لوگو! سب سے پہلے میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو تقوی کی وصیت کرتا ہوں ۔
اسلامی بھائیو!
یہ مبارک ایام ختم ہونے کے قریب ہیں، اسی طرح سے مہینہ مہینہ کرکے سال ختم ہو جاتے ہیں، یہی دنیا کا حال ہے، بہت تیز زوال پذیر ہونے والی ہے، یہاں کسی کو ہمیشگی نہیں ہے، یہاں کوئی پورے طور پر مطمئن نہیں ہے، مخلوق کے تعلق سے اللہ کا یہی طریقہ ہے، ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، رمضان المبارک کی پرنور فضا گزر گئی، کچھ ہی باقی ہیں جو عنقریب گزر جانے والی ہیں، ایسا لگتا ہے ایک خیال آیا تھا گزر گیا، جو حیات گزر گئی وہ لوٹ کر آنے والی نہیں، یہی اس ماہ مبارک کا حال ہے، آج ہم اس کے آخری ایام گن رہے ہیں، آنے والے سال میں کتنے لوگ ہوں گے جو ان ایام تک پہنچیں گے مگر کئی لوگ ایسے بھی ہونگے جو آرزو اور تمناوں کے بعد بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔
اسلامی بھائیو!
کچھ اعمال ہیں جو اس ماہ مبارک کے اختتام پہ اللہ نے ہمارے اوپر مشروع کئے ہیں۔
1۔ انہیں میں سے ایک زکاۃالفطر کا نکالنا ہے۔
اسے صدقۃ الفطر بھی کہا جاتا ہے۔
جمہور مفسرین نے اس کا مقصد بتلایا ہے
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّـٰى (اعلی۔ 14)
بے شک وہ کامیاب ہوا جو پاک ہو گیا۔
اس کی نسبت صدقۃالفطر کی طرف کی جاتی ہے، کیونکہ صدقۃ الفطر بدن اور نفس کی جانب سے صدقہ ہوتا ہے، اور اسی طاعت و بندگی پر رمضان کا اختتام ہوتا ہے ۔
یہ صدقۃ الفطر فرض ہے خواہ وہ چھوٹا ہو، بڑا ہو، مرد ہو، عورت ہو، غلام ہو، آزاد ہو ہر مسلمان پر فرض ہے ۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

عن عبداﷲ بن عمربن الخطاب (رضی اﷲ عنہما)قال فرض رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ والہ وسلم)زکاۃ الفطر،صاعاًمن تمراوصاعاًمن شعیرعلیٰ العبدوالحروالذکروالانثیٰ والصغیرو الکبیرمن المسلمین، وامربہاان تؤدیٰ قبل خروج الناس الیٰ صلاۃ)(متفق علیہ)

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر(رضی اللہ عنہما)نے فرمایا:۔رسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)(نے فرض کردیازکاۃ الفطرکو،ایک صاع(خاص برتن جس میں اناج کوماپاجاتاہے)کھجورمیں سے یا ایک صاع جو میں سے ،غلام اور آزاد پر،مرد و عورت پراورچھوٹے، بڑے ہرمسلمان میں سے ،اور اس کاحکم دیاکہ زکاۃ الفطر(عید) كی نمازسے پہلے نکالی جائے)۔(بخاری ومسلم)
ایسے ہی مستحب ہے کہ جنین (ماں کے پیٹ میں جو بچہ ہے) اس کی طرف سے بھی زکوۃ الفطر ادا کرے، سلف ایسا ہی کرتے تھے۔
اسی طرح سے ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنی طرف سے، اور جو اس کی ذمہ داری میں ہے، بیوی یا رشتہ دار وغیرہ اگر وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں تو ان کی طرف سے بھی زکاۃ الفطر نکال دے ، لیکن اگر وہ اس قابل ہیں تو بہتر اور افضل یہی ہے کہ وہ اپنی زکاۃالفطر خود ادا کریں۔
کیوں کہ اصل تو یہی ہے كہ اپنی زکوۃ الفطر کو خود ہی نکالا جائے۔
زکات فطر نکالنے کی حکمت میں جو چیزیں بیان کی گئی ہیں ۔
پہلی چیز صائمین سے متعلق ہے یعنی بحالت صوم اگر چھوٹی غلطی ہو گئی ہو، یا کسی لغو کام کا صدور ہو گیا ہو،تو صوم کے اختتام پر زکات فطر ادا کرنے سے یہ اس کا کفارہ ہو جائے گا۔
دوسری چیز اجتماعیت سے متعلق ہے کہ اس کے ذریعہ سے محبت و الفت پروان چڑھے۔
اور غریب و مسکین کی مدد ہوجائے، تاکہ عید کی خوشیوں میں یہ بھی برابر کے شریک رہیں ۔
زکات فطر ادا کرنے کا وقت سورج غروب ہونے سے لے کر عید کی صلاة سے پہلے تک ہے، اور یہی افضل وقت ہے۔
ایک دو دن پہلے ادا کر دینا بھی جائز ہے۔
جیسا کہ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے زکاۃ الفطر نکالنے کا حکم دیا ( رواہ مسلم)
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ایک دو دن پہلے زکاۃ فطر ادا کیا کرتے تھے (رواہ البخار)
اسلامی بھائیو!
زکات فطرہ آپ جہاں رہتے ہیں وہی کے فقراء کو ادا کریں ۔
لیکن اگر کوئی کسی دوسری جگہ جانتا ہے کہ وہ
زیادہ مستحق تو دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں مگر جہاں ہیں وہیں کے حساب سے زکوۃ الفطر نکالنی ہو گی ۔
ایسے ہی عید کا چاند دیکھنے کے بعد یہ بے مشروع ہے
کہ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد بلند آواز سے پڑھا جائے ۔

اسی طرح سے عورتوں کو عید گاہ جانے کا بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص حکم دیا ہے ۔
ام عطیہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں صلاة پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں“۔
اور عید کی صلاة کے لئے جب نکلے تو کچھ کھا کر کے جانا چاہئے، بہتر ہے طاق کھجوروں کا استعمال کریں یہ مستحب ہے ۔

اللہ اچھے انداز سے زکات فطرہ ادا کرنے کی توفیق دے ۔
اور اچھا خاتمہ نصیب فرمائے۔

صفی الرحمن ابن مسلم بندوی فیضی
 
Top