1- پندرہ شعبان کی رات میں خصوصیت سے عبادت جائز نہیں ہے، اور خاص دعا جو معروف ہے لوگوں میں اللہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ دعا بھی ثابت نہیں ہے۔
2- یہ کہنا کہ پندرہ شعبان وہ مبارک رات ہے جس میں بڑے بڑے فیصلے کئے جاتے ہیں یہ قرآن کریم کے خلاف ہے، اور باطل ہے، کیونکہ وہ مبارک رات لیلۃ القدر ہے جو رمضان المبارک کے مہینے میں آتی ہے۔
3- مشہور دعا نہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے نہ صحابہ سے ثابت ہے بلکہ بعد کے لوگوں کی یہ ترتیب دی گئی دعا ہے ۔

4- ایسے ہی اس رات میں خاص عبادت کرنا بھی باطل اور من گھڑت ہے جیسا کہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا ۔
5 اسی طرح اس دن روزہ رکھنا یا اس رات میں مسجد میں جمع ہو کر کے جاگنا یہ سب سنت کے خلاف ہے،بدعت ہے اور باطل ہے۔
6- شعبان کے تعلق سے جو سب سے صحیح حدیث سے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالی پندرہ شعبان کو مطلع ہوتا ہے اور مشرک اور حاسد کے علاوہ سب کو بخش دیتا ہے ، اس حدیث کو بھی بعض محدثین نے ضعیف کہا ہے اور بعض نے حسن کا ہے، پھر بھی اس حدیث سے کوئی خاص عبادت کا ثبوت نہیں ملتا ہے ۔

7 بعض ملکوں میں عید کے طور پر منایا جاتا ہے جلسے جلوس کئے جاتے ہیں، یہ سب بدعات و خرافات ہے اور ان سے بچنا لازمی ہے ۔

اللہ تعالی ہم سب کو قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق بخشے، اور شرک و بدعت سے محفوظ رکھے ۔ آمین

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top