اعمال صالحہ میں اسقامت و مداومت

صفی الرحمٰن ابن مسلم بندوی فیضی

اللہ کے بندو!
اللہ کا تقوی اختیار کرو، ہر وقت اور ہر جگہ اس کی حفاظت کرو، اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے رمضان المبارک کے صیام کو پورا کرنے، اور اپنی رحمت و بخشش اور انعام کو سمیٹنے کا موقع دیا، وہ خوشگوار موسم گزر گیا، وہ اللہ کی عبادت سے آباد ایام چلے گئے، وہ معطر فضائیں بدل گئیں۔
اے ایمان والو! آپ سے سوال ہے، رمضان کے بعد ہمارے کیا حالات ہیں؟
کیا ہمارے اندر اللہ کا خوف باقی ہے؟ کیا ہم نے اپنا محاسبہ کیا کہ ہمارا عمل قبول ہوا ہے یا نہیں؟
ہمارے سلف الصالحین عمل کرنے میں خوب محنت کرتے تھے، پھر اللہ کے بارگاہ میں قبولیت کی فکر میں رہتے تھے، اور اس کے رد ہونے سے ڈرتے تھے۔

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا نے سردار دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا کہ وَالَّـذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُـهُـمْ وَجِلَـةٌ اَنَّـهُـمْ اِلٰى رَبِّـهِـمْ رَاجِعُوْنَ (المومنون۔60)
اور وہ لوگ جو کچھ دیتے ہیں، ان کے دل اس سے ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
کیا اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو شرابیں پیتے ہیں اور چوری کرتے

ہیں ؟ ارشاد فرمایا: اے صدیق کی بیٹی! ایسا نہیں ، اس آیت میں اُن لوگوں کا بیان ہے جو صوم رکھتے ہیں ،صلاة پڑھتے ہیں ،صدقہ دیتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں یہ اعمال نامقبول نہ ہوجائیں ۔( ترمذی/ح3186)

اسی لئے علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
عمل کی قبولیت کے لئے ہمیشہ فکر میں رہو، اور اس بات کا سختی سے اہتمام کرو، کیا تم نے اللہ رب العالمین کا قول نہیں سنا ؟ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّـٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (27)
اللہ پرہیزگاروں ہی سے قبول کرتا ہے۔

عبد الله ابن عمر کے پاس ایک سائل آتا ہے اور اپنے بیٹے کیلئے کہتا ہے کچھ دینار دیجئے آپ نے اسے دے دیا تو وہ دعا دیتے ہوئے کہتا ہے "تقبل الله منک"( یعنی اللہ آپ کے اس عمل کو قبول کرے) تو عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اگر مجھ کو معلوم ہوتا کے اللہ نے میرا ایک سجدہ بھی قبول کر لیا ہے، یا ایک درہم صدقہ بھی کو قبول کرلیا ہے تو میں فورا پسند کرتا ہوں کہ میری موت ہو جائے، جانتے ہو اللہ تعالی کس کے عمل کو قبول کرتا ہے
اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّـٰهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ (27)
اللہ پرہیزگاروں ہی سے قبول کرتا ہے۔

معلوم ہوا کہ سب سے عظیم چیز قبولیت عمل ہے اس لئے ہم سب کو دعا کرنا چاہئے کہ اللہ تعالی ہمارے صیام کوقبول فرمائے، اور ہمیشہ اللہ رب العالمین سے ڈرتے رہنا چاہئے۔
اس سے مغفرت طلب کرتے رہنا چاہئے، ہمیشہ جہنم سے آزادی کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔

اللہ کے بندو! سچا مومن وہی ہے کہ رمضان میں جس طرح سے اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا تھا، اسی طرح سے پورے سال مداومت کے ساتھ عبادات کا اہتمام کرے۔

اسلامی بھائیو! اعمال صالحہ پر استقامت اور مداومت اللہ کو محبوب ہے، ہمیشہ عبادت میں استقامت برتنا چاہئے، اللہ کی خوشنودی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ عمل کے قبول ہونے کی نشانی یہی ہے۔ کہ بندہ ایک عبادت کے بعد بھی اعمال حسنہ کو بجا لاتا رہے۔
جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّـٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ (الحجر۔99)
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے۔

اس لئے ہمیں چاہئے کہ اللہ کی عبادت و اطاعت میں مداومت برتیں ۔

عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ.

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔
(صحیح البخاری حدیث نمبر 6464 کتاب الرقاق)

اس لئے رمضان المبارک تو ختم ہوگیا مگر اللہ رب العالمین کی رحمت ابھی برقرار ہے، اس نے نیکیوں کے کمانے کا اور بھی موقع ہمارے لئے عطا کر رکھا ہے۔ لہذا اس شوال کے چھ روزے کی بڑی اہمیت ہے ۔
چنانچہ ابوایوب انصاری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جس نے رمضان المبارک کے صوم رکھنے کے بعد شوال کے چھ صوم رکھ لئے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے رکھے ہوں ) صحیح مسلم ، سنن ابوداود ، سنن ترمذی ، سنن ابن ماجہ ۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے ہمیں اعمال صالحہ پر مداومت اور استقامت کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمیناع
 
Top