شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب کا رمضان کے تیسرے جمعہ سے متعلق وظیفہ

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، مسرہ -طائف

رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ سے متعلق پاکستان کے ایک معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی صاحب (اپنی جماعت کے حلقہ میں شیخ الاسلام سے ملقب ہیں) کی ایک آڈیو واٹس ایپ پر کافی دنوں سے وائرل ہے خصوصا عورتیں اسے کافی شیئر کررہی ہیں ۔ اس آڈیو میں شیخ الاسلام صاحب فرماتے ہیں کہ "رمضان المبارک کے تیسرے جمعہ سے متعلق ایک وظیفہ ہے جو بزرگوں کے ذریعہ آزمایا ہواہے ،اس کی فضیلت یہ ہے کہ رمضان میں تیسرے جمعہ کے دن کسی وقت اس وظیفہ کو کیا جائے تو اللہ تعالی بڑے سے بڑے مرض کو جسم سے ٹال دیتا ہے۔ اس لئے ہرکوئی یہ وظیفہ کرے اور اس نسخہ کو گھروں میں ، رشتہ داروں میں ، سلسلہ اشرفیہ ، امدادیہ کے پڑھنے والوں میں عام کردیا جائے۔ طریقہ یہ ہے، درورد ابراہیم گیارہ بار، سورہ الم نشرح اکیس بار، سورہ قدر اکیس بار اور پھر درود ابراہیم گیارہ بار۔ یہ پڑھ کر دعا کی جائے ، اس کے پڑھنے والے کے اوپر بڑے سے بڑا مرض ہو اور چھوٹے سے چھوٹا مرض ہو، اللہ تعالی اسے اس مرض سے نجات دے دیتا ہے ۔ آڈیو میں پھر کہتے ہیں سبھی لوگ پڑھیں،خاص طور سے سبھی بچے بچیاں اور خانقاہ کے لوگ "۔ مفتی صاحب کی بات ختم ہوئی ۔
یہ آڈیو کئی دفعہ میرےپاس تحقیق کی غرض سے آئی ، میں نے مختصر ا یہ جواب دیا کہ یہ بدعتی طریقہ ہے اور چونکہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دیوبندیو ں کےشیخ ومفتی ہیں جن کا تعلق تصوف سے ہے جیساکہ خود آڈیو میں مفتی صاحب سلسلہ اشرفیہ امدادیہ اور خانقاہ کا ذکر بھی کررہے ہیں اس لئے ان کے یہاں الگ الگ کاموں کا وظیفہ بنانا پرانا طریقہ رہا ہے ۔ ان کو تصوف کے بزرگوں سے یہ اجازت ملی ہوئی ہے کہ جب جس کام کے لئے جو چاہو وظیفہ گھڑ لو، شادی کے لئے یہ وظیفہ پڑھ لو، نوکری کے لئے یہ وظیفہ پڑھ لو، غرض کہ ہر کام کے وظائف گھڑ لئے جاتے ہیں۔مجال ہے کہ اس جماعت کا کوئی عالم (جو خودکوقرآن وحدیث کا عالم کہتا ہو) ان بناوٹی وظائف پہ انگلی اٹھادے، اور عوام تو کالانعام ہے ہی ، شیخ الاسلام اور مفتی کا نام دیکھتے ہی وائرل پہ وائرل کرنے لگ جاتی ہے جیسے کوئی وحی نازل ہوگئی ہو ۔ امت کے عام ، خاص اور شیخ الاسلام کا یہ حال ہوگیا ہے ؟
بھلا بتائیے رمضان ، ایک مبارک مہینہ ہے اس سے متعلق کوئی عمل اور اس عمل کی فضیلت بتانے کا حق اللہ اور اس کے رسول کو ہے مگر امت کا ایک عالم اپنی طرف سے کیسے رمضان کے تیسرے جمعہ کا کوئی عمل اور پھر اس عمل کی فضیلت اپنی طرف سے وضع کرسکتا ہے ؟ کس قدر حیرانی کی بات ہے ؟
مجھے یاد آرہا ہے کہ کورونا کی شروعات میں بھی مفتی صاحب کی ایک آڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں مفتی صاحب کہتے ہیں مجھے تبلیغی جماعت کے ایک آدمی کا فون آیا جو بڑے نیک آدمی ہیں، ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت بکثرت ہوتی رہتی ہے ، انہوں نے بتایا کہ ان کو گزشتہ رات رسول کریم کی زیارت ہوئی، جس میں مجھے پیغام دیا کہ تم لوگوں سے کہو، یا تم پڑھو تین مرتبہ سورہ فاتحہ ، تین مرتبہ سورہ اخلاص اور تین سو تیسرہ مرتبہ حسبنااللہ ونعم الوکیل ، موجودہ حالات میں حفاظت ہوگی ۔ ذرا مفتی صاحب کا علم اور معیار علم دیکھیں کہ ایک تبلیغی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو رسول کی زیارت بکثرت ہوتی رہتی ہے، پھر رسول کا پیغام اس تبلیغی کو ملتا ہے جسے مفتی صاحب ٹی وی چینل پر بیان کرتے ہیں ۔ مزید برآں وہ تبلیغی کہتا ہے کہ آپ اسے لوگوں میں عام بھی کردیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
کیا اتنے بڑے شیخ الاسلام اور مفتی اس طرح کی باتوں کی تائید کرسکتے ہیں اور لوگوں میں ٹی وی چینلوں کے ذریعہ عام کرسکتے ہیں ؟ رسول کی زیارت کوئی عام بات ہے جو ایک آدمی کے لئے لکھ دی گئی ہو اسے بار بار زیارت رسول ہوگی ؟ اس طرح کی بات رسول کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے صحابہ بھی نہیں کر تے پھر کیسےایک عام تبلیغی کثرت زیارت کا دعوی کرتا ہے ۔ پھر رسول کا پیغام بھی اسے ملتا ہے اور بڑے علم والے تصدیق بھی کرتے ہیں اور لوگوں میں عام بھی کرتے ہیں ۔
خیر!جو لوگ واقعی قرآن وحدیث کو ماننے والے اور ان پر عمل کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کی باتیں سراسر جھوٹی ہیں اور چونکہ صوفیوں کے یہاں وظائف گھڑے جاتے ہیں، عادت بنی ہوئی ہے اس لئے جب جس طرح کی آفت ہو اس قسم کا کوئی وظیفہ گھڑ لیا اور لوگوں میں عام کردیا ۔ صوفیوں میں ایک بات بڑی عام ہے وہ رسول کی زیارت اور زیارت کے ذریعہ پیغام ۔ پیغام دراصل خود کا بنایا ہوا وظیفہ ہوتا ہے اپنے نام سے وظیفہ کی دوکان کم چلے گی اس لئے رسول کی طرف منسوب کردیا تاکہ یہ دوکان زیادہ چلے ۔ بس اتنی سی حقیقت ہے ۔ واقعی امت خرافات میں کھوگئی ہے اور اصل دین ختم ہوتا جارہا ہے ۔
مجھے کسی طبقہ کے عالم سے بیر نہیں ہے لیکن جو بے دینی پھیلائے ، دین کی جگہ مصنوعی باتوں کو پھیلائے تب تکلیف ہوتی اور کوشش کرتا ہوں کہ کم ازکم بے دینی پہ لوگوں کو مطلع کرکے اپنی دینی ذمہ داری نبھادوں ۔ مفتی تقی عثمانی صاحب بھی میرے نزدیک محترم ہیں مگر ان کی کبھی کبھار اس قسم کی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں تو دلی تکلیف ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے مجھے اس وقت تکلیف ہوئی جب انہوں نے فرحت ہاشمی صاحبہ کے خلاف غلط فتوی دے کر لوگو ں میں غلط فہمی پھیلائی ، میں نے اس فتوی کا تعاقب کیا جو میرے بلاگ پر موجود ہے ، پھر کورونا کے وقت مصنوعی وظیفہ کی وکالت کی وہ بھی رسول اللہ کی طرف نسبت کرکے ، شاید ہرپڑھے لکھے کو معلوم ہے کہ رسول اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کا اخروی انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایک بار پھر مفتی صاحب نے رمضان کے تیسرے جمعہ کا وظیفہ بتاکر تکلیف پہنچائی ہے ۔
آج مفتی صاحب کی ایک نئی آڈیو ملی جس میں انہوں نے رمضانی وظیفہ کا انکار کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ آڈیو میری ہے ہی نہیں ۔ انصاف کا تقاضہ اور سچے عالم کی شان تو یہ ہوتی ہے کہ اگر معلوم ہوجائے مجھ سے علمی خطا ہوئی ہے تو اس سے رجوع کرلیں ، اس سے شان گھٹتی نہیں بڑھتی ہے ۔
آخری آڈیو میں مفتی صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ مجھے وظیفے آتے ہی نہیں اور میں کبھی اس طریقے سے وظیفہ بتاتا بھی نہیں سوائے ایک مرتبہ کووڈ کے بارے میں کچھ دیا تھا۔ آگے کہتے ہیں کہ ظاہر سی بات ہے اس آڈیو میں جو باتیں کہی گئیں ہیں یعنی درود شریف پڑھنا یا دو سورتیں پڑھنا ، جب بھی آدمی پڑھے ان شاء اللہ اجر ملتا ہے ۔
اس تردیدی بیان میں بھی رمضانی وظیفہ کی حمایت مخفی طور پر موجود ہے جوکہ دومنٹ اٹھائیس سکنڈ آڈیو سننے کے بعد معلوم ہوتا ہے بلکہ یہاں تک شبہ ہوتا ہے کہ کووڈ کا ٹیلفون بھی بہانہ ہو ،وظیفہ اپنا ہو۔کل ملاکر یہ ہے کہ مفتی صاحب اعتراض سے محض دامن بچانا چاہتے ہیں ، اس موقع سے داغ دہلوی کا یہ شعر یاد آتا ہے ۔

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں​

آخر میں مفتی صاحب سے عرض ہے کہ اللہ نے آپ کو علم دیا ہے اور لوگوں میں علمی مقام عطا فرمایا ہے ، یہ دونوں اس وقت مفید ہوں گے جب آپ صحیح دین لوگوں تک پہنچائیں گے ورنہ یہ دونوں وبال جان بھی بن سکتے ہیں ۔ رسول اللہ کے دعوتی شہر طائف سے ایک کم علم بندہ آپ سے التجا کرتا ہے کہ آپ امت کو وہ بات بتائیں جو رسول اللہ نے طائف والوں کو اور پوری دنیا کو بتائی ہیں ، اسی میں آخرت کی کامیابی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کو اور ہم سب کو حق بات بولنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر مائے ۔ آمین
 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
آپ کو یاد ہوگا کہ جب تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب فقہی مقالات کی جلد چہارم میں اصلی حنفی مذہب تداوی بالمحرم کا تذکرہ کرتے ہوئے پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنے کا ذکر کیا تھا جس پر ایک اخبار نے اس بات کو مفتی صاحب کے حوالے سے شہ سرخی میں چھاپ دیا تھا۔ اس کے بعد جب عوامی رد عمل سامنے آیا اور مفتی صاحب پر لعن طعن شروع ہوئی تو اس وقت بھی موصوف نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے اس فتویٰ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھااور کہا تھا کہ نہ تو یہ میرا فتویٰ ہے اور نہ ہی ہمار ے بزرگوں نے کبھی ایسا کوئی فتویٰ دیا ہے بلکہ ایسا عمل سفلی عمل کرنے والوں کا خاصہ ہے۔ بات یہ ہے کہ بات کرکے مکر جانا اور منہ در منہ جھوٹ بولنا تقی عثمانی صاحب کی عادت ہے۔
 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
آپ کو یاد ہوگا کہ جب تقی عثمانی صاحب نے اپنی کتاب فقہی مقالات کی جلد چہارم میں اصلی حنفی مذہب تداوی بالمحرم کا تذکرہ کرتے ہوئے پیشاب سے سورہ فاتحہ لکھنے کا ذکر کیا تھا جس پر ایک اخبار نے اس بات کو مفتی صاحب کے حوالے سے شہ سرخی میں چھاپ دیا تھا۔ اس کے بعد جب عوامی رد عمل سامنے آیا اور مفتی صاحب پر لعن طعن شروع ہوئی تو اس وقت بھی موصوف نے سفید جھوٹ بولتے ہوئے اس فتویٰ سے لاتعلقی کا اظہار کردیا تھااور کہا تھا کہ نہ تو یہ میرا فتویٰ ہے اور نہ ہی ہمار ے بزرگوں نے کبھی ایسا کوئی فتویٰ دیا ہے بلکہ ایسا عمل سفلی عمل کرنے والوں کا خاصہ ہے۔ بات یہ ہے کہ بات کرکے مکر جانا اور منہ در منہ جھوٹ بولنا تقی عثمانی صاحب کی عادت ہے۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماشاء اللہ آپ نے اچھی معلومات شیئر کی ہے، لوگوں کے لئےمفتی صاحب کی اس بات پر بھی اطلاع اور سند رہے گی کہ یہ ان کی پرانی روش ہے ۔
جزاک اللہ خیرا
 
Top