ذیشان خان

Administrator
اہل سنت واہل بدعت کے مابین تمییز کا ایک سلفی اصول

✒ فاروق عبد اللہ نراین پوری

امام قتیبہ بن سعید البغلانی رحمہ اللہ اہل سنت کے امام تھے، منہج کے پکے تھے۔ ان کی سوانح میں یہ چیز بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ امام اسماعیل اصبہانی جن کا لقب ”قوام السنہ“ ہے اپنی معروف کتاب ”سير السلف الصالحين“ (ص: 1166) میں دو جملوں میں ان کا تعارف کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”كَانَ أَحَدَ الْأَئِمَّةِ فِي الْحَدِيثِ، كَانَ يَنْصُرُ السُّنَّةَ“۔
تو یہ ان کا امتیازی وصف تھا۔

علمی مقام کا کیا کہنا!!
امام بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، سب کے استاد، اور سب نے اپنی کتابوں میں ان سے خوب رواتیں بھی لیں۔
امام احمد، علی بن مدینی، ابن معین، ابو زرعہ وابو حاتم رازی جیسے جرح وتعدیل کے ائمہ سب نے ان کے سامنے اپنا زانوئہ تلمذ تہہ کیا۔

فرماتے ہیں: میرے والد (سعید بن جمیل) نے مجھ سے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک صحیفہ تھا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول اس صحیفے میں کیا ہے؟
فرمایا: اس میں علما کے اسمائے گرامی ہیں۔
میں نے کہا: دیکھوں اس میں میرے بیٹے کا نام ہے یا نہیں۔ دیکھا تو اس میں میرے بیٹے (یعنی قتیبہ) کا نام موجود تھا۔ (سیر اعلام النبلاء: 11/17-18)

*اہل سنت والجماعت کے یہ امام اہل سنت واہل بدعت کے مابین تمییز کا ایک اصول سکھاتے ہوئے فرماتے ہیں:*
«إِذَا رَأَيْتَ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَهْلَ الْحَدِيثِ، مِثْلَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، وَذَكَرَ قَوْمًا آخَرِينَ، فَإِنَّهُ عَلَى السُّنَّةِ وَمَنْ خَالَفَ هَذَا فَاعْلَمْ أَنَّهُ مُبْتَدِعٌ». [شرف أصحاب الحديث للخطيب البغدادي (ص: 71-72)]
یعنی: جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ اہل حدیث جیسے کہ یحیی بن سعید القطان، عبد الرحمن بن مہدی، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ (انھوں نے مزید دوسرے علما کا بھی تذکرہ کیا) سے محبت کرتا ہے، تو وہ اہل سنت میں سے ہے، اور جو ان کی مخالفت کرتا ہے تو جان لو کہ وہ بدعتی ہے۔
تو ہر زمانے میں یہ ایک معروف چیز ہے کہ جو جس منہج پر ہوتا ہے وہ اسی منہج کے علما سے محبت کرتا ہے۔ اگر کوئی سلفی منہج پر ہوگا تو منہج سلف پر چلنے والے علما سے محبت کرےگا، اور اگر کوئی خود منحرف ہوگا تو اسے منحرفین ہی پسند آئیں گے، اور انھی کے افکار کی ترویج واشاعت میں مشغول ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ، ان کے شاگرد رشید ابن القیم، محمد بن عبد الوہاب، نواب صدیق حسن خان، شاہ ولی اللہ، شاہ اسماعیل شہید، مولانا اسماعیل سلفی گوجرانوالہ، حافظ صلاح الدین یوسف، امان الجامی، ابن باز، ابن عثیمین، البانی، ربیع المدخلی، صالح فوزان، سلیمان رحیلی (رحم الله موتاهم وحفظ أحياءهم) وغیرہم سے محبت اور مخالفت کرنے والوں پر نظر دوڑائیں آپ کو امام قتیبہ بن سعید رحمہ اللہ کی بات بالکل سچ نظر آئےگی۔
 
Top