صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
اللہ کے بندو!
اللہ کا تقوی اختیار کرو، کیونکہ اللہ نے متقیوں کے لئے، اپنے ڈرنے والوں کے لئے جنت اور نعمتوں کا وعدہ کر رکھا ہے
ارشاد باری تعالی ہے :
اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِىْ جَنَّاتٍ و نعیم (الطور۔17)
بے شک پرہیزگار باغوں اور بیش بہا نعمتوں میں رہیں گے۔
اسلامی بھائیو! شریعت اسلامیہ نے ہمارے لئے کچھ چیزوں کو جائز اور حلال بتلایا ہے، تو بہت ساری چیزیں ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کا حکم دیا ہے، انہیں میں سے سب سے عظیم گناہ شرک ہے جس کے بعد اللہ کے یہاں کوئی معافی نہیں اگر وہ بغیر توبہ کے مر جاتا ہے۔
اس کے بعد جو بڑا گناہ ہے وہ کسی مومن کے قتل کا مجرم ہے ۔
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا ﴿سورۃ النساء ٩٣﴾
اور جو بھی کسی مومن کو قصدا قتل کردے گا اس کا بدلہ جہّنم ہے- اسی میں ہمیشہ رہنا ہے اور اس پر اللہ کا غضب بھی ہے اور اس پر اللہ لعنت بھی ہے اور اس نے اس کے لئے عذابِ عظیم بھی مہیاّ کررکھا ہے (93)

اكبر الكبائر، الإشراك بالله، و قتل النفس وعقوق الوالدين، وشهادة الزور، او قول الزور "

‏‏‏‏ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گنا ہے“ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی بے گناہ کا قتل اور جھوٹی گواہی دینا۔
معلوم ہوا کسی بے گناہ کا قتل یہ بہت بڑا ظلم اور بڑا فساد ہے، انسانیت پر رعب اور خوف پیدا کرنا ہے، ایسے شخص کے لئے اللہ کے یہاں دردناک عذاب ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لو أنَّ أهلَ السَّماءِ وأهلَ الأرضِ اشتركوا في دمٍ لأكبَّهم اللهُ في النَّارِ ( رواہ الترمذی)
زمین و آسمان کے سارے لوگ اگر کسی کے قتل میں شریک ہوں تو بھی اللہ تعالی سب کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دے گا۔

یہاں تک کہ کوئی اپنی جان کو بھی خود سے ہلاک نہیں کر سکتا،اپنے آپ کو قتل نہیں کر سکتا، چاہے وہ کسی طرح سے ہو، کہیں سے کود کر، کسی ہتھیار سے اپنے آپ کو قتل کر لے، اپنے آپ کو بم سے اڑا لے، کسی بھی طرح سے یہ جائز نہیں ہے،بلکہ ایسا شخص جہنمی ہے،جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

وَلَا تَقْتُلُوٓا اَنْفُسَكُمْ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا (29)
اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔
وْفَ نُصْلِيْهِ نَارًا ۚ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ يَسِيْـرًا (30)
اور جو شخص تعدّی اور ظلم سے یہ کام کرے گا، تو ہم اسے آگ میں ڈالیں گے، اور یہ اللہ پر آسان ہے۔

اور ایک حدیث کے اندر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں سخت وعید فرمائی ہے ۔
عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" من تردى من جبل فقتل نفسه فهو في نار جهنم يتردى خالدا مخلدا فيها ابدا، ومن تحسى سما فقتل نفسه فسمه في يده يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا، ومن قتل نفسه بحديدة ثم انقطع علي شيء خالد , يقول: كانت حديدته في يده يجا بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها ابدا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا، اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے، تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا۔

(صحیح البخاری و مسلم 5778)

اسی طرح سے کسی بھی معصوم کی جان لینے کے تعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواہ وہ مسلمان ہو، ذمی ہو یعنی اسلامی سلطنت میں پناہ گزیں کافر ہو معاہد ہو، یا مستامن یعنی اس کو امان دے دی گئی ہو، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کو حرام قرار دیا ہے
ایسے ہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
جس نے کسی ذمی یعنی اسلامی سلطنت میں پناہ گزیں کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکتا، حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کے فاصلے سے بھی سونگھی جا سکتی ہے ۔
تو آپ بتائیں کسی ملک میں کسی پناہ گزیں کو کیسے قتل کیا جا سکتا ہے اتنی سخت وعید کے بعد اور کسی پر ظلم و عدوان کیسے جائز ہو سکتا ہے؟
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ ہمارا ملک سعودی عربیہ جس کی بنیاد اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ کتاب وسنت پر ہے، اور سارے دنیا میں سب سے بہتر طور پر اس پر عمل پیرا ہے، مملکت سعودی عربیہ ،یہ سرزمین حرمین ہے، اسی پر وحی کا نزول شروع ہوا، یہ ساری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے ۔
لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم پوری مضبوطی کے ساتھ کتاب و سنت پر ثابت قدم رہے، اور شریعت نے جس کے جو حقوق بتلائے ہیں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پیچھے نہ ہٹیں۔ لوگوں کو کتاب و سنت کی طرف دعوت دیں، توحید کی طرف بلائیں، شقاوت و بدبختی سے بچیں، فرقوں میں نے بٹیں، اتحاد و یکجہتی کو قائم رکھیں ۔
یہی اللہ رب العالمین کا حکم ہے ۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا :
وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّـٰهِ جَـمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ۚ وَاذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ اِذْ كُنْتُـمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُـمْ بِنِعْمَتِهٓ ٖ اِخْوَانًاۚ وَكُنْتُـمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْـهَا ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمْ اٰيَاتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (103)
اور سب مل کر اللہ کی رسی مضبوط پکڑو اور پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب کہ تم آپس میں دشمن تھے پھر تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی پھر تم اس کے فضل سے بھائی بھائی ہو گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پھر تم کو اس سے نجات دی، اس طرح تم پر اللہ اپنی نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ۔
 
Top