ذیشان خان

Administrator
سلفیوں کی ڈاکٹر محمد زبیر پر رد کی بوچھار اور ڈاکٹر محمد عبد الکریم العیسی پر خاموشی کیوں؟

✒ فاروق عبد اللہ نراین پوری

گزشتہ دو چار دنوں سے اخوانی اور لا علمی میں ان کی زبان بولنے والوں کا سب سے زیادہ داغا جانے والا سوال یہی ہے۔
اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اخوانیوں کے پھیلائے ہوئے بعض شبہات کا جواب دیا جائے، اور حقیقت حال سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔

میرے بھائیو! آپ کو سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ سلفی علما جب کسی پر رد کرتے ہیں تو ان کا مقصد کیا ہوتا ہے۔
کیا وہ کسی دنیاوی مفاد کے لئے ان پر رد کرتے ہیں؟
کیا ان کے ساتھ ان کی کوئی ذاتی دشمنی ہوتی ہے جس کا وہ انتقام لینا چاہتے ہیں؟
ہر انصاف پسند یہی کہےگا کہ نہیں، یہ مقصد تو کم از کم نہیں ہوتا۔

پھر آخر وہ کسی پر رد کیوں کرتے ہیں؟

میرے بھائیو! اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ لوگوں کے دین وایمان کی حفاظت کی جائے، کوئی ان کی گمراہ فکر سے متاثر ہو کر اپنی دنیا وآخرت برباد نہ کر لے۔ اس لئے بسا اوقات نام لے کر اور بسا اوقات بغیر نام لئے ان کی گمراہیوں کو عوام کے سامنے لانا پڑتا ہے۔ اور حق کی راہ کیا ہے اسے بتانا پڑتا ہے۔

اسی لئے وہ ہر کسی پر رد نہیں کرتے، بلکہ جن کے بارے خدشہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی گمراہیوں کا سبب بن سکتے ہیں صرف ان پر رد کرتے ہیں۔

اس لئے آپ نے ملاحظہ کیا ہوگا کہ جو سماجی شخصیات ہیں، دینی نہیں، ان کی گمراہیوں پر یہ لب کشائی نہیں کرتے، کیونکہ یہاں پر یہ ڈر نہیں ہوتا کہ لوگ دین سمجھ کر ان کی اقتدا کریں گے۔ ہاں اگر ان میں بھی کبھی اس طرح کا کوئی خدشہ ہو تو حسب ضرورت ان سے بھی عوام کو آگاہ کرتے ہیں۔

نیز منحرفین پر رد کرتے وقت ان کی ترکیز ان کی دینی وفکری گمراہیوں کو بیان کرنے پر ہوتی ہے، شخصی بد اعمالیوں کو گنانے پر نہیں۔ وہ ان کی فکری گمراہیوں کو چن چن کر تو بیان کرتے ہیں لیکن ان کی گناہوں کو نہیں، الا یہ کہ کہیں اس کی بھی ضرورت محسوس ہو۔

اس چیز کی طرف وہ بہت زیادہ دھیان نہیں دیتے کہ مردود علیہ کتنے متقی وپارسا ہیں یا ان سے کون کون سی بشری لغزشیں سرزد ہوئی ہیں۔
کیونکہ جیسے کہ اوپر بیان کیا گیا ان کا اصل مقصد ان کی گمراہیوں سے لوگوں کو بچانا ہوتا ہے، ان کی کردار کشی مقصود نہیں ہوتی۔

اس لئے دنیا کے کسی کونے میں جب بھی اس طرح کی کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ اپنا فریضہ انجام دینے سے نہ پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ کسی عزیز وقریب کی ملامت وناراضگی کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد زبیر پر رد کرنے کی ان کی وجہ یہی ہے جو اوپر بیان کی گئی۔ یہ شخص سلفیت کے نام پر اخوانیت کو پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ ایسے ایسے افکار کو سلفی فکر باور کرانے کی انھوں نے کوشش کی ہے جن کا سلفیت سے کوئی واسطہ نہیں۔ ایسے ایسے علما کو انھوں نے سلفی علما کے طور پر متعارف کروایا ہے جو لبرل یا منحرف افکار کے حامل ہیں، مثلا حاتم شریف العونی وغیرہ۔ منہج سلف کی جو ترجمان کتابیں ہیں، جن میں خالص صحابہ کرام، تابعین ومن تبعهم بإحسان کا منہج بیان کیا گیا ہے ان کتابوں سے لوگوں کو بد ظن کرنے میں انھوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اور بر صغیر کی ایک بڑی جماعت (جن میں پڑھے لکھے اہل حدیث حضرات بھی ہیں) ان کے باطل افکار سے اچھا خاصا متاثر بھی ہے۔
اس لئے ایسے منحرف شخص کی باطل افکار کو کھول کھول کر بیان کرنا بہت بڑی ضرورت ہے جسے الحمد للہ سلفی اہل علم بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں۔ جزاھم اللہ خیرا واحسن الجزاء.

رد کرتے وقت سلفی علما کے مقاصد کو بیان کرنے کے بعد اب آتے ہیں اخوانیوں کے مقاصد پر کہ یہ کب کسی پر رد کرتے ہیں، اور معاشرے پر اس رد کا کیا اثر پڑتا ہے۔
آپ پائیں گے کہ ان کا اصل مقصد اس عالم کی گمراہیوں سے لوگوں کو بچانا نہیں ہوتا، لوگوں کے دین وایمان کی حفاظت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ حاکم وقت کے فیصلہ پر نکتہ چینی کرنا، اور ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا مقصود ہوتا ہے، جس سے معاشرہ میں بد امنی پھیلتی ہے اور معصوموں کے خون کا دریا بہتا ہے، جس کی ماضی قریب میں کئی مثالیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ کیسے ان مکاروں نے ہنستے کھیلتے ہرے بھرے گھروں کو اجاڑ کر انھیں کھنڈرات میں تبدیل کر دیا، اور کتنی معصوم جانوں کی لاشیں بچھ گئیں۔

اگر ان کا مقصد اس عالم کی گمراہیوں سے لوگوں کو بچانا ہوتا تو وہ پہلے اپنے سرداروں کی گمراہیوں سے لوگوں کو آگاہ کرتے، ان کی مدح سرائی نہ کرتے۔

آج اخوانی حضرات اور ان کی بولی بولنے والے ڈاکٹر محمد عبد الکریم العیسی پر سوشل میڈیا میں جو اعتراضات کر رہے ہیں زمانہ پہلے سلفی علما یہ رد کر چکے ہیں، اور انھوں نے جو غلطیاں کی ہیں ان سے امت کو آگاہ بھی کر چکے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ سلفی علما اخوانیوں کی طرح جھوٹے پروپیگنڈوں کا سہارا نہیں لیتے جیسے کہ ڈاکٹر عیسی کے معاملے میں اخوانیوں نے کیا ہے، بلکہ جو حقیقی غلطیاں ہیں صرف ان پر رد کرتے ہیں۔ اور رد بھی علمی ہوتا ہے۔

اب عرفہ کا خطیب منتخب ہو جانے کے بعد ان پر لعن طعن کرنے، ان کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے اور انھیں منبر سے اتار پھینکنے کی مہم چلانے سے کیا فساد کو ہوا دینا نہیں ہوتا؟

آپ تصور کریں کہ اگر حجاج کرام ان اخوانیوں کی آواز پر لبیک کہہ کر عرفات میں نعوذ باللہ کوئی ایسی ناپاک کوشش کرتے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا؟
ان کی ناپاک کوششوں سے دوسرے ممالک جو میں خونریزیاں ہوئیں اگر اس طرح کچھ عرفہ میں ہو جاتا تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟

رد کرنے کا جو مقصد ہے کیا وہ اس سے حاصل ہوتا یا اس سے صرف فتنہ وفساد پھیلتا؟

نیز کیا یہ رد ان پر ہوتا یا حاکم وقت پر؟
کیا حاکم پر علانیہ رد کرنے کا سلف صالحین کا یہی منہج ہے؟
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ اور تابعین ومن تبعہم بإحسان نے حاکم کے فیصلہ پر اعتراض کرنے کی ہمیں یہی تعلیم دی ہے؟

بلکہ اس سے پہلے یہ دیکھیں کہ کیا انھیں خطیب وامام منتخب کرنا شرعی ناحیے سے منکرات کے زمرے میں آتا ہے جس پر انکار واجب ہو؟

ڈاکٹر عیسی کی جو غلطیاں ہیں شرعی ناحیہ سے کیا اس وجہ سے ان کا لوگوں کی امامت کرنا جائز نہیں ہے؟
یہاں سوال جواز اور عدم جواز کا ہے، افضل واحسن کا نہیں۔

میرے بھائی! جذبات وعاطفت سے نہیں بلکہ کتاب وسنت اور منہج سلف سے پہلے آپ یہ ثابت کریں کہ وہ ہماری اس موقع پر کیا رہنمائی کرتا ہے پھر سلفی علما کے رویے پر کلام کریں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے دنیا کے مختلف گوشوں میں اخوانیوں نے جو فتنہ وفساد برپا کیا ہوا ہے اس کی پیروی سلفی علما بھی کریں تو یہ ممکن نہیں۔

اللہ ہمیں منہج سلف کو سمجھنے اور اس کی کما حقہ پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 
Top