عن أبي هريرة-رضي الله عنه- مرفوعاً: «تعوذوا بالله من جَهْدِ البلاء، وَدَرَكِ الشقاء، وسوء القضاء، وشماتة الأعداء». وفي رواية قال سفيان: أشك أني زدت واحدة منها ( متفق علیہ)
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت سے، بدبختی کی پستی سے، برے خاتمے سے، اور شماتتِ اعداء (دشمن کے ہنسنے) سے“۔ ایک روایت میں ہے، سفیان رحمہ اللہ نے کہا: مجھے شک ہے کہ میں نے ان میں سے ایک بات زیادہ بیان کی ہے۔ (معلوم نہیں وہ کون سی ہے) (بخاری۔ 6616 و مسلم- 2707)

یہ حدیث جوامع
الکلم میں سے ہے یعنی ایک اک الفاظ بہت سارے معانی سموئے ہوئے ہیں۔
اس کے اندر چار چیزوں سے پناہ مانگا گیا ہے، جن میں دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز ہے، اور اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے ۔

1۔جھد البلاء۔ آزمائش کی مشقت؛
اس کے اندر ہر طرح کی آزمائش، مشقت و پریشانی شامل ہے، جس کی سختی سے آدمی بہت زیادہ پریشان ہو جائے، اور اس سے چھٹکارے کی اس کے پاس طاقت نہ ہو۔
یہاں تک کہ اس کو ایسی پریشانیاں آ کر گھیر لیں کہ وہ موت کی آرزو کا سبب بن جائیں۔ (جبکہ موت کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے)

اب یہ آزمائش بیماریوں کی شکل میں ہو، قرضہ کے بوجھ کی شکل میں ہوں، یا ایسی خبر کے شکل میں ہو جسے سن کر کے غم اور حزن و ملال کی اس حالت میں آدمی پہونچ جائے کہ اسکے دل کو برداشت کرنے کی طاقت نہ ہو۔
بعض سلف نے یہ بھی کہا ہے کہ اولاد کی کثرت ہو اور مال کی قلت ہو اور وہ فقر و فاقہ کی سخت آزمائش میں مبتلا ہو جائے ۔

2- درک الشقاء۔ بدبختی کی پستی ۔
بد بختی یہ سعادت اور نیک بختی کی ضد اور اپوزٹ ہے ۔
اور یہ بد بختی دنیاوی اور آخروی دونوں کو شامل ہے ۔
یعنی آدمی جسمانی اور دلی طور پر معصیت کا شکار ہوجائے،دنیا اس کے اوپر چھا جائے، اور اللہ کی توفیق سے محروم ہو جائے ۔
اور آخرت کی بدبختی یہ ہے کہ آدمی جہنمی لوگوں میں سے ہو جائے۔
اللہ ہمیں دنیا و آخرت دونوں کی بدبختی سے بچائے

3- سوء القضا۔ یعنی برے خاتمے سے ۔
ایسی برائی جو انسان کی رسوائی کا سبب بن جائے، اور حزن و ملال کی تہوں میں ڈھکیل دے۔
لیکن مسلمان کو چاہئے کہ جب بھی وہ غم و الم یا کسی برائی میں مبتلا ہو تو اسے اچھی اور بری دونوں تقدیر سے راضی ہو کر اللہ پر ایمان رکھتے ہوں گے صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
اسی طرح کسی کی محبت میں آکر ایسا فیصلہ یا غلطی کر بیٹھے جو اس کے لئے دین و دنیا دونوں کے لئے نقصان دہ ہو جائے۔ خاص کر اولاد کے تعلق سے ہمیں عدل و انصاف کو لازم پکڑنا چاہئے ۔

شماتة الاعداء ۔ دشمن کے ہنسنے سے( خوش ہونے سے)
مطلب آدمی کو جب کوئی برائی لاحق ہوتی ہے تو دشمن خوش ہوتا ہے، لہذا اللہ سے دعا کرتے ہوئے ہمیں پناہ مانگنا چاہئے کہ اے اللہ ہمیں ایسی برائی سے بچا، ایسی مصیبت اور رنج و الم سے بچا جس کی وجہ سے دشمن ہمارے اوپر ہنسنے، نعمت حاصل ہو تو حاسد کے حسد سے بچا، دنیاوی دشمن ہو یا دینی دشمن ہوں، اللہ ان کے ہنسی اڑانے سے ہمیں محفوظ رکھ ۔ آمین

اسلامی بھائیو! ہمیں چاہئے کہ ہم خود بھی ایسی بد اخلاقیوں سے بچیں، اور دوسروں کی بھی ان بد اخلاقیوں سے
بچنے کے لئے اللہ سے دعا کریں ۔
اللهمَّ إنِّي أعُوذُ بِكَ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ، وَدَرَكِ الشَّقَاءِ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ۔ آمین۔
صفی الرحمن ابن مسلم بندوی فیضی
جامع عمار بن یاسر۔ الجبیل۔ سعودی عرب
 
Top