ذیشان خان

Administrator
قربانی کیا ہے ؟

✍ سرفراز فیضی

قربانی ایک جذبے کا نام ہے ۔ جو محبّت سے پھوٹتا ہے ۔ محبّت دل میں پہلے خیال کی صورت میں جنم لیتی ہے ۔ پھر خیال قوی ہوتا ہے تو جذبہ بن جاتا ہے ۔ جذبہ جب شدّت اختیار کرتا ہے تو وہ لفظوں میں ڈھلتا ہے ۔
لیکن محبّت بہت اتاؤلی ہے ۔ یہ صرف لفظوں پر بس نہیں کرسکتی ۔ لفظ تو جھوٹے بھی ہوتے ہیں ۔ محبّت ثبوت مانگتی ہے ۔ قربانی محبّت کا ثبوت ہے ۔
محبّت سچی ہو تو محبّت کرنے والا بھی صرف لفظوں پر رک نہیں سکتا۔ وہ تو موقع کی تلاش میں ہوتا ہے کہ کہاں اسکو موقع ملے اور وہ اپنے محبوب کے سامنے قربانی کی صورت میں اپنی محبّت کا ثبوت رکھ دے ۔
اور محبوب بھی چاہتا ہے کہ محبّت کرنے والے کو آزمائے ۔ اس کے خلوص کو جانچے ۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ اذا احب قوما ابتلاھم ۔ مالک جس قوم سے جتنی محبّت کرتا ہے اتنا ہی اس کو آزماتا ہے ۔ یہ آزمائشیں بندے کو کندن بناتی ہیں ۔ اس کو محبّت کو خالص کرتی ہیں۔
ذبیحہ جب اس محبّت کے جذبہ سے ہوتا ہے تو قربانی کی عبادت بن جاتا ہے ۔ ورنہ ذبیحہ تو دنیا کرتی ہے ۔
اللہ ہمارے جذبوں کو اخلاص اور ہماری عبادتوں کو قبولیت کے شرف سے نوازے ۔
اللهُ أكبر اللهُ أكبر، لا إلهَ إلَّا الله، واللهُ أكبر اللهُ أكبر، ولله الحَمْد
 
Top