بسم الله الرحمن الرحيم
سوال نمبر#032
=========================
سوال:
نیشنلٹی لینا اگر کفر ہے تو اس کے دلاٸل بیان کریں ؟
جواب:
شریعت میں جائز اور نا جائز کا دارومدار نصوص شرعیہ کی روح سے دیکھا جاتا ہے۔ یار دکھیں کہ کسی بھی ملک کی نیشنیلٹی لینا اس کے قانون کی وفاداری کا حلف اٹھائے بغیر ممکن نہیں ہے، جب اپ ان کے قانون کی پاسداری اور وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں تب ہی وہ آپ کو اپنی قوم میں تسلیم کرتے ہیں اور اپ کے لیے تمام تر سہولیات جو ان کے پاس رائج ہے دیتے ہیں، مثال کے طور پر مغربی ممالک میں قومیت حاصل ہونے کے بعد میڈیکل، اولڈ ایج پینشن، مفت تعلیم، اور بین الاقوامی تحافظ وغیرہ ملتا ہے۔
قران کریم میں اللہ عز و جل فرماتے ہیں:
وَلَنۡ تَرۡضٰى عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡ‌ؕ (سورہ بقرہ 120)
یہود و نصاری تم سے ہرگز راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کی ملت میں داخل ہوجاؤ۔
اس آیت میں لن کا لفظ تاکیدی نفی کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی یہ ہرگز ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کی ملت میں داخل ہوجاؤ۔ اگر بقیہ دلائل کی طرف نہ بھی جائیں تو یہ ایک آیت ہی کافی ہے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ کفار یہود و نصاری تم سے خوش اور تمہاری حمایت اور تمہارا خیال ہی اسی وقت رکھیں گے جب انہیں اطمینان ہوجائے کہ تم ان کی ملت میں داخل ہوگئے ہو۔
جب ان کفار یہود و نصاری کے قوانین پر حلف اٹھایا جاتا ہے، تو یہ اس بات کا وعدہ ہے کہ ان کے صف میں یہ بندہ شامل ہے، اور اس کفار ممالک کے ہر قانون کا پاسدار اور وفادار ہے۔ ان کے ملت میں داخل ہوگیا ہے اور اب وہ اس سے راضی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ بھی اس کو پلٹ کر قومیت کے تمام فوائد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں دین اصلا قانون کو کہا جاتا ہے، جیسے اللہ کا دین اسلام ہے جس میں تمام تر قوانین اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہیں، دوسری طرف جمہوریت دین جدید ہے جہاں انسان کے بنائے ہوئے قانون ہوتے ہیں۔ اسی طرح کفار کا دین بھی ان کا قانون ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کی زندگی گزارنے، سزائیں، جرم طے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اسی قانون کے تحت وہ ہم جنس پرستی، زنا بالرضی جیسے قبیح اعمال کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ اور حلف اٹھانے والا ان تمام قوانین کو ماننے پر قسم/حلف کھاتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر کوئی یہ کہے کہ ہم باطنا ان کے قانون سے راضی نہیں بلکہ صرف دنیاوی فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی قومیت کو اپناتے ہیں، جبکہ دل سے ان کے قانون کو غلط جانتے ہیں، اللہ عز و جل اپنی کتاب مقدسہ میں فرماتے ہیں:
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا يَقُوۡلُوۡنَ لِاِخۡوَانِهِمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَٮِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًاۙ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَـنَنۡصُرَنَّكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ‏ (سورہ حشر)
کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں
غور فرمائیں کہ اللہ عز و جل خود فرماتے ہیں کہ یہ اہل کتاب سے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم سے کسی نے جنگ کی یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیں گے۔ اللہ عز وجل خود گواہی دیتے ہیں کہ یہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں صرف اس لیے کہ یہ ان سے ان کا فائڈہ اٹھانا چاہتے ہیں اور تب بھی اللہ کے نذدیک یہ لوگ ان ہی میں شمار مانے جاتے ہیں
جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں:
اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمؕۡ مَّا هُمۡ مِّنۡكُمۡ وَلَا مِنۡهُمۡۙ وَيَحۡلِفُوۡنَ عَلَى الۡكَذِبِ وَهُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ‏ (سورہ مجادلہ)
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں۔ اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں۔
اصل بنیاد ہی اس بات کی ہے کہ مسلمان اللہ تعالی کے قانون کو چھوڑ کر کسی بھی قانون کا وفادار نہیں ہوسکتا۔ اب چاہے وہ کفریہ قانون، غیر اللہ کا قانون نام نہاد مسلمان ملکوں میں رائج ہو یا خود کفار ممالک میں رائج ہو۔
علمائے حق اور اسلاف کا فتوی ہے کہ مسلمان کو مطلقا کسی بھی کافر ملک کی قومیت کو اختیار کرنا جائز نہیں اور یہ سبب ارتداد ہے ۔ اس پر کسی بھی آئمہ سلف کا کوئی بھی اختلاف نہیں ہے، البتہ آئمہ سلف کے درمیان اس شخص کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے جو شخص مکرہ ہو، یعنی وہ شخص جو اتنا مجبور کردیا جائے کہ اس کی جان خطرے میں پڑ جائے۔ اسلاف کے درمیان اس بات پر اختلاف نہیں کہ کفری قومیت کو اختیار کرنا جائز یا ناجائز ہے بلکہ اس بات پر اختلاف ہے کہ وہ شخص جس کواپنے ملک میں اپنی حکومت سے جان و عزت کا خطرہ ہو کیا اس کے لیے کفری قومیت کا اپنانا ارتداد کا باعث ہوگا یا نہیں؟ اس حوالے سے علماء کے دو اقوال ہیں:۔
1 علماء اسلاف کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ مجبوری بھی ہو تب بھی محض قومیت اپنانے سے وہ مرتد ہوجائے گا
2 علماء اسلاف کا دوسرا گروہ اس بات کا قائل ہے کہ وہ مکرہ کے حکم میں آتا ہے، یعنی جان بچانے کے لیے اسے رخصت عطا کی گئی ہے کہ وہ ایسے کام کا رتکاب کرے
جیسے کہ قران کریم میں بیان ہے :۔
مَنۡ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنۡۢ بَعۡدِ اِيۡمَانِهٖۤ اِلَّا مَنۡ اُكۡرِهَ وَقَلۡبُهٗ مُطۡمَٮِٕنٌّۢ بِالۡاِيۡمَانِ وَلٰـكِنۡ مَّنۡ شَرَحَ بِالۡكُفۡرِ صَدۡرًا فَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ
جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے جو مجبور کیا جا ےٴ اور اس کا دل ایمان پر جما ہوا ہو (سورۃ نحل-106)
اس میں بھی علماء سلف نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ مجبوری کی حالت میں بھی اسے قومیت اپنانے کی ایسی کوئی ضرورت نہیں پڑتی، ہاں البتہ اگر اس کے ساتھ ایسا معاملہ ہو کہ وہ اپنے قوم و ملک میں لوٹ کر کبھی نہیں جاسکتا ہو، اگر وہ واپس لوٹنے کا ارادہ کرے تو اس پر ظلم کیا جائے گا یا قتل کر دیا جائے گا، اور اس کفار ملک میں رہ کر وہ اسلام کی سر بلندی یا اپنے دین پر عمل کرنے سے قاصر نہیں ہے تو اس کو اجازت ہے۔
سب سے پہلی بات یہ کہ مطلقا کسی بھی کافر ملک کی قومیت اختیار کرنا ناجائز ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ جب آپ قومیت اختیار کرتے ہیں تو آپ ان کفار کے فرد میں سے ایک فرد بن جاتے ہیں، ان کے قوم کا ایک حصہ اپنے اختیار اور چاہ سے بن جاتے ہیں، اس قوم کا حصہ بننے کے لیے وہ حلف اٹھاتا ہے کہ وہ ان کے قانون کا پابند ہے ، اور ان کا وفادار ہے، بالکل ایسے ہی جیسے کوئی مسلمان کافر فوج میں شامل ہوتا ہے۔جس طرح فوج میں ہر فوجی احکام کا پابند ہے خواہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہو اسی طرح کوئی بھی مسلمان جب کفری ممالک کی قومیت اختیار کرتا ہے تو وہ بھی کفار کے ہر قانونی حکم کا پابند ہے خواہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بالخصوص آج کے وقت میں جب تمام کفری ملتیں اسلام کے خلاف واضح دشمنی پر اتر آئی ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے نام و نشان کو مٹانے کی بھر پور کوشش میں لگی ہوئی ہے ایسے وقت میں ان کی قومیت کو حاصل کرنا اور ان کے قانون کا حلف اٹھانا ان ہی میں شامل ہونا ہے، ان ہی کے صف کا حصہ بننا ہے اور اسلام و مسلمان کے خلاف دشمنی میں کھڑا ہونا ہے۔پھر کفریہ قانون پر حلف اٹھانا تحاکم الی الطاغوت کہلاتا ہے یعنی اپنے زندگی کے فیصلے کفری قوانین سے کروانا جبکہ مسلمان کو حکم ہے کہ طاغوت کا انکار کرے۔جیسا کہ اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا :۔
پھر اللہ تعالی اپنی مقدس کتاب میں فرماتے ہیں :
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلیَ الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُْوْا بِہٖوَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُظِلَّہُمْ ضَلَالًا بَعِیْدًا (النساء: ۶۰)
"وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے و مقدمات طاغوت کے پاس لے جائیں جبکہ انہیں حکم یہ دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہت بڑی گمراہی میں مبتلا کر دے-"
اب جب کوئی مسلمان کفری ممالک کی قومیت اپناتا ہے وہ ان کے ہر قانون سے اپنے آپ کو راضی ظاہر کرتا ہے جیسے کفری قوم کا حصہ بننے کے بعد آپ پابند ہیں کہ آپ نہ اپنے بچوں کو اور نہ ہی کسی کو لواطت کے عمل سے ، شراب نوشی کے عمل سے روکیں منع کریں یا اسے تنبیہ کریں، ایک مسلمان بھی کفری قانون کے تحت ان لوگوں کے خلاف مقدمہ دائر کرسکتا ہے جو اسے ان قبیح کاموں سے روکنے کی کوشش کرے۔ کیونکہ قومیت اختیار کرنے کا مطلب ہر قسم کی مذھبی سوچ سے آزاد ہو کر ان کے قوانین کو تسلیم کرنا ہے ۔
اب اگر کوئی کہے کہ ہماری تربیت ایسی ہے کہ ہم یا ہمارے متعلقین ایسے افعال نہیں کریں گے تو بات یہاں آپ کے انفرادی تربیت کی نہیں بلکہ اس قانون پر حلف اٹھا کر اس بات کو تسلیم کرنے کی ہے کہ آپ نے اس قانون کے ہر شق کو درست مانا ہے۔ گویا ایک کافر قوم کے فرد ہونے کے ناطے آپ کے نذدیک کافر کے بنائے ہوئے قانون درست ہیں۔ یہ ایک عقلی اور عرف کی بات ہے کہ جو جس قوم سے ہوتا ہے وہ اس کے تمام قوانین کا ماننے والا اور ان کا حصدار ہوتا ہے اگرچہ وہ یہ کہے کہ اگر کافر حکومت نے فلاں فلاں قانون بنایا تو میں اس کو ماننے والا نہیں ہوں یا اگر فلاں قانون ابھی موجود ہے تو میں اس کو تسلیم نہیں کرتا، جیسے جب آپ گاڑی خریدتے ہیں تو عرف میں اس کے ساتھ اس کی سیٹیں ، اس کے پہئیے، اس کے شیشے اس کا اسٹیرنگ سب ساتھ ملے گا، اگرچہ گاڑی خریدتے وقت اس کے کاغذات میں گاڑی کی یہ تمام چیزیں درج نہیں ہوتی کہ گاڑی کے ساتھ اس نے اس کی بھی ملکیت حاصل کی ہے۔ بس جب کوئی کفری قانون اختیار کرتا ہے وہ اس قوانین کے تمام شرکیہ اور کفریہ قوانین کے ساتھ اسےتسلیم کرتا ہے حلف آٹھاتا
ہے کہ وہ ان کو درست انتا ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کرے گا اور اس کے ساتھ وفاداری کرے گا۔۔
لھذا جو شخص مکرہ (یعنی جسے جان کا خطرہ نہ و) اس کے لیے مطلقا جائز نہیں کے وہ کسی بھی وجہ سے کفری ممالک کی قومیت کو اختیار کرے۔ 60سال پہلے تک علماء حق میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا کہ مسلمان کفری ممالک کی قومیت نہیں اپنا سکتا۔ یہ بعد اختلاف رونما ہوئے جب مسلمان خود اپنے ملکوں میں کفری قوانین کو مسلط کرنے لگے اور علماء سوء نے ان کفری قوانین کا ادب اور ان کا احترام کرنے کا حکم جاری کیا۔ جب مسلمان کو اس بات ہی احساس نہیں دیا کہ اسلامی ملک میں شریعت کا نافذ ہونا واجب ہے تو پھر اب ایک کافر ممالک کی قومیت نہ اپنانے میں اور نام نہاد مسلم ممالک میں چلنے والے کفری قانون میں کیا فرق رہا؟ اس وجہ سے علماء سوء نے کفری ممالک کی قومیت کو اختیار کرنے میں بھی کسی قباحت کا اظہار نہیں جب تک مسلمان نماز روزے کا پابند ہے۔
اب ہم آپ کے سامنے کچھ آیات اور احادیث بطور دلیل پیش کریں گے جس سے کفری اقوام کے درمیاں رہنا ممنوع بتایا گیا ہے۔
اللہ تعالی اپنی مقدس کتاب میں فرماتے ہیں :
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اس آیت میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے مراد یہ ہی ہے کہ اس زمین پر رہتے ہوئے اللہ تعالی کے اوامر اور منہیات پر عمل کرنے سے قاصر تھے۔ آج کفری ملک میں جا کر بسنے والے مسلمان کس منکر کو روکنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ کیا وہاں پر پھیلی ہوئی شرکیہ عبادات خواہ وہ کرسمس تھنکس گونگ یا اسٹر کے نام پر مانایا جاتا ہو یا عام فحاشی، ننگ پن، شراب نوشی، بد فعلی، لواطت وغیرہ جیسے کسی بھی کام کو ان کی قومیت اختیار کرنے کے بعد روکنے پر قادر ہے؟ نہیں! بلکہ ان کی قومیت حاصل کرتے وقت وہ ان کے لیے حلف اٹھاتا ہے کہ اس ملک میں رائج ہر قانون ، رسم و رواج کو قبول کرتا ہے۔ اور وہ آزادی رائے، آزادی مذھب کو ماننے والا ہے۔
پھر اللہ تعالی اپنی مقدس کتاب میں فرماتے ہیں :
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْا اِلیَ الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُْوْا بِہٖوَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُظِلَّہُمْ ضَلَالًا بَعِیْدًا (النساء: ۶۰)
"وہ چاہتے ہیں کہ اپنے فیصلے و مقدمات طاغوت کے پاس لے جائیں جبکہ انہیں حکم یہ دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہت بڑی گمراہی میں مبتلا کر دے-"
کافر ممالک میں بسنے والے اور ان کی قومیت کو اختیار کرنے والے ان ہی کے کفری عددالتوں کے پابند ہوتے ہیں، خواہ وہ کوئی بھی معاملہ ہو۔ اسلام کے بنائے گئے قوانین کو چھوڑ کر وہ ان قوانین و عدالتی فیصلوں کی تابعداری کرتا ہے جسے کفار نے تشکیل دئے ہوتے ہیں، اور یہ ہی تحاکم الی الطاغوت ہے۔ طاغوت ہر اس ذات کو کہا جاتا ہے جس کی آپ اللہ تعالی کو چھوڑ کر پیروی کریں۔ اور کفری حکومتیں اور ان کی عدالتیں طاغوت کے زمرے میں آتے ہیں۔ اپنے مقدمات ان کفری عدالتوں میں لے جانا بھی پہلی آیت کے مطابق اپنی جانوں پر ظلم کرنا ہے، اور اس بات کا سبب بننا ہے کہ مرتے وقت اس کی روح فرشتوں کے مار کٹائی کے ساتھ نکالی جائے، اور اس کا ٹھکانا جہنم مقرر کردیا جائے جیسے کہ اوپر کی آیت میں اللہ رب العزت نے فرمایا۔ اللہ تعالی فرماے ہیں :۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ
اور اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں:۔
لَا يَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ اللّٰهِ فِىۡ شَىۡءٍ
مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں مسلمانوں کے سوا (ف۶۰) اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کچھ عہد نہ رہا (سورۃ ال عمران-28)
یہ آیت واضح ہے اپنے معنی میں ، اللہ سبحانہ تعالی نے مومنوں کو کافروں کو اپنا ولی، نگہبان،اپنے اوپر ان کو دسترس دینے سے منع فرمایا ہے۔ اور جس نے ایسا کیا اللہ سبحانہ تعالی اس سے برات کا اعلان کرتے ہیں ان کے ارتداد کے سبب۔تفسیر طبری میں ہے ابو جعفر رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : کہ یہ آیت مومنوں کے لیے نہی کا حکم ہے کہ وہ کافر کو اپنا مددگار، حمایتی یا ان سے کسی قسم کی معاونت حاصل کریں۔ آگے آیت میں اللہ عز و جل فرماتے ہیں اِلَّاۤ اَنۡ تَتَّقُوۡا مِنۡهُمۡ تُقٰٮةً ۔(ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو) یعنی اگر تم مجبور ہو کہ تم ان کی زمینوں میں رہو اور تم کہیں اور نہ ہجرت کرسکو یا اپنے وطن جانے پر تمہاری جان کو خطرہ ہو،یا تم اسی وطن کے باشندے ہو لیکن مسلمان ہوگئے ہو اور تمہارے پاس اور کوئی راستہ نہیں کہ ان سے اپنی جان چھڑا سکو تو پھر اپنے بچاؤ کی صورت یہ کرسکتے ہو کہ زبان سے ان کی طرف نرمی دکھاؤ لیکن دل سے ان سے نفرت اور بغض رکھو اور موقع پاتے ہی ان کی سربراہی میں سے نکلنے کی کوشش کرو، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :۔" لا يتخذ المؤمنون الكافرين أولياء من دون المؤمنين " جب تک کہ تم ان کے اختیار میں نہ ہو اور اپنے لیے ان سے ڈرو، پس تم اپنی زبانوں سے ان کی ولایت کرو، اور ان سے دشمنی رکھو، اور جس کفر پر وہ فائز ہیں اس پر ان کے ساتھ شریک نہ ہو اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف ان کے حامی و مددگار مت بنو۔
آج جو مسلمان نام نہاد مسلم ملکوں کو چھوڑ کر کفار ممالک کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور وہاں ایک بہتر زندگی اور ترقی کے مواقع کی تلاش میں ان کی قومیت اپناتے ہیں وہ نہ مجبور ہیں اور نہ ہی ان کے جان کو اپنے وطن و ملک میں کوئی خطرہ ہے۔ محض اپنی دنیاوی زندگی کی ترقی کے لیے وہ کافروں کو وفاداری حلف دیتے ہیں اور ان کے صفوف میں شامل ہوتے ہیں۔ نہ صرف ان کی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ ان کی خدمت کر کے ان کے معاشی مدد کرتے ہیں، اور یہ ہی کفار کے ممالک پھر ان ہی کی خدمتوں کے بدولت پھر مسلمانوں کے ملکوں میں جاکر امت و اسلام کے خلاف خون ریز جنگ کرتے ہیں۔ جب بھی کبھی کسی زمین پر نفاذ شریعت کا نعرہ بلند کیا گیا یہ کفار ممالک سب سے پہلے مسلمانوں کا خون بہانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں اور بلا تفریق و تمیز خون کی ندیاں بہاتے ہیں۔ پھر اے مسلمانوں کیا تمہارا ان کی قومیت اختیار کرنا اور ان کے ملکوں میں جاکر اپنی زندگی کی شب و روز گزارتےہوئے ان کی نوکری چاکری کرنا مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینا ہوا؟
اللہ تعالی حج اکبر کے دن یہ اعلان کرواتے ہیں کہ مشرکین اور کافر نجس ہیں اور انہیں اس زمین پر قدم رکھنے کی ہرگزز اجازت نہیں جسے اللہ تعالی نے مقدس بنایا ہے، اب مسلمان اپنی معاشی ترقی کے لیے ان ہی مشرکین قوموں کی قومیت اپنانے دوڑے چلے جاتے ہیں، انہیں کا حصہ، ان ہی کے قوانین کے وفادار بننے کو ترقی اور کامیابی سمجھتے ہیں۔ جسے اللہ تعالی نے اپنی زمین سے دھتکار کر نکال دیا ہم ان ہی کی زمین پر اپنی زندگی گزارنے کے لیے بھاگے جاتے ہیں، ان ہی کی غلامی کرنے کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالی فرماتےہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (المائدہ- 51)
اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا-
اور اسی طرح اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں:
یااَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ؕ اَتُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِيۡنًا (سورۃ نساء-144)
اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟
یہ آیات کفار کے ساتھ موالات کرنے پر ممانعت کی دلیل ہے ۔ موالات میں کافروں کی بدنی مدد کرنا، لسانی مدد کرنا، مالی مدد کرنا، ان سے محبت کرنا، ان سے دوستی کرنا ، ان کے سات حلف اٹھانا اور ان کے اتحاد میں شامل ہونا، اسی طرح ان کی اطاعت کرنا اور ان ے طرف میلان کرنا۔ یہ تمام امور موالات میں شامل ہیں اور یہ مومنوں پر حرام ہیں۔
ان آیات میں اللہ تعالی واضح حکم فرمارہے ہیں کہ جو کوئی بھی ان کفار کے ساتھ جا ملے گا، ان کے ساتھ دوستی کرے گا، ان کا کسی بھی طریقہ سے ساتھ دے گا وہ ان ہی میں سے ہوگا یعنی ان ہی کفار میں سے ہوگا۔ جو کوئی بھی مومنوں کو چھوڑ کر کفا رمیں جا ملے گا اللہ تعالی کو اپنے خلاف ایک صریح دلیل پیش کرے گا، اللہ تعالی ایسے لوگوں کو ظالم کہتے ہیں ، ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کیا یہ اپنے اوپر اللہ تعالی کا عذاب لازم کرنا چاہتے ہیں؟ اور اللہ عز و جل کا عذاب بلا دلیل نہیں آتا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفار قوم میں شامل ہو کر اللہ کو اپنے اوپر خود ایک واضح دلیل دے دی۔شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب جب نواقض الاسلام ذکر کرتے ہیں تو فرماتے ہیں:
وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
اس طرح کی حکومتوں کے ساتھ موالات میں یہ بھی آتا ہے کہ ایک آدمی اس کے ساتھ نوکری کریں یا مال کمانے کے لیے یا اولاد کی وجہ سے یا ڈر کی وجہ سے یا وطن کی حفاظت کے لیے اگرچہ حکومت کے قبضے میں نہ ہوں۔۔۔۔ یعنی اپنے اختیار سے یہ نوکری کر رہا ہو تو ایسا شخص مرتد واجب القتل ہے
آگے فرماتے ہیں :
دوسری وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص مشرکوں کے ساتھ دوستی کریں چاہے اس کے دل میں ان سے نفرت ہی کیوں نہ ہو، اور وہ مشرکوں کے قبضے میں نہ ہوں (یعنی اپنے اختیار سے نوکری کرتا ہو) اور کام کو صرف اپنی طمع یا مال یا وطن یا اپنے اہل و عیال کے خاطر ہو یا اس ڈر کی وجہ سے ہو جیسے آئیندہ میں کوئی نقصان لازم نہ آئے تو یہ شخص اسی حالت میں مرتد ہے، اس شخص کی باطنی مخالفت مشرکین کے ساتھ کوئی فائدہ نہیں دیتا اور اس طرح شخص کے بارے میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :
یہ اسی وجہ سے کہ ان لوگوں نے دنیاوی زیندگی کو ترجیح دی آخرت کی زندگی پر اور اللہ تعالی ہدایت نہیں کرتا کافر قوم کو
اللہ تعالی سورۃ مائدہ میں فرماتے ہیں :
فَتَرَى الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوۡنَ فِيۡهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰٓى اَنۡ تُصِيۡبَـنَا دَآٮِٕرَةٌ‌ ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَؕ (53)
تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
اس آیات کے شان نزول میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک یہ آیت عبد اللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں اتریں جس نے یہودیوں کے ساتھ دوستیاں لگائی ہوئی تھیں، اور جب ایک صحابی نے یہودیوں سے اپنی دوستی توڑنے کا اعلان کیا تو اس منافق نے ان سے کہا کہ میں اپنا آگے پیچھے دیکھتا ہوں کہ کب کیا معاملہ ہوجائے۔ اسی طرح بعض کے نزدیک جنگ احد کے بعد ایک نے کہا کہ میں یہودیوں کے ساتھ دوستی کروں گا تاکہ ان سے نفع حاصل کرسکوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نصرانی سے دوستی کروں گا، اس گمان پر کہ اگر مسلمانوں کو کوئی خسارہ ہوتا ہے تو یہودیوں اور نصرانیوں سے مدد و نفع مل جائے گا۔ آج بھی مسلمانوں کا یہ ہی حال ہے کہ جب خلافت نہ رہی تو بجائے خلافت کے قیام کی جد و جہد کرتے کفر اور طاغوت کی غلامی قبول کرتے ہوئے ان سے نفع حاصل کرنے لیے ان کی طرف دوڑتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی قومیت حاصل کر کے یہ امید کرتے ہیں کہ یہ کفری حکومتیں ان کو بھی ایسی ہی سہولتیں دیں گے جیسے وہ اپنے کفار کو دیتے ہیں ۔
اسی کی اگلی آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں :
وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَهٰٓؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ‌ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ‏
اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے
پچھلی آیت میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ، کہ یہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ کفار کی طرف اس لیے بھاگے جاتے ہیں کہ ان پر زمانہ کی کوئی مصیبت نہ آجائے۔ آج کے مسلمان بھی مسلمان زمینوں کو چھوڑ کر کفار کے ملکوں میں دوڑے چلے جاتے ہیں اس خوف سے کہ اپنے ملک میں ان کا کھانا پینا مکمل نہیں ہوگا، ان کے خرچے پورے نہیں ہوتے انہیں یہاں وہ ترقیاں نہیں مل سکتی۔ اپنے اہل و عیال کی بہتر زندگی ، بہتر مستقبل اور معاشی ترقی کے حصول کے لیے کافر و مشرکوں کی بدنی غلامی، معاشی غلامی کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کی معاشری و اقتصادی کمزوری کو دیکھتے ہوئے کافر و مشرکین کا حلف اٹھاتے ہیں اور ان کے درمیان رہائش اختیار کرتے ہیں، پھر اللہ تعالی اسی آیت میں فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگی، یا اللہ تعالی ان کے لیے کسی دوسرے معاملے کا حکم فرمائے گا یعنی کفار ذلیل ہو کر خود جزیہ دینے آئیں گے تب یہ مسلمان جو کفار کی طرف دوڑے بھاگے تھے شرمندہ ہوں گے لیکن ان کی یہ شرمندگی اب کوئی فائدہ نہیں ہوگاکیوں ؟ کیونکہ اللہ تعالی نے اگلی آیت میں فرمایا کہ ان کے تمام اعمال غارت ہو گئے ہوں گے۔آج بھی افسوس مسلمانوں کا یہ ہی حال ہے ، اگرچہ آج دنیا میں کہیں اسلامی ریاست قائم نہیں ہے، لیکن اس کے قیام کے لیے بھی مسلمان محنت نہیں کرتے، اور جو مسلمان ممالک ہیں اس کو بھی اقتصادی کمزوریوں کی وجہ سے چھوڑ کر کفار کی قومیت اپناتے ہیں اس لالچ میں کہ وہاں سے انہیں نفع حاصل ہوگا، خواہ وہ مالی نفع ہو یا رہائش کی سہولتیں ہوں۔ لیکن اسی بہتر دنیا کی خاطر کفار کی بدنی و معاشی مدد کرتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف آج جنگ میں مصروف ہیں، خود کفار کی قومیت اپنے سے اختیار کرنے والا گویا کفار و مشرکین کے ہی طرفداری کرنے والا ہے، مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والا، کیونکہ ان کی قومیت کا حلف اٹھا کر وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ و ہ حق اور باطل کے معرکے میں کفار کے ساتھ کھڑا ہے ان کا وفادار ہے! اسی وجہ سے اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان کے تمام اعمال غارت گئے، وہ اسلام سے خارج ہوگئے کیونکہ انہوں نے آخرت کی زندگی پر دنیا کو ترجیح دی اور اس لالچ میں کفار کے ساتھ موالات اختیار کرتے ہیں۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں :
وَلَنۡ تَرۡضٰى عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡ‌ؕ
اور تم سے یہود و نصاری کبھی راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کی دین کی اتباع نہ کرلو! (سورۃ بقرۃ)
پہلی آیت جو ذکر کی گئی ہے وہ اس بات پر دال ہے کہ یہود و نصاری اس وقت تک آپ کو اپنے درمیان قبول نہیں کریں گے یا آپ سے دوستی نہیں کریں گے جب تک آپ ان کے دین کو نہ مان لیں۔ اب آپ غور فرمائیں، جب ایک مسلمان نیشنیلٹی اپنانے جاتا ہے تو اسے حلف لینے کہا جاتا ان کے قانون کے مطابق۔ اس حلف ہی کے ذریعے مسلمان ان کفار کو یقین دلاتا ہے کہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر ان میں شامل ہوگیا ہے، بھلا جس کے بارے میں اللہ عز و جل فرماچکے کہ یہ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی ملت میں نہ داخل ہوجاؤ، تو آپ اگر اپنے دین پر قائم رہوگے وہ آپ کو کیوں اور کس خوشی میں وہ تمام تر سہولیات نوازیں گے جو وہ اپنے ملت کے لوگوں کے دیتے ہیں؟ کبھی اے مسلمانوں غور کیا کہ جب تم ان کا حلف اٹھاتے ہو وہ تمہیں اپنا شہری مان کر تمہیں وہ تمام تحافظ دیتے ہیں جو وہ اپنے ہم دین کو دیتے ہیں یہاں تک کہ اگر ان کی قومیت کا بندہ اگر کسی دوسرے ملک میں کسی کیس میں پھنس جائے تو یہ کفری حکومت اپنے شہری کو تحافظ دینے کے لیے فورا حرکت میں آجاتے ہیں۔ایسا اس لیے کہ اللہ عز و جل نے صاف اور واضح فرمادیا کہ یہ تم سے اس وقت ہی راضی ہوں گے جب تم اپنا دین چھوڑ کر ان کے ملت اور دین میں شامل ہوجاؤ گے۔
اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں (سورۃ ال عمران-118)
ۨالَّذِيۡنَ يَتَّخِذُوۡنَ الۡـكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ؕاَيَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَهُمُ الۡعِزَّةَ فَاِنَّ الۡعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًاؕ
وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے (سورۃ نساء-139)
آج مسلمانوں کا حال یہ ہی کہ جب ان کفری قوموں کی قومیت اختیار کرتے ہیں تو ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، اور معاشرہ بھی انہیں بڑی عزت کی نظر سے ویکھتے ہیں۔ اللہ مستعان
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔
"مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرو، ان کے ساتھ میل جول نہ رکھو، جس شخص ان کے ستاھ رہائش اختیار کرے اور ان کے ساتھ میل جول رکھے وہ بھی انہی کے مانند ہوگا" (سنن ترمذی، کتاب السیر،-1530)
اسی طرح حضرتجریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خثعم قبیلے کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کیا، کچھ لوگوں نے سجدے کے ذریعے بچنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے انہیں تیزی سے قتل کردیا اس بات کی اطلاع نبی ﷺ کو ملی تو آپ ﷺ نے ان کی نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:
میں ہر ایسے مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے" ( سنن ترمذی کتاب السیر)سوال گھر, [5/14/22, 6:20 AM]
آج بھی افسوس مسلمانوں کا یہ ہی حال ہے ، اگرچہ آج دنیا میں کہیں اسلامی ریاست قائم نہیں ہے، لیکن اس کے قیام کے لیے بھی مسلمان محنت نہیں کرتے، اور جو مسلمان ممالک ہیں اس کو بھی اقتصادی کمزوریوں کی وجہ سے چھوڑ کر کفار کی قومیت اپناتے ہیں اس لالچ میں کہ وہاں سے انہیں نفع حاصل ہوگا، خواہ وہ مالی نفع ہو یا رہائش کی سہولتیں ہوں۔ لیکن اسی بہتر دنیا کی خاطر کفار کی بدنی و معاشی مدد کرتے ہیں جو مسلمانوں کے خلاف آج جنگ میں مصروف ہیں، خود کفار کی قومیت اپنے سے اختیار کرنے والا گویا کفار و مشرکین کے ہی طرفداری کرنے والا ہے، مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والا، کیونکہ ان کی قومیت کا حلف اٹھا کر وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ و ہ حق اور باطل کے معرکے میں کفار کے ساتھ کھڑا ہے ان کا وفادار ہے! اسی وجہ سے اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں کہ ان کے تمام اعمال غارت گئے، وہ اسلام سے خارج ہوگئے کیونکہ انہوں نے آخرت کی زندگی پر دنیا کو ترجیح دی اور اس لالچ میں کفار کے ساتھ موالات اختیار کرتے ہیں۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں :
وَلَنۡ تَرۡضٰى عَنۡكَ الۡيَهُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمۡ‌ؕ
اور تم سے یہود و نصاری کبھی راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کی دین کی اتباع نہ کرلو! (سورۃ بقرۃ)
پہلی آیت جو ذکر کی گئی ہے وہ اس بات پر دال ہے کہ یہود و نصاری اس وقت تک آپ کو اپنے درمیان قبول نہیں کریں گے یا آپ سے دوستی نہیں کریں گے جب تک آپ ان کے دین کو نہ مان لیں۔ اب آپ غور فرمائیں، جب ایک مسلمان نیشنیلٹی اپنانے جاتا ہے تو اسے حلف لینے کہا جاتا ان کے قانون کے مطابق۔ اس حلف ہی کے ذریعے مسلمان ان کفار کو یقین دلاتا ہے کہ وہ اپنے دین کو چھوڑ کر ان میں شامل ہوگیا ہے، بھلا جس کے بارے میں اللہ عز و جل فرماچکے کہ یہ تم سے اس وقت تک راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کی ملت میں نہ داخل ہوجاؤ، تو آپ اگر اپنے دین پر قائم رہوگے وہ آپ کو کیوں اور کس خوشی میں وہ تمام تر سہولیات نوازیں گے جو وہ اپنے ملت کے لوگوں کے دیتے ہیں؟ کبھی اے مسلمانوں غور کیا کہ جب تم ان کا حلف اٹھاتے ہو وہ تمہیں اپنا شہری مان کر تمہیں وہ تمام تحافظ دیتے ہیں جو وہ اپنے ہم دین کو دیتے ہیں یہاں تک کہ اگر ان کی قومیت کا بندہ اگر کسی دوسرے ملک میں کسی کیس میں پھنس جائے تو یہ کفری حکومت اپنے شہری کو تحافظ دینے کے لیے فورا حرکت میں آجاتے ہیں۔ایسا اس لیے کہ اللہ عز و جل نے صاف اور واضح فرمادیا کہ یہ تم سے اس وقت ہی راضی ہوں گے جب تم اپنا دین چھوڑ کر ان کے ملت اور دین میں شامل ہوجاؤ گے۔
اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَةً مِّنۡ دُوۡنِكُمۡ لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوٰهِهِمۡ وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌ؕ قَدۡ بَيَّنَّا لَـكُمُ الۡاٰيٰتِ‌ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ
مومنو! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازداں نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی اور (فتنہ انگیزی کرنے) میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہوہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنا دی ہیں (سورۃ ال عمران-118)
ۨالَّذِيۡنَ يَتَّخِذُوۡنَ الۡـكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ؕاَيَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَهُمُ الۡعِزَّةَ فَاِنَّ الۡعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًاؕ
وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا ان کے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں تو عزت تو ساری اللہ کے لیے ہے (سورۃ نساء-139)
آج مسلمانوں کا حال یہ ہی کہ جب ان کفری قوموں کی قومیت اختیار کرتے ہیں تو ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، اور معاشرہ بھی انہیں بڑی عزت کی نظر سے ویکھتے ہیں۔ اللہ مستعان
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔
"مشرکین کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرو، ان کے ساتھ میل جول نہ رکھو، جس شخص ان کے ستاھ رہائش اختیار کرے اور ان کے ساتھ میل جول رکھے وہ بھی انہی کے مانند ہوگا" (سنن ترمذی، کتاب السیر،-1530)
اسی طرح حضرتجریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خثعم قبیلے کی طرف ایک جنگی مہم روانہ کیا، کچھ لوگوں نے سجدے کے ذریعے بچنے کی کوشش کی لیکن مسلمانوں نے انہیں تیزی سے قتل کردیا اس بات کی اطلاع نبی ﷺ کو ملی تو آپ ﷺ نے ان کی نصف دیت ادا کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:
میں ہر ایسے مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے" ( سنن ترمذی کتاب السیر)
سوال گھر, [5/14/22, 6:20 AM]
پھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں :
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ۚ وَهُوَ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ دینا اپنائے اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (سورۃ ال عمران)
یہ کفار تم سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ملت کو چھوڑ کر ان کے ملت میں داخل نہ ہوجاؤ، اور اللہ عز و جل فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوگا اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا جو وقتی طور پر دنیا میں کچھ فائدہ اٹھالے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے ہم ملت اور قوم کے ساتھ ہی وہ جھنم کا ایندھن بنے گا۔
علماء کے فتوے
اسی سلسلے میں مختلف علماء کے فتوے بھی ملاحظہ ہوں :۔
سوال:کیا مسلمان کے لیے کافر ممالک کی قومیت کو حاصل کرنا جائز ہے، اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنا؟
کمیٹی برائے فتوی کا جواب حسب ذیل تھا:۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کی قومیت اختیار کرے جس کی حکومت کافر ہو۔ کیونکہ یہ ان کی وفاداری کا ذریعہ ہے اور باطل پر ان کے ساتھ موافقت کرنا ہے۔ جہاں تک شہریت لیے بغیر رہائش کا تعلق ہے بنیادی اصول یہ کہ یہ ممنوع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔ انا برئ من کل مسلم یقیم بین المشرکین۔
اور اس طرح کو اور احادیث بھی موجود ہیں، اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ بلاد الشرک سے ہجرت کرنا واجب ہے بلاد الاسلام کی طرف جب استطاعت موجود ہو۔لیکن وہ جو دین میں اہل علم و بصیرت ہوں مشرکین کے درمیان اس غرض سے رہتے ہیں کہ انہیں دین اسلام کی طرف آگاہی دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر انہیں اپنے دین میں فتنہ کا اندیشا نہ ہو اور وہ ان (کفار) پر اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کی امید بھی رکھتا ہو۔
و باللہ التوفیق، و صلی اللہ علی نبینا محمد، و الہ و صحبہ وسلم
ابن حزم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :یہ بات درست ہے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(سورۃ مائدہ-51)
یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی یہ کافر کفار کے عمومی گروہ میں شامل ہے، اور یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر کوئی دو مسلمان آپس میں اختلاف نہیں کرتا۔ (الحلی- 138/11)
شیخ عبد الطیف ابن عبد الرحمن ابن حسن رحمہ اللہ نے کفار کے ساتھ بغض کی فرضیت اور ان سے برات کے بارے میں بات کرنے کے بعد فرمایا:۔
تو ان کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے ان کی مدد کی یا انہیں اسلام کی زمین پر لایا یا ان کی تعریف و تحمید کی یا انہیں اہل اسلام ہر عدل و انصاف پر ترجیح دی اور ان کی زمین اور ان کی سکونت کی جگہ اور ان کے بیعت میں آئے اور ان کی فتحپر خوش ہوئے۔ یہ واضح ارتداد ہے جس پر (تمام علماء کا) اجماع ہے۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
جو کوئی بھی ایمان سے پھر جائے اس کے تمام اعمال تباہ ہوگئے اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (الدررالسنیہ-326/8)
عبد اللہ بن باز اپنے فتاوی میں کہتے ہیں :۔
علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرے گا اور ان کی مدد کسی بھی طریقے سے کی جائے گی وہ ان ہی کی طرح کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕپھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں :
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ۚ وَهُوَ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ دینا اپنائے اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (سورۃ ال عمران)
یہ کفار تم سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ملت کو چھوڑ کر ان کے ملت میں داخل نہ ہوجاؤ، اور اللہ عز و جل فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوگا اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا جو وقتی طور پر دنیا میں کچھ فائدہ اٹھالے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے ہم ملت اور قوم کے ساتھ ہی وہ جھنم کا ایندھن بنے گا۔
علماء کے فتوے
اسی سلسلے میں مختلف علماء کے فتوے بھی ملاحظہ ہوں :۔
سوال:کیا مسلمان کے لیے کافر ممالک کی قومیت کو حاصل کرنا جائز ہے، اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنا؟
کمیٹی برائے فتوی کا جواب حسب ذیل تھا:۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کی قومیت اختیار کرے جس کی حکومت کافر ہو۔ کیونکہ یہ ان کی وفاداری کا ذریعہ ہے اور باطل پر ان کے ساتھ موافقت کرنا ہے۔ جہاں تک شہریت لیے بغیر رہائش کا تعلق ہے بنیادی اصول یہ کہ یہ ممنوع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔ انا برئ من کل مسلم یقیم بین المشرکین۔
اور اس طرح کو اور احادیث بھی موجود ہیں، اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ بلاد الشرک سے ہجرت کرنا واجب ہے بلاد الاسلام کی طرف جب استطاعت موجود ہو۔لیکن وہ جو دین میں اہل علم و بصیرت ہوں مشرکین کے درمیان اس غرض سے رہتے ہیں کہ انہیں دین اسلام کی طرف آگاہی دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر انہیں اپنے دین میں فتنہ کا اندیشا نہ ہو اور وہ ان (کفار) پر اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کی امید بھی رکھتا ہو۔
و باللہ التوفیق، و صلی اللہ علی نبینا محمد، و الہ و صحبہ وسلم
ابن حزم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :یہ بات درست ہے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(سورۃ مائدہ-51)
یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی یہ کافر کفار کے عمومی گروہ میں شامل ہے، اور یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر کوئی دو مسلمان آپس میں اختلاف نہیں کرتا۔ (الحلی- 138/11)
شیخ عبد الطیف ابن عبد الرحمن ابن حسن رحمہ اللہ نے کفار کے ساتھ بغض کی فرضیت اور ان سے برات کے بارے میں بات کرنے کے بعد فرمایا:۔
تو ان کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے ان کی مدد کی یا انہیں اسلام کی زمین پر لایا یا ان کی تعریف و تحمید کی یا انہیں اہل اسلام ہر عدل و انصاف پر ترجیح دی اور ان کی زمین اور ان کی سکونت کی جگہ اور ان کے بیعت میں آئے اور ان کی فتحپر خوش ہوئے۔ یہ واضح ارتداد ہے جس پر (تمام علماء کا) اجماع ہے۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
جو کوئی بھی ایمان سے پھر جائے اس کے تمام اعمال تباہ ہوگئے اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (الدررالسنیہ-326/8)
عبد اللہ بن باز اپنے فتاوی میں کہتے ہیں :۔
علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرے گا اور ان کی مدد کسی بھی طریقے سے کی جائے گی وہ ان ہی کی طرح کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕپھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں :
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ۚ وَهُوَ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ دینا اپنائے اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (سورۃ ال عمران)
یہ کفار تم سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ملت کو چھوڑ کر ان کے ملت میں داخل نہ ہوجاؤ، اور اللہ عز و جل فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوگا اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا جو وقتی طور پر دنیا میں کچھ فائدہ اٹھالے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے ہم ملت اور قوم کے ساتھ ہی وہ جھنم کا ایندھن بنے گا۔
علماء کے فتوے
اسی سلسلے میں مختلف علماء کے فتوے بھی ملاحظہ ہوں :۔
سوال:کیا مسلمان کے لیے کافر ممالک کی قومیت کو حاصل کرنا جائز ہے، اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنا؟
کمیٹی برائے فتوی کا جواب حسب ذیل تھا:۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کی قومیت اختیار کرے جس کی حکومت کافر ہو۔ کیونکہ یہ ان کی وفاداری کا ذریعہ ہے اور باطل پر ان کے ساتھ موافقت کرنا ہے۔ جہاں تک شہریت لیے بغیر رہائش کا تعلق ہے بنیادی اصول یہ کہ یہ ممنوع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔ انا برئ من کل مسلم یقیم بین المشرکین۔
اور اس طرح کو اور احادیث بھی موجود ہیں، اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ بلاد الشرک سے ہجرت کرنا واجب ہے بلاد الاسلام کی طرف جب استطاعت موجود ہو۔لیکن وہ جو دین میں اہل علم و بصیرت ہوں مشرکین کے درمیان اس غرض سے رہتے ہیں کہ انہیں دین اسلام کی طرف آگاہی دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر انہیں اپنے دین میں فتنہ کا اندیشا نہ ہو اور وہ ان (کفار) پر اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کی امید بھی رکھتا ہو۔
و باللہ التوفیق، و صلی اللہ علی نبینا محمد، و الہ و صحبہ وسلم
ابن حزم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :یہ بات درست ہے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(سورۃ مائدہ-51)
یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی یہ کافر کفار کے عمومی گروہ میں شامل ہے، اور یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر کوئی دو مسلمان آپس میں اختلاف نہیں کرتا۔ (الحلی- 138/11)
شیخ عبد الطیف ابن عبد الرحمن ابن حسن رحمہ اللہ نے کفار کے ساتھ بغض کی فرضیت اور ان سے برات کے بارے میں بات کرنے کے بعد فرمایا:۔
تو ان کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے ان کی مدد کی یا انہیں اسلام کی زمین پر لایا یا ان کی تعریف و تحمید کی یا انہیں اہل اسلام ہر عدل و انصاف پر ترجیح دی اور ان کی زمین اور ان کی سکونت کی جگہ اور ان کے بیعت میں آئے اور ان کی فتحپر خوش ہوئے۔ یہ واضح ارتداد ہے جس پر (تمام علماء کا) اجماع ہے۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
جو کوئی بھی ایمان سے پھر جائے اس کے تمام اعمال تباہ ہوگئے اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (الدررالسنیہ-326/8)
عبد اللہ بن باز اپنے فتاوی میں کہتے ہیں :۔
علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرے گا اور ان کی مدد کسی بھی طریقے سے کی جائے گی وہ ان ہی کی طرح کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕپھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں :
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ۚ وَهُوَ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ دینا اپنائے اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (سورۃ ال عمران)
یہ کفار تم سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ملت کو چھوڑ کر ان کے ملت میں داخل نہ ہوجاؤ، اور اللہ عز و جل فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوگا اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا جو وقتی طور پر دنیا میں کچھ فائدہ اٹھالے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے ہم ملت اور قوم کے ساتھ ہی وہ جھنم کا ایندھن بنے گا۔
علماء کے فتوے
اسی سلسلے میں مختلف علماء کے فتوے بھی ملاحظہ ہوں :۔
سوال:کیا مسلمان کے لیے کافر ممالک کی قومیت کو حاصل کرنا جائز ہے، اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنا؟
کمیٹی برائے فتوی کا جواب حسب ذیل تھا:۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کی قومیت اختیار کرے جس کی حکومت کافر ہو۔ کیونکہ یہ ان کی وفاداری کا ذریعہ ہے اور باطل پر ان کے ساتھ موافقت کرنا ہے۔ جہاں تک شہریت لیے بغیر رہائش کا تعلق ہے بنیادی اصول یہ کہ یہ ممنوع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔ انا برئ من کل مسلم یقیم بین المشرکین۔
اور اس طرح کو اور احادیث بھی موجود ہیں، اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ بلاد الشرک سے ہجرت کرنا واجب ہے بلاد الاسلام کی طرف جب استطاعت موجود ہو۔لیکن وہ جو دین میں اہل علم و بصیرت ہوں مشرکین کے درمیان اس غرض سے رہتے ہیں کہ انہیں دین اسلام کی طرف آگاہی دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر انہیں اپنے دین میں فتنہ کا اندیشا نہ ہو اور وہ ان (کفار) پر اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کی امید بھی رکھتا ہو۔
و باللہ التوفیق، و صلی اللہ علی نبینا محمد، و الہ و صحبہ وسلم
ابن حزم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :یہ بات درست ہے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(سورۃ مائدہ-51)
یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی یہ کافر کفار کے عمومی گروہ میں شامل ہے، اور یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر کوئی دو مسلمان آپس میں اختلاف نہیں کرتا۔ (الحلی- 138/11)
شیخ عبد الطیف ابن عبد الرحمن ابن حسن رحمہ اللہ نے کفار کے ساتھ بغض کی فرضیت اور ان سے برات کے بارے میں بات کرنے کے بعد فرمایا:۔
تو ان کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے ان کی مدد کی یا انہیں اسلام کی زمین پر لایا یا ان کی تعریف و تحمید کی یا انہیں اہل اسلام ہر عدل و انصاف پر ترجیح دی اور ان کی زمین اور ان کی سکونت کی جگہ اور ان کے بیعت میں آئے اور ان کی فتحپر خوش ہوئے۔ یہ واضح ارتداد ہے جس پر (تمام علماء کا) اجماع ہے۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
جو کوئی بھی ایمان سے پھر جائے اس کے تمام اعمال تباہ ہوگئے اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (الدررالسنیہ-326/8)
عبد اللہ بن باز اپنے فتاوی میں کہتے ہیں :۔
علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرے گا اور ان کی مدد کسی بھی طریقے سے کی جائے گی وہ ان ہی کی طرح کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕپھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں :
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ۚ وَهُوَ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ دینا اپنائے اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (سورۃ ال عمران)
یہ کفار تم سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ملت کو چھوڑ کر ان کے ملت میں داخل نہ ہوجاؤ، اور اللہ عز و جل فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوگا اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا جو وقتی طور پر دنیا میں کچھ فائدہ اٹھالے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے ہم ملت اور قوم کے ساتھ ہی وہ جھنم کا ایندھن بنے گا۔
علماء کے فتوے
اسی سلسلے میں مختلف علماء کے فتوے بھی ملاحظہ ہوں :۔
سوال:کیا مسلمان کے لیے کافر ممالک کی قومیت کو حاصل کرنا جائز ہے، اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنا؟
کمیٹی برائے فتوی کا جواب حسب ذیل تھا:۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کی قومیت اختیار کرے جس کی حکومت کافر ہو۔ کیونکہ یہ ان کی وفاداری کا ذریعہ ہے اور باطل پر ان کے ساتھ موافقت کرنا ہے۔ جہاں تک شہریت لیے بغیر رہائش کا تعلق ہے بنیادی اصول یہ کہ یہ ممنوع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔ انا برئ من کل مسلم یقیم بین المشرکین۔
اور اس طرح کو اور احادیث بھی موجود ہیں، اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ بلاد الشرک سے ہجرت کرنا واجب ہے بلاد الاسلام کی طرف جب استطاعت موجود ہو۔لیکن وہ جو دین میں اہل علم و بصیرت ہوں مشرکین کے درمیان اس غرض سے رہتے ہیں کہ انہیں دین اسلام کی طرف آگاہی دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر انہیں اپنے دین میں فتنہ کا اندیشا نہ ہو اور وہ ان (کفار) پر اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کی امید بھی رکھتا ہو۔
و باللہ التوفیق، و صلی اللہ علی نبینا محمد، و الہ و صحبہ وسلم
ابن حزم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :یہ بات درست ہے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(سورۃ مائدہ-51)
یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی یہ کافر کفار کے عمومی گروہ میں شامل ہے، اور یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر کوئی دو مسلمان آپس میں اختلاف نہیں کرتا۔ (الحلی- 138/11)
شیخ عبد الطیف ابن عبد الرحمن ابن حسن رحمہ اللہ نے کفار کے ساتھ بغض کی فرضیت اور ان سے برات کے بارے میں بات کرنے کے بعد فرمایا:۔
تو ان کے بارے میں کیا خیال ہے جنہوں نے ان کی مدد کی یا انہیں اسلام کی زمین پر لایا یا ان کی تعریف و تحمید کی یا انہیں اہل اسلام ہر عدل و انصاف پر ترجیح دی اور ان کی زمین اور ان کی سکونت کی جگہ اور ان کے بیعت میں آئے اور ان کی فتحپر خوش ہوئے۔ یہ واضح ارتداد ہے جس پر (تمام علماء کا) اجماع ہے۔ اللہ عز و جل فرماتے ہیں :۔
جو کوئی بھی ایمان سے پھر جائے اس کے تمام اعمال تباہ ہوگئے اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (الدررالسنیہ-326/8)
عبد اللہ بن باز اپنے فتاوی میں کہتے ہیں :۔
علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو بھی مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرے گا اور ان کی مدد کسی بھی طریقے سے کی جائے گی وہ ان ہی کی طرح کافر ہے۔ جیسا کہ اللہ عز و جل فرماتے ہیں
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
پھر اللہ سبحانہ تعالی فرماتے ہیں :
وَمَنۡ يَّبۡتَغِ غَيۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِيۡنًا فَلَنۡ يُّقۡبَلَ مِنۡهُ‌ۚ وَهُوَ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ
اور جو کوئی بھی اسلام کے علاوہ دینا اپنائے اس سے قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں خسارے والوں میں سے ہوگا (سورۃ ال عمران)
یہ کفار تم سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے ملت کو چھوڑ کر ان کے ملت میں داخل نہ ہوجاؤ، اور اللہ عز و جل فرماتے ہیں کہ جو کوئی بھی دین اسلام کو چھوڑ کر دوسرے دین میں داخل ہوگا اس کے تمام اعمال برباد ہوجائیں گے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا جو وقتی طور پر دنیا میں کچھ فائدہ اٹھالے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا، بلکہ اپنے ہم ملت اور قوم کے ساتھ ہی وہ جھنم کا ایندھن بنے گا۔
علماء کے فتوے
اسی سلسلے میں مختلف علماء کے فتوے بھی ملاحظہ ہوں :۔
سوال:کیا مسلمان کے لیے کافر ممالک کی قومیت کو حاصل کرنا جائز ہے، اور اس کے حصول کے لیے کوشش کرنا؟
کمیٹی برائے فتوی کا جواب حسب ذیل تھا:۔
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی ایسے ملک کی قومیت اختیار کرے جس کی حکومت کافر ہو۔ کیونکہ یہ ان کی وفاداری کا ذریعہ ہے اور باطل پر ان کے ساتھ موافقت کرنا ہے۔ جہاں تک شہریت لیے بغیر رہائش کا تعلق ہے بنیادی اصول یہ کہ یہ ممنوع ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے:۔
اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَفّٰٮهُمُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ ظَالِمِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَالُوۡا فِيۡمَ كُنۡتُمۡ‌ؕ قَالُوۡا كُنَّا مُسۡتَضۡعَفِيۡنَ فِىۡ الۡاَرۡضِ‌ؕ قَالُوۡۤا اَلَمۡ تَكُنۡ اَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوۡا فِيۡهَا‌ؕ فَاُولٰٓٮِٕكَ مَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًاۙ‏
اور جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز وناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے (سورۃ نساء-97)
اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔ انا برئ من کل مسلم یقیم بین المشرکین۔
اور اس طرح کو اور احادیث بھی موجود ہیں، اور مسلمانوں کا اجماع ہے کہ بلاد الشرک سے ہجرت کرنا واجب ہے بلاد الاسلام کی طرف جب استطاعت موجود ہو۔لیکن وہ جو دین میں اہل علم و بصیرت ہوں مشرکین کے درمیان اس غرض سے رہتے ہیں کہ انہیں دین اسلام کی طرف آگاہی دیتے ہیں اور اس کی طرف دعوت دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر انہیں اپنے دین میں فتنہ کا اندیشا نہ ہو اور وہ ان (کفار) پر اثر انداز ہونے اور ان کی رہنمائی کی امید بھی رکھتا ہو۔
و باللہ التوفیق، و صلی اللہ علی نبینا محمد، و الہ و صحبہ وسلم
ابن حزم رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :یہ بات درست ہے کہ اللہ عز و جل نے فرمایا
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰىۤ اَوۡلِيَآءَ‌ۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ
اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے(سورۃ مائدہ-51)
یہ اپنے ظاہری معنی پر ہے یعنی یہ کافر کفار کے عمومی گروہ میں شامل ہے، اور یہ ایک ایسا سچ ہے جس پر کوئی دو مسلمان آپس میں اختلاف نہیں کرتا۔ (الحلی- 138/11)
(منقول)
 
Last edited:
Top