ہندوستان میں نفرتوں کے شرارے💥

🖊: صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

نفرتوں کے شرارے، قوم مسلم کی طرف بڑھتی چنگاریاں، جھلستے چہرے، اجڑتے گھر، مستقبل کے خطرناک حالات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، بلکہ اشارہ ہی نہیں جنجھوڑ کر ہمیں بیدار کرنا چاہ رہے ہیں، مگر ہم خاموش ہیں، ہماری قوم بے حسی کا شکار ہے، ہم چپ ہیں،بات کرنے کی بھی سکت ہمارے اندر ختم ہو چکی ہے، رہبران قوم سکتہ میں ہیں، کہیں سے کوئی صدا بلند نہیں ہو رہی ہے، نہ کوئی اس پر بات کرنے کو تیار ہے، حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں، رہبران قوم، دانشوران قوم، علمائے قوم کو کیا سر جوڑ کر کے بیٹھنا نہیں چاہئے؟ کیا اس وقت ایک مضبوط اتحاد کے ساتھ حکومت و عدالت کے سربراہان تک ظلم کے خلاف ایک آواز بن کر ملک کی سالمیت اور بقا کے لئے مستقبل کے خطرات سے آگاہی نہیں کرنی چاہئے ؟
میں نہیں جانتا آخر کس وقت کا انتظار ہے، کن حالات کا انتظار ہے،جب کہ ظلم کی داستانیں اتنی بڑھتی جا رہی ہیں، کہ قتل و خوں ریزی کی طرف ہم بھاگے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم سب کچھ دیکھ رہا ہے اور سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس نعرہ دے کر مگن ہےاور سوچ رہا ہے کہ قوم کو میں بیوقوف بنا دیا، اور خوش فہمی کا مارا مسلمان بھی بیوقوف بن گیا ہے،اور سو رہا ہے،
ہندو اپنے بھیانک اور خطرناک نعروں کے سپنوں کو پورا ہونے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
عزت مآب انسانیت دوستو!ملک کے خیر خواہو! حالات بدلنے کا انتظار مت کرو، حالات بدلنے کے لئے کام کرو، ورنہ جیسے حالات پیدا کرنے کے لئے کام کیا جا رہا ہے، وہ حالات ہم پر مسلط ہو گئے تو تباہیوں کے دہانے کو بند کرنا ہمارے بس سے نکل جائے گا اور ہمارا انجام یا ہمارے بعد آنے والی نسلوں کا انجام دنیا بھر میں ہونے والے نسل کشی کے انجام سے بھی بد تر ہو سکتا ہے۔
الامان الحفیظ
 
Top