تحریر: صفی الرحمن ابن مسلم بندوی فیضی

اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ، تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي
یہ چھوٹی سی دعا ہے مگر بڑی عظیم الشان دعا ہے
یہ وہ دعا ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے سوال کیا تھا کہ اگر میں لیلۃ القدر کو پا جاؤں تو کیا پڑھوں؟ کیا دعا کروں؟
تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کرتے ہوئے کہا تھا
یہ دعا پڑھا کریں۔
اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ، تُحِبُّ الْعَفْوَ، فَاعْفُ عَنِّي».
یعنی اے اللہ تو ہی معاف کرنے والا ہے، اور تو معافی کو پسند بھی کرتا ہے، تو اے اللہ مجھ کو معاف کر دے ۔
مسلمانو!
اس دعا کو یاد کر لیجئے اور کثرت کے ساتھ پڑھنے کا اہتمام کیجئے
یہ دعا مساجد کے ائمہ کو صرف دعاء قنوت میں پڑھنے کے لئے نہیں ہے، بلکہ کی اس دعا کو آپ ہر وقت پڑھتے رہئے، سحر کے وقت پڑھیے عام دعاؤں میں اسے شامل رکھئے، گھر میں بیٹھے ہوں، اپنے بستر پہ ہوں، اپنی گاڑی میں ہوں غرضیکہ ہر وقت اس دعا کو آپ معنی اور مفہوم کو سمجھتے ہوئے اخلاص کے ساتھ پڑھتے رہئے، اپنی اولادوں کو اپنے پڑوسیوں کو دوست و احباب کو شاگردوں کو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیاری دعا کو اس قیمتی وصیت کو بتلایئے سکھلایئے اور تربیت کیجئے۔
یہ چھوٹا سا دعائیہ جملہ اپنے اندر بڑے ہی عظیم الشان معانی کو سموئے ہوئے ہے۔
العفو کے معنی مٹانے کے ہیں،صاف کرنے کے ہیں، کھرچ دینے کے ہیں ،
اور العفو یہ اللہ کے اسمائے حسنیٰ میں سے بھی ہے۔
گویا آپ اللہ رب العالمین کے اسمائے حسنیٰ کے وسیلے سے پورے یقین اور عاجزی کے ساتھ اپنے گناہوں کو مٹا دینے کی کھرچ دینے کی ، گناہوں سے پاک و صاف کر دینے کی التجا کر رہے ہیں۔
اور مغفرت کتنی عظیم شئے ہے، کتنی مبارک چیز ہے۔
ان آیات کریمہ کو پڑھ لیجئے۔
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ اِنَّهٝ كَانَ غَفَّارًا (10)
پس میں نے کہا اپنے رب سے بخشش مانگو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔

يُـرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا (11)
وہ آسمان سے تم پر (موسلا دھار) مینہ برسائے گا۔

وَيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَّّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهَارًا (12)
اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات بنا دے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا۔
 
Top