ذیشان خان

Administrator
نماز میں سترے کے متعلق بعض اہم ہدایات

✒ فاروق عبد اللہ نراین پوری

سترے کے بارے علما کے مابین اختلاف ہے۔ جمہور کے نزدیک مستحب ہے۔ بعض علما کے نزدیک واجب ہے۔
مستحب کہنے والوں کی دلیل میں قوت ہے، لیکن وجوب کے دلائل مجھے زیادہ قوی معلوم ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: لا تُصلِّ إلا إلى سترة
اسی طرح آپ کا فرمان ہے: "إذا صلَّى أحدُكم فليُصَلِّ إلى سُتْرةِ، وليَدْنُ منها"

سترے کی آپ نے سخت تاکید کی ہے، اور ایسی کوئی حدیث نہیں ملتی جو ثابت ہو، اور اس میں اس بات کی صراحت ہو کہ آپ نے بغیر سترے کے کوئی ایک نماز پڑھی ہے۔ جو دلائل دئے جاتے ہیں ان میں صرف احتمال ہے۔
جیسے کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ”أَقْبَلْتُ رَاكِبًا عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلاَمَ، «وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إِلَى غَيْرِ جِدَارٍ“ والی حدیث۔
اس حدیث سے جمہور نے دلیل لی ہے کہ سترہ مستحب ہے۔ حالانکہ اس میں صرف احتمال ہی ہے، کیونکہ ”غیر جدار“ ”غیر سترہ“ کو مستلزم نہیں۔ اور محتمل دلیل سے ”صریح اور انتہائی تاکیدی امر“ کے ”وجوب“ کو دفع کرنا قوی نہیں معلوم ہوتا۔ الل اعلم۔

یہی حدیث بطور دلیل پیش کی جاتی ہے کہ ”امام کا سترہ مقتدی کے لئے کافی ہے”۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس پر باب قائم کیا ہے: ”بَابُ سُتْرَةُ الإِمَامِ سُتْرَةُ مَنْ خَلْفَهُ“۔
اگر اللہ کے رسول کے سامنے سرے سے کوئی سترہ ہی نہیں تھا تو مقتدی کے لئے آپ کا سترہ کافی کیسے ہوا؟
یہ واجب کہنے والوں کا جواب ہے۔
مستحب کہنے والوں نے اس کا بھی جواب دیا ہے۔
کافی طویل بحث ہے یہ۔
مجھے واجب کہنے والوں کی بات زیادہ قوی لگتی ہے۔ والله أعلم وعلمه أتم وأحكم.

بعض دلائل میں بغیر سترہ کے نماز پڑھنے کی صراحت بھی ہے لیکن وہ پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتے۔

اس کے بر عکس حد درجہ سترے کے اہتمام کا ثبوت ملتا ہے۔
مثلا:
روضہ شریفہ میں جو کھمبا ہے جسے ”اسطوانۃ المہاجرین“ کہا جاتا ہے وہاں آپ نماز پڑھنے کی کوشش کرتے۔

عید کی نماز یا سفر کے لئے نکلتے تو نیزہ ساتھ لینے کا حکم دیتے، اور نماز پڑھتے وقت اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے۔

کبھی اپنی سواری کی آڑ لے کر نماز پڑھتے۔

کبھی کجاوے کی لکڑی کو سترہ بنا لیتے اور اس کی آڑ لے کر نماز پڑھتے۔

کبھی کسی درخت کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے۔

کبھی چارپائی کو۔

خانہ کعبہ کے اندر آپ نے جو نماز پڑھی تھی اس میں دیوار کو سترہ بنایا تھا۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ سترہ جس طرح صحرا میں ہے اسی طرح مسجد میں بھی۔ اس کے اور بھی دلائل ہیں۔

صحابہ کرام کو آپ نے یہی تعلیم دی تھی ۔ چنانچہ وہ بھی سترے کا حد درجہ اہتمام کرتے۔ مغرب کی اذان ہوتے ہی کھمبوں کی طرف سبقت کرتے تاکہ انھیں سترہ بنا کر نماز پڑھیں۔

ایک صحابی نے بغیر سترے کے نماز شروع کر دی، ایک دوسرے صحابی نے دیکھا (دونوں کے نام ابھی مجھے یاد نہیں آ رہے) تو نماز کی حالت میں ہی انھیں پکڑ کر سترے کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس کی آڑ لے کر نماز پڑھیں۔

بعض تابعین کے بارے ملتا ہے کہ اگر صحرا میں سترہ کرنے لائق کوئی چیز نہ ملتی تو چھوٹے چھوٹے ڈھیلوں کو جمع کرکے اونچی کرتے اور پھر انھیں سترہ بنا کر نماز پڑھتے۔

بعض اپنے ساتھی کو کہتے کہ میرے سامنے بیٹھیں، تاکہ آپ کو سترہ بنا کر نماز پڑھ لوں۔

یہ تھا اللہ کے رسول اور سلف صالحین کا سترے کا اہتمام۔

اس لئے ہمیں بھی سترے کا حد درجہ اہتمام کرنا چاہئے، چاہے ہم اسے واجب مانیں یا مستحب۔ اصل یہ ہے کہ عمل کریں۔ مستحب بھی کرنے کے لئے ہی ہے، چھوڑنے کے لئے نہیں۔

بعض مساجد میں سترے کے لئے الگ سے بہت ساری لکڑیاں رکھ دی جاتی ہیں، یہ مناسب طریقہ معلوم نہیں ہوتا۔ سلف میں اس طرح سے الگ سے لکڑیوں کے اہتمام کی بات مجھے نہیں ملی۔
اس کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے۔ اس کے بغیر بھی سترہ کرنا ممکن ہے۔
جیسے: مسجد کی دیوار کو آپ کو سترہ بنا کر نماز پڑھ سکتے ہیں۔ ستونوں کو سترہ بنا سکتے ہیں۔ کسی مصلی کے پیچھے نماز پڑھیں تو وہ آپ کا سترہ ہے۔ ایک گز کے برابر کوئی چیز مثلا پانی کا بوتل، بیگ وغیرہ آپ کے پاس ہو تو بوقت ضرورت اسے بھی سترہ بنا سکتے ہیں۔
اگر پھر بھی ضرورت محسوس ہو تو ایک آدھ لکڑی مسجد میں رکھ دی جائے تاکہ سترہ کرنے میں آسانی ہو، ان شاء اللہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
بہر حال بغیر سترہ کے تو نماز نہ پڑھے۔

اگر آپ نے کسی کے پیچھے نماز شروع کی اور دوران نماز وہ اٹھ کر چلا بھی جائے تو ان شاء اللہ کوئی حرج نہیں، ایسی صورت میں آپ معذور سمجھے جائیں گے۔ لیکن بغیر سترہ کے نماز شروع نہ کریں۔

سترے کی ضرورت صرف امام ہو ہے، یا اکیلے نماز پڑھنے والے کو۔ مقتدی کو سترے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مقتدی کے سامنے سے کوئی گزرنا چاہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ جائز ہے۔ امام کا سترہ ہی اس کے لئے کافی ہے۔ البتہ امام ضرور سترہ کرے۔
ہاں اگر آپ مسبوق ہوں تو جماعت ختم ہونے کے بعد سامنے والی چیز (دیوار یا کوئی شخص، وغیرہ) آپ کے لئے سترہ ہوگی۔ اگر دیوار ایک دو صف کے فاصلے پر ہے تو نماز کی حالت میں ہی آگے بڑھ جائیں، اور اس دیوار کو سترہ بنائیں۔ ان شاء اللہ اتنی حرکت جائز ہے۔ سترہ کرنے کے بعد اب کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دیں۔

حتی الامکان سترے کے قریب کھڑے ہوں، سترہ اور آپ کے درمیان تین گز سے زیادہ فاصلہ نہ ہو۔
سترہ رکھ لینے کے بعد اپنے اور سترہ کے درمیان سے کسی کو گزرنے نہ دیں۔ کوئی گزرنا چاہے تو اسے روکنے کی کوشش کریں۔
 
Top