بچوں کو روزہ رکھنے کی تربیت دیں

شیخ ابو حمدان اشرف فیضی رائیدرگ
------------------------------------------------

خواتین کو چاہیے کہ وہ خود روزہ رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی روزہ کی عادت ڈالیں،روزہ کی اہمیت و فضیلت بتائیں،خاص طور پر وہ بچے جو بلوغت کے قریب ہوں اور روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں، ویسے تو رمضان کا روزہ بالغ مرد و عورت پر فرض ہے، بچوں پر روزہ فرض نہیں ہے، مگر ان کے لیے مشق اور تربیت ہوگی، بلوغت کے بعد ان کے لیے روزہ رکھنا آسان ہوگا، روزہ کی عظمت ان کے دل میں بیٹھ جائے گی، اسلاف امت اپنے بچوں کو بچپن ہی سے دیگر عبادات کی طرح روزہ کی بھی تربیت دیتے تھے، امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں کتاب الصوم میں باب قائم کیا ہے: باب صوم الصبيان، بچوں کے روزہ کا بیان، اس باب کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے:
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ قَالَتْ : أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ : " مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيَصُمْ ". قَالَتْ : فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا، وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ.
[صحيح البخاري: ١٩٦٠]

ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عاشورہ کی صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے محلوں میں کہلا بھیجا کہ صبح جس نے کھا پی لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ (روزہ دار کی طرح) پورے کرے اور جس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ روزے سے رہے،ربیع نے کہا کہ پھر بعد میں بھی (رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد) ہم اس دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے، انہیں ہم اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے،جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آ جاتا۔
اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ قول تعلیقا ذکر کیا ہے:
وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِنَشْوَانٍ فِي رَمَضَانَ: وَيْلَكَ وَصِبْيَانُنَا صِيَامٌ فَضَرَبَهُ.

‏‏‏‏ اور عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نشہ باز سے فرمایا:افسوس ہے تجھ پر، تو نے رمضان میں بھی شراب پی رکھی ہے حالانکہ ہمارے بچے تک بھی روزے سے ہیں، پھر آپ نے اس پر حد قائم کی [صحيح البخاري:كِتَاب الصَّوم: ١٩٦٠]
--------------------------------
ابو حمدان اشرف فیضی
جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ، آندھرا پردیش
 
Top