأوسط، 7/36، الرقم: 6776، وأیضاً في المعجم الکبیر، 20/108، الرقم: 215، والبیهقي في شعب الإیمان، 5/272، الرقم: 6628، وأبو نعیم في حلیة الأولیاء،

5/191وابن عساکر في تاریخ مدینة دمشق، 38/235، والهیثمي في موارد الظمآن، 1/486، الرقم: 1980.

’’ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نصف شعبان کی رات اپنی مخلوق پر نظرِ رحمت فرماتا ہے اور مشرک اور کینہ پرور کے سوا ہر کسی کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ شرک اور کینہ کپٹ یہ بڑے گناہوں میں سے ہے اس سے بچنا چاہیے، ایسا شخص اللہ کی مغفرت سے دور ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ پندرہ شعبان کی تاریخ کو خصوصی طور سے جاگنا، اور اس رات میں شب قدر کی طرح دعا یا تلاوت کا خاص اہتمام کرنا، یا حلوہ وغیرہ تیار کرنا اور جشن منانا یہ سب بدعت ہے اور حرام ہے، کیونکہ ایسا کرنا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یا صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے، اگر اس دن عبادت یا کسی بھی عمل کا ثواب ہوتا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ضرور کرتے۔
اللہ تعالی ہمیں سنتوں کی پابندی کرنے والا بنائے اور بدعتوں سے محفوظ رکھے۔ آمین
 
Top