رب کا شکر بجا لاو غفلت کی چادر اتار کر پھینک دو

فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ
تو ان پر لازم ہے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔
الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَآمَنَهُمْ مِنْ خَوْفٍ
وہ جس نے انھیں بھوک سے ( بچا کر) کھانا دیا اور خوف سے بچا کر امن دیا۔(سورة القریش3-4)
اللہ رب العالمین نے رمضان المبارک کا سنہرا موسم ہمیں پھر عطا کر دیا، رمضان کی بہاریں اللہ نے پھر ہمیں نصیب کر دیا، پھر مسجدوں میں وہی رونقیں اور سنت کے مطابق صف بندی میں اپنے مومن بھائیوں سے مل کر کے کھڑے ہونے کا موقع عطا کر دیا۔
اسلامی بھائیوں یاد کرو دو سال پہلے کے وہ ایام جب ہم باہر نکلتے ہوئے خوف کھاتے تھے، امن کی نعمت سے ہم محروم تھے، وباوں اور بلاوں نے ہمیں گھیر رکھا تھا، ہم اپنے والدین بھائیوں رشتہ داروں اور ساتھیوں سے ہاتھ ملانے سے بھی کتراتے تھے، اپنے بیمار بھائیوں کی عیادت کے لئے تڑپتے تھے، مگر انہیں دیکھنا بھی ہمارے لئے دشوار ہو گیا تھا، اپنوں کے جنازوں میں شرکت کے لئے روتے تھے بلکتے تھے، مگر شریک ہونے سے ہمیں روک دیا گیا تھا۔
میرے بھائیو اللہ نے ہمیں آج امن دے دیا، وباوں اور بلاؤں کو ہم سے ٹال دیا، پھر آج ہم سنت کے مطابق صف بستہ قدم سے قدم ملا کر رب کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، اپنے بھائیوں کی عیادت کرتے ہیں، ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں، ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں، حج اور عمرے کی سعادت سے بلا خوف سرفراز ہو رہے ہیں ۔
یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے بہت بڑا احسان ہے، حمد و ثنا کے جتنی کلمات ادا کیے جائے کم ہے، بلکہ ہم تو یوں بھی اللہ کی حمد و ثنا کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
میرے بھائیو اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کا یہ عظیم مہینہ عطا کر دیا، نیکیوں کو کمانے کا موقع عنایت فرما دیا، کتنے اس دنیا سے تمنا لئے چلے گئے، مگر یہ رمضان المبارک نہیں پا سکے، آج ہمیں یہ موسم نصیب ہوا ہے نیکیوں اجر وثواب، توبہ و استغفار کے اس عظیم مہینے کو ضائع اور برباد مت کرو اس کے حقوق کی ادائیگی کرو، اور عہد کرو، گناہوں سے توبہ استغفار کرو کہ اب آج سے، اور رمضان المبارک کے بعد بھی پورے سال اللہ کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت و بندگی میں اپنی زندگی کو گزاریں گے۔

رمضان میں چار اقسام کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔

1- پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو رمضان المبارک آتا ہے چلا جاتا ہے اور وہ اپنی اسی حالت پر پڑے رہتے ہیں

2- دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو صوم کی حالت میں دن میں صرف سوتے ہیں اور دیر رات تک جاگتے رہتے ہیں۔

3- تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو رمضان میں تو تمام صلاة کی پابندی کرتے ہیں لیکن رمضان ختم ہوتے ہیں پھر اپنی پرانی حالت کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور صلاة کی پابندی ترک کر دیتے ہیں۔

4- چوتھی قسم ان لوگوں کی ہے جو رمضان سے پہلے بھی صلاة کی اور تلاوت قرآن وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں۔
مگر رمضان المبارک آتے ہی ان کی فرحت و مسرت اور زیادہ ہو جاتی ہے، صلاۃ میں اور زیادہ نشاط اور چستی آجاتی ہے، تلاوت قرآن اور دوسرے بھلائی کے کاموں میں ان کی سخاوت بڑھ جاتی ہے۔
( یہی مومن کی اصل شان ہے، یہی ایمان کا تقاضا ہے، اسی کا نام اسلام ہے۔
یہی مومن ، یہی صائم ، اور یہی ایمان، اللہ کے ہاں محبوب ہے ۔
یا اللہ ہمارے دلوں میں ایمان کو محبوب بنا دے، اور اس سے ہمارے قلوب کو مزین کر دے، کفر اور فسق فجور ہمارے دلوں کو ناپسند ہو جائے، اور اے اللہ ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا دے۔ آمین۔)

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top