ذیشان خان

Administrator
میت کی طرف سے عمرہ کرنا


فقہائے کرام نے فی الجملہ دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنےکو جائز قرار دیا ہے، اس لیے کہ عمرہ حج کی طرح بدنی عبادت ہونے کے ساتھ مالی عبادت بھی ہے اورشریعت میں مالی عبادت کی دوسرے کی جانب سے انجام دہی کو جائز قرار دیاگیا ہے۔ البتہ اس کی تفصیلات میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔
حنفیہ کہتے ہیں کہ کسی دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کرنا اس وقت صحیح ہوگا جب وہ ایسا کرنے کو کہے۔ مالکیہ کے نزدیک دوسرے کی طرف سے عمرہ مکروہ ہے، لیکن اگر کرلیاجائے تو ادا ہوجائے گا۔ شوافع کہتےہیں کہ دوسرے کی طرف سےعمرہ کرنا اس وقت صحیح ہے جب اُس شخص پر عمرہ واجب رہا ہو اور اس کی ادائی سے قبل اس کا انتقال ہوگیا ہو، یا نفلی عمرہ وہ خود نہ کرسکتا ہو۔ حنابلہ کہتے ہیں کہ کسی میت کی طرف سے عمرہ کیا جاسکتا ہے، البتہ کسی زندہ شخص کی طرف سے عمرہ اس وقت صحیح ہوگا جب اس نے ایسا کرنے کو کہا ہو۔( تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے الموسوعۃ الفقہیۃ، کویت، ۳۲۸/۳۰۔۲۳۹)
ڈاکٹر محمدرضی الاسلام ندوی
 
Top