اللہ کے بندو! اللہ کا تقوی اختیار کرو، ہر وقت اور ہر جگہ اس سے ڈرتے رہو ، اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے ہمارے اوپر بہت سارے احسانات کئے، جسے ہم شمار نہیں کر سکتے ۔
اسلامی بھائیو ! اللہ تعالی فرماتا ہے ؛
اِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّـٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلَاةَ وَاٰتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ اِلَّا اللّـٰهَ ۖ فَعَسٰٓى اُولٰٓئِكَ اَنْ يَّكُـوْنُـوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ (18)
اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لایا اور صلاة قائم کی، اور زکوٰۃ دی اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرا، سو وہ لوگ امیدوار ہیں کہ ہدایت والوں میں سے ہوں۔
معلوم ہوا کی مسجدوں کو آباد کرنے والے،اللہ کے دوست، اللہ سے محبت کرنے والے، اور مخلوق کے سب سے بہترین لوگ ہیں، مسجد اس سرزمین کی سب سے پاکیزہ و مطہر جگہیں ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"
عن أبي هريرة -رضي الله عنه- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «أحَبُّ البلاد إلى الله مَساجِدُها، وأبغض البلاد إلى الله أسْوَاقُها» ( رواہ مسلم)

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبے زیادہ پسندیدہ مقامات، مساجد ہیں اور سب سے زیادہ ناپسندیدہ مقامات، بازار ہیں۔"
مساجد میں دلوں کا سکون حاصل ہوتا ہے، رحمتوں کا نزول ہوتا ہے، فرشتوں کا نزول ہوتا ہے،
اور بندہ خشوعِ الی اللہ سے لبریز ہوتا ہے ۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کے نزدیک صلاۃ کا ایک بہت بلند مقام ہے، اسلام کا دوسرا رکن ہے، شہادتین کے بعد سب سے پہلے صلاة ہے۔
اس کے قیام کے تعلق سے اللہ رب العالمین نے قرآن کریم کے اندر بہت ساری جگہوں پر مومنین کو ابھارا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَۙ ۞
(اسی دین پر قائم رہو) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اور نماز قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاو۔ (الروم :٣١)
اور اللہ نے فرمایا:
قُلْ لِّـعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ يَّاۡتِىَ يَوۡمٌ لَّا بَيۡعٌ فِيۡهِ وَلَا خِلٰلٌ‏ (ابراہیم ٣١)

آپ ہمارے ایمان والے بندوں سے کہیے کہ وہ صلاة قائم کریں، اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہری طور سے خرچ کرتے رہیں، اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی نہ دوستی۔
اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ کو مساجد میں باجماعت ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔

عن عثمان بن عفان ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " من توضا للصلاة، فاسبغ الوضوء، ثم مشى إلى الصلاة المكتوبة، فصلاها مع الناس، او مع الجماعة، او في المسجد، غفر الله له ذنوبه ".
‏‏‏‏ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص صلاة کے لئے پورا وضو کرے، پھر فرض صلاةکے لئے (مسجد کو) چلے اور لوگوں کے ساتھ باجماعت مسجد میں صلاة ادا کرے تو اللہ اس کے گناہ بخش دے گا۔“
(9520 رواہ مسلم )

اسی طرح اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوں کو درست رکھنے، اور اس کے اندر خلل نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عربی شاعر دوران کورونا حالات کی عکاسی کرتے ہوئے کہتا ہے۔
وتباعَدت أجسادُنَـا في فرضِـنا وغداً يقولُ إمامُـنا : سُـدّوا الخَللْ وغداً نرصُّ صفوفـنا كملائكٍ۔
آج ہم جسمانی طور سے فرض صلاة میں دور دور کھڑے ہیں، جبکہ کل ہمارے امام کہتے تھے!
کہ صفوں کے درمیان خلل کو بند کرو اور اس طرح سے مل کے کھڑے ہو جیسے فرشتے رب کے پاس صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں ۔
مسلمانو! یہ اللہ کا بہت بڑا کرم اور احسان ہے کہ آج وہ مصیبت کے دن ختم ہو گئے، وہ کالے بادل چھٹ گئے، جس کی وجہ سے سرکاری طور پر کچھ پابندیوں کا اعلان ہوا تھا، تاکہ ہم اس کورونا بیماری پر قابو پا سکیں۔
الحمدللہ آج قابو پا لیا گیا اور مساجد میں ڈسٹنسنگ کی پابندیاں اٹھا لی گئیں۔
خادم الحرمین الشریفین نے مسلسل جدوجہد کرکے اس بیماری سے لڑتے ہوئے اللہ کی توفیق سے کامیاب اور مناسب قدم اٹھائے، اس پر ہم شکر ادا کرتے ہیں، اللہ انہیں جزائے خیر سے نوازے ۔

اللہ کے بندو! بیماری کے ختم ہوتے ہی اب ہم فطری حالت کی طرف لوٹ چکے ہیں۔
لہذا ہمیں صف بندی کے تعلق سے کچھ شرعی احکام کی جانکاری ضروری ہے ۔

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “صفوں کو قائم کرو، مونڈھوں کو برابر کرو، اور خالی جگہوں (جو صفوں کے درمیان رہ جائیں) ان کو بند کرو، اپنے بھائیوں (نمازیوں) کے لئے نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لئے صفوں میں جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف ملائے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو (اپنی رحمت سے) ملائے گا ۔ اور جو شخص صف کو کاٹے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو (اپنی رحمت سے) کاٹ دے گا۔ ” (ابوداود : ۶۶۶ و سندہ حسن، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۹) حاکم (۲۱۳/۱) اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا لوگوں صفوں میں مل کر کھڑے ہو جاؤ، ایک دوسرے سے قریب رہو، اپنے مونڈھو کو برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہیں پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔ دو آدمی اپنے درمیان خلل نہ چھوڑیں کیوں کہ میں دیکھتا ہوں شیطان سیاہ بکری کے بچے کی شکل اختیار کرکے صف میں داخل ہوجاتا ہے ۔
اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ابھی سن چکے ہیں
کہ جو صفوں کو ملاتا ہے اللہ ان کے دلوں کو ملا دیتا ہے اور جو صفوں کو کاٹتا ہے۔ اللہ ان کے دلوں میں اختلاف ڈال دیتا ہے ۔
اسلامی بھائیو! اب جب اللہ نے ہم سے اس بیماری کو دور کر دیا ہے اور پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے شریعت کی طرف لوٹ جائیں۔
اب پہلے کی طرح صفوں میں کندھے سے کندھا اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہوں، اللہ سے توبہ و استغفار کریں ۔
اللہ ہمیں شریعت کی پابندی کرنے کی توفیق بخشے، اور ہر طرح کی بلا اور مصیبت سے محفوظ رکھے ۔ آمین

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی۔
 
Top