مومن کیلئے اللہ نے دو نعمتیں ایسی عطا کی ہیں جو کسی کو حاصل نہیں (١) شکر (٢)صبر

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
’’ مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے اور اس کا ہر معاملہ یقینا اس کیلئے خیر کا باعث ہوتا ہے اور یہ خوبی سوائے مومن کے اور کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔اگر اسے کوئی خوشی پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے تو وہ اس کیلئے خیر کا باعث بن جاتی ہے اور اگر اسے کوئی غمی پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے اور یوں وہ بھی اس کیلئے باعث ِخیر ہے ۔
[مسلم : ۲۹۹۹]

اور فرمان الہی ہے : کہہ دو اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو، ان کے لئے جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے اچھا بدلہ ہے، اور اللہ کی زمین کشادہ ہے، بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔ (زمر10)
اس وقت کورونا وائرس سے پوری دنیا بے چین ہے، جسے دیکھئے، جہاں دیکھئے منہ چھپائے پھر رہا ہے، اپنے قریبی سے بھی ہاتھ ملانے سے کترا رہا ہے، اپنے گھر میں ماسک لگائے پھر رہا ہے، کیا عبادت گاہیں ، کیا تفریح گاہیں، کیا شادی کی محفلیں، کیا تعزیت گاہیں، ہر جگہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے کترا رہے ہیں، لیکن مومن کو ہمارے نبی نے یہ مژدہ سنایا ہے ۔
اُمُّ الْمُؤمِنِیْن عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے طاعون کے بارے میں دریافت کیا تو رسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: طاعون ایک عذاب تھا کہ اللہ عَزَّوَجَل جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا ہے۔ پھر اللہ عَزَّوَجَل نے مؤمنین کے لئے اسے رحمت بنادیا ۔تو جو شخص طاعون پھیلنے کے زمانے میں اپنے شہر میں صبرکے ساتھ ثواب کے لئے اس اعتقاد کے ساتھ ٹھہرا رہے کہ اسے وہی پہنچے گا جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے تو اس کے لئے شہید کی مثل ثواب ہے۔ ( بخاری 5734
معلوم ہوا کہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ مسلمان اگر اپنے اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت پر جما رہے تو اس لئے ہر حال بہتری ہی بہتری ہے ۔

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top