یہ حسرت بھی کیسی حسرت ہے۔
😭

دو دن قبل شام کے قصاب مجرم بشار الاسد نے 2013 سے جیلوں میں قید لگ بھگ 100 افراد کو رہا کیا تھا۔
جن میں سے اکثر کی حالت بہت نازک تھی اور کچھ ظلم و تشدد کی وجہ سے ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔
زیر نظر تصویر بھی انہی میں سے ایک ایسے شخص کی ہے جو رہا ہوا لیکن جب اپنے علاقے میں واپس آیا تو پتا چلا اسکے بچے اور گھر والے بھی لا پتہ ہو چکے ہیں۔ اہل محلہ اسکو اسکے بچوں کی تصاویر دکھا رہے ہیں جنکو اس نے کافی عرصے سے دیکھا ہی نہیں۔
یاد دہانی کے لئیے عرض کر دوں مجرم بشار نے ظلم کی چکی میں پستے ہوئے اہلسنت عوام کی بغاوت کو کچلنے کے لئیے ظلم کا ہر حربہ اپنایا۔ جن میں چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
🔹️
زندہ دفن کرنا۔
🔹️
مجمعے کو گولیاں مار کر گڑھوں میں پھینکنا۔
🔹️
بیرل بمبوں سے گھروں میں موجود سب افراد کو جلا کر راکھ کر دینا۔
🔹️
علماء کی داڑھیاں نوچنا اور تذلیل کرنا۔
🔹️
معصوم بچوں پر بے انتہا تشدد کرنا۔
🔹️
اہلسنت کے چھوٹے بچوں کہ آلہ تناسل کاٹ دینا۔
🔹️
اہلسنت کی عورتوں سے وسیع پیمانے پر زیادتی۔
🔹️
جیلوں میں اہلسنت کی عورتوں کو ننگا قید کر کے رکھنا۔ لباس بھی نہ پہننے دینا۔
🔹️
زندہ لوگوں کو چھریاں مار مار کر قتل کرنا۔
آج بھی پاکستان میں موجود روافد اس مجرم کی بھرپور حمایت کرت ہیں۔ پاک افغان روافض زینبیون اور فاطمیون ملیشیا شام جا کر بشار کے لئیے لڑتے ہیں۔
آخر میں اپ سے گذارش ہے ساجد میر اور اس جیسے رافضی نواز دگڑ دلو۔۔ں پر چار حرف بھیجنا مت بھولئیے گا جو انکو اپنا بھائی کہتے ہیں۔
BENEFACTOR SPIRIT

اڈیڈ :ابراہیم کانپوری
 

Attachments

Top