البقرة_والكاهن_والوطنية
وطنيت ايک ایسی پرکشش اور دھوکہ پر مبنی دعوت ہے جسکی ابتداء انسان کے نفس میں اپنے وطن کے لیے پیدا ہونے والی محبت سے ہوتی ہے اور انتہاء دین کے بنیاد عقائد واحکام جس پر دین اسلام کا مدار ہے ان کے انسانی زندگی سے لا شعوری طور پر ختم ہونے پر ہوتی ہے۔۔۔!
اور انسان کی کسی مسلمان سے محبت اور نفرت، جان دینے اور لینے کا معیار وطن بن جاتا ہے۔اور اس وطن کے لیے جان دینے کو وہ عظیم شہادت سمجھتا ہے حالانکہ شریعت نے اسے جاہلیت کی موت کہا ہے اور وہ حدود اور دھوکہ پر مبنی لکیریں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے کھینچی اس میں منحصر ہو کر رہ جاتا ہے۔۔اور انھیں لکیروں میں محدود سرزمین کے مفاد کے لیے ہر طرح کی قربانی اور ہر طرح کے کفری گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے بلکل نہیں ہچکچاتا۔اور پھر اسی وطن کی محبت میں غلو کرنے کا تنیجہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے کفری گناہوں کے ارتکاب کی بھی بے بنیاد اور باطل تاویلیں کرتا ہے۔۔۔
البتہ اپنی سرزمین سے جہاں انسان پیدا ہوتا ہے بے اختیاری محبت سے اسلام نے کہیں منع نہیں کیا بلکہ اسکی کئی مثالیں بھی ملتی ہیں۔۔صحابہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد مکہ کی گلیوں کو یاد کرتے تھے۔۔۔جو وطنیت اسلام کے مخالف ہے یہاں اسی کی بات ہورہی ہے۔
اعاذنا_اللہ_بہ_وجمیع_المسلمین
وطن اس سرزمین کو کہا جاتا ہے جہاں انسانوں کا ایک مجموعہ رہتا ہو۔
عربی لغت کے اعتبار سے وطن اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں انسان مقیم ہوجاتا ہے۔
جیسے کہا جاتا ہے:خرج زید من مکۃ واتخذ البصرۃ وطنا:زید مکہ سے نکلا اور بصرۃ کو وطن بنالیا۔
مؤرخین نے لکھا ہے قریش میں کاھن رہا کرتے تھے اور مشرکین قریش کا ان کے بارے میں یہ عقیدہ تھا کہ یہ غیب کی خبریں بتاتے ہیں۔
بت پرست مشرکین کو یہ کاہن کہا کرتے تھے کہ یہ تم سے پچھڑے کی قربانی طلب کر رہا ہے۔ظاہر ہے وہ بت تو بات نہیں کیا کرتے تھے۔تو بچھڑے کی قربانی کی چاہت اور اس سے استفادہ وہ کاہن کیا کرتے تھے۔
اگر وہ کاہنین یہ کہتے کہ ہمیں بچھڑا چاہیے تو انھیں یہ کبھی نا ملتا۔
ا
سی لیے ایسے بتوں کی ایجاد کا حیلہ کیا جن کی وہ تعظیم وتقدیس کیا کرتے تھے،اور ان کے لیے لڑتے اور جان دیا کرتے تھے اور جنگوں میں انھی بتوں کا نام لے کر لڑا کرتے تھے۔اور اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب کاہن ان سے قربانی کا مطالبہ کرے اور یہ اس بت کی راہ میں قربانی کریں۔
دوسری جنگ عظیم سے پہلے ھٹلر نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں جرمن قوم کے لیے ایک ایسا معبود بناؤنگا جسکے لیے وہ لڑیں گے اور جس کے لیے وہ اپنی جانیں دیں گے اور اللہ کے بدلے اس کی عبادت کریں گے اور وہ معبود ہوگا جرمنی وطن۔
اور وطن وہی بت ہے جسکی عبادت مشرکین قریش کیا کرتے تھے اور آج کے کاہن وہ طبقہ ہے جو ان وطنوں کے سیاہ سفید کا مالک ہے۔۔۔
آج جو کوئی بھی قربانی اس وطن کے نام پر مانگی جاتی ہے تو وطن پرست خوشی خوشی دینے کو تیار ہوتے ہیں،مسلمانوں کے مالوں کو لوٹا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ وطن کے لیے ہے۔۔۔حالانکہ وہ اس طبقہ کی اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے لیا جاتا۔۔۔
اگر یہ کہا جائے کہ یہ قربانیاں انکی قیادت وسیادت کے لیے ہیں اور یہ ٹیکس جو وطن کے نام پر مانگا جاتا ہے اپنی خواہشات کے لیے ہے تو کوئی یہ قربانیاں اور وطن کے نام پر لیا جانا والا مال کبھی انہیں نا دے۔۔۔۔
یہ وطن،ملک کیا چیز ہیں کیا آپنے کبھی سوچا ہے۔۔
کیا کسی نے کبھی خود سے یہ سوال کیا ہے کہ یہ عجیب و غریب نعرے ملکی خزانہ،ملکی اراضی،ہم رہے نا رہیں یہ وطن رہے گا،اس وطن کے لیے جان بھی قربان ہے۔۔۔یہ کیا ہیں۔۔۔۔
حقیقت میں وطن ایک وهمى بت کا نام ہے جو آج ترقی کرکے وطن کے نام سے مشہور ہوگیا ہے۔۔۔۔آپ تو جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کے ایک ذرے کے بھی مالک نہیں ہیں بنا قیمت کے،حقیقت میں وطن وہ طبقہ ہے جو ملک پر قابض ہے یہی اصل وطن ہیں جسکی عبادت انسان کے احساسات سے کھیل کر کرائی جاتی ہے۔۔۔۔
وہی بچھڑہ ہے وہی کاہن ہیں۔۔صرف نام و شکل بدل گئی۔۔۔۔
اسلام میں ایسی وطنیت کی کوئی گنجائش نہیں اور اسی وطنیت کو آج عرب عجم کے کبار علماء نے بت قرار دیا ہے اور مستقل کتابیں لکھی۔۔۔
اخوكم: مصعب المھاجر
اڈیڈ: ابراہیم کانپوری
 
Last edited:
Top