ذیشان خان

Administrator
SeekPng.com_burnt-paper-png_438272.png
ملک شام کا بحران

✍ شیخ عبدالمعید مدنی علی گڑھ

شام وہ سرزمین ہے جس کو حبیب کبریا ﷺ نے فضیلت بخشی ہے۔ اس سرزمین میں خیرپہلے بھی تھا۔ خیر اب بھی ہے اورخیر بعدمیں بھی رہے گا۔ سرزمین شام میں ایسی ایسی مقدس ہستیاں پیدا ہوئی ہیں کہ آج بھی ان کی وجہ سے شام کا نام روشن ہے اور اس دورمیں اسے امام المحدثین فی العصر علامہ ناصرالدین البانی کا وطن ہونے کا شرف حاصل ہے۔
شام کی موجودہ صورت حال فرانسیسی استعمار، روسی مداخلت ، کمیونسٹ سیاست، بعثی استعباد واستبداد کے اثرات ونتائج کا ایک بگڑا ہوا تسلسل ہے جس کو ختم کرنے کے لئے اس وقت عوامی تحریک چل رہی ہے۔
شام 1946ء میں فرانسیسی استعمار کے تسلط سے آزاد ہوا اوراس وقت سے لے کر اب تک شام عدم استقرار ،جمود،سازش ، اسلام دشمن اوراہل سنت دشمنی عناصر کی بدعنوانیوں کا شکار ہے۔
1946 میں شام میں نیشنل گورنمنٹ کی تشکیل ہوئی۔ 1949ء تک اس کے اندر قومیت کی بنیادہی پرسہی خیر تھا 1948 میں اسرائیل کے ساتھ اس نے جنگ میں شرکت کی اورکچھ فلسطینی علاقے پراس کا قبضہ بھی رہا پھرفلسطین سے باہر آکر گولان پہاڑی پر اس نے مورچہ جمایا۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ معاہدے میں وہ تمام عرب ممالک سے بہت بعد میں 1949 میں شریک ہوا۔
1949 میں قومی حکومت حسین زعیم کے فوجی انقلاب میں ختم ہوگئی۔ اسی سال ان کے ساتھی سامی ہنادی نے ان کے خلاف فوجی بغاوت کی اورحکومت پر قبضہ کرلیا ان کے آنے کے کچھ ماہ بعد ادیب شیسکلی کا عسکری انقلاب آیا۔ 1951 سے 1954 تک شیسکلی کی استبدادی عسکری حکومت قائم رہی۔ آخر عوامی دباؤ کے نتیجے میں اس نے استعفا دیدیا ۔ شیشکلی کی حکومت گرنے کے بعد دوسالوں تک قومیت پرستوں اور سوشلسٹوں کے درمیان کھینچا تانی رہی۔
1946 تا 1956 دس سالوں کے اندر شام میں بیس کیبنٹ بنی اور بیس وزارتوں کی تشکیل ہوئی اوراس مدت میں چار مختلف دستوروں کی ڈرافٹنگ ہوئی۔
1956 میں سینائی میں اسرائیل کی فوج داخل ہوئی اورنہرسویز کا بحران پیدا ہوا۔ برطانیہ اورفرانس نے اس میں مداخلت کی اوراسے عالمی بحری راہ گذر بنانا چاہتے تھے مگر مصر نے اسے قومی ملکیت بنالی اور اپنا حق تسلیم کرالیا اور تینوں استعماری طاقتیں ناکام ہوگئیں۔ شام اورعراق نے اس سلسلہ میں مصرکی مددکی۔
1956 سے شام میں سوشلسٹو ں کا پلہ بھاری ہونے لگا۔
1957 میں شام اورمصرنے اردن پر قبضہ کرنے کی سازش کی۔ عراق نے اس سازش کو پسند نہیں کیا اورانھیں ایسا کرنے سے بازرکھا۔
1956 میں جب سماجواد گروپ کا شام میں پلہ بھاری ہوگیا توانہوں نے سوویت یونین سے معاہدہ کیا۔ جہاز، ٹینک اورعسکری سامان کے حصول کے بدلے سوویت یونین کی ملک میں غیرملکی مداخلت قبول کرلی گئی۔ اس معاہدہ کے بعد پھر ملک میں بیرون ملک عناصر کی مداخلت بڑھ گئی اوربرابر یہ اثر بڑھتا رہا اور بیرونی مداخلت کا مستقل سلسلہ شروع ہوگیا۔
نہرسویز کے بحران کے سبب مصر اور شام قریب ہوئے اس قربت کے نتیجے میں شام کے صدر شکری قوتلی اورمصر کے صدرجمال عبدالناصر کے درمیان یکم فروری 1958 کو معاہدہ ہوا اوردونوں ملکوں کا اتحاد ’’یونائیٹڈ عرب ریپبلک‘‘ کے نام سے وجود میں آیا اور پارٹی سرگرمیوں پرپابندی لگ گئی۔
شام میں 27 ستمبر 1961 کو ایک فوجی انقلاب آیا اور مصروشام کا اتحاد ٹوٹ گیا اورشام میں ’’سیرین عرب ریپبلک ‘‘کے نام سے نئی حکومت قائم ہوگئی۔
اگلے کئی مہینوں میں شام میں کئی فوجی انقلاب آئے اور پھر 8مارچ 1963 کو بایاں فوجی محاذ برسراقتدار آگیا۔ یہ فوجی آفیسر کے نام سے معروف تھے۔ انہوں نے (NCRC) کے نام سے حکومت بنائی۔ اس محاذ کے فوجی اور سویلین گروپ نے قانونی اورانتظامی اختیار حاصل کرلیا ۔ یہ گروپ شام کی بعث پارٹی کا تھا۔ بعث پارٹی عرب میں 1940 سے سرگرم تھی۔اس سال بعث کی حکومت عراق میں بھی قائم ہوگئی۔
نئی بعث پارٹی حکومت نے اس کی کوشش کی کہ عراق، شام اورمصر کے درمیان ایک اتحاد قائم ہوجائے لیکن نومبر 1963ء میں عراق میں بعث پارٹی کی حکومت گرجانے کی وجہ سے اتحاد کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
مئی 1964 میں امین حافظ کی NCRC حکومت نے ایک عبوری دستورلاگو کیا اور نیشنل کونسل آف ریولوشن NCR قائم کیا۔ یہ ایک فوجی حکمراں کونسل تھی جس میں ملک کے ہرطبقے کی نمائندگی تھی اس کو نسل کی ایک کیبنٹ بھی تھی لیکن کلی اختیار فوج کو تھا۔
23 فروری کوان کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی حافظ امین جیل میں گئے اوران کا عبوری دستور معطل ہوگیا یکم مارچ کو ایک بعث سول حکومت قائم ہوئی اور باہر کا اثرکم ہوا 1967ء میں اسرائیل نے گولان پہاڑی پر قبضہ کرلیا۔ اس سے بعث پارٹی کی سول حکومت کے اثرات ناکے برابر رہ گئے۔
13؍نومبر 1970ء میں وزیر دفاع حافظ الاسدنے فوجی بغاوت کی اورحکومت پر قبضہ کرلیا۔ بعث کی سول حکومت ختم ہوگئی اورحافظ الاسد ملک کا صدر بن گیا۔
حافظ الاسد کے آنے کے بعد فوجی بغاوتوں کا سلسلہ ختم ہوگیا۔ حافظ الاسد نے 1970 سے 2000 تک تیس سال تک شام پرحکومت کی۔
حافظ الاسد سے قبل شام میں اتنی حکومتیں بدلیں اوراتنے تبدیلیاں آئیں کہ جیسے کوئی شخص اپنا لباس تبدیل کررہا ہو۔ ان ساری تبدیلیوں میں فوج کا اور بیرون ملک مداخلت کا ہاتھ رہا۔ ان تبدیلیوں میں مٹھی بھر عسکری اورسیاسی غلط عناصر کا ہاتھ رہتا تھا۔ اس تبدیلی میں عوام اور علماء کا بلکہ اچھے سیاست کاروں کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ انھیں الگ کرکے قومیت پر ست پھر سوشلسٹ کمیونسٹ اوربعث کے لوگ ملک کے ساتھ کھیل کرتے رہے۔ جس قدر اس ملک میں 24 سالوں کے اندر انقلابات وتغیرات آئے ہیں دنیا کے کسی ملک میں اتنا انقلاب نہیں آیا۔
ملک میں ایک سے ایک قد آور علماء اور سیاست دان موجود مگر سب درکنار معروف دوایسی، مصطفی حسن سباعی ، مصطفی رزقاء ، عبدالقادر مبارک، عمربہاء الدین جیسے عظیم علماء اور اسکالر موجود تھے اورسیاست میں ان کی زبردست حصہ داری بھی تھی۔ انہوں نے نظام حکومت میں حصہ بھی لیا اوراپنی ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا اورشامی پارلیامنٹ کو وہ آہنگ وزبان دیا کہ دنیا کے کسی پارلیامنٹ کو ایساآہنگ اورایسی زبان نہ ملی ہوگی۔ لیکن جب سیہ کاریاں داخلی وبیرونی دسیسہ کاریاں ملک کا مقدر بن جائیں توکسی کی صلاحیت اورمہارت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔
اس مسلسل انقلاب اوراتھل پتھل میں قومیت پرستی، کمیونزم، بعثی الحاد کا بھرپور حصہ رہا اور قوم وملک ایک کھلونا بن گئے۔ ملک میں بیرونی کھلی جارحیت کو کھلی چھوٹ مل گئی۔ قوم پس گئی، ملک پچھڑگیااور بیرونی عناصر ملک کو تباہ کرتے رہے ۔
1970 سے حافظ الاسد نے ملک کو اپنی جاگیر بنالی اب رہی سہی کسرپوری ہوگئی۔ یہ دنیا کے مجرمین میں سرفہرست آئے گا۔ یہ بعثی کمیونسٹ بھی تھا نصیری شیعہ بھی تھا علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نصیری شیعوں کو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان کی پوری تاریخ ہی رہی ہے کہ دشمنان اسلام کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی تباہی کا سامان کریں اور گھات لگاکر مسلمانوں پرحملہ کرتے رہیں۔
شام میں سارے انقلابات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک مٹھی بھر نصیریوں کے ہاتھ میں آگیا۔ اورمسلمان درکنار کردیے گئے۔ حافظ الاسد نے ملک کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد پوری طرح اپنے قبضے میں جکڑ لیا اورسارے مخالفین سے اس نے نمٹ لیا۔ ملک پر نصیری کنٹرول کے لئے اس نے ایسا نظام بنالیا کہ اس کے تسلط سے لوگ باہر نہ جاسکیں۔
اس کے ظلم وستم کے ریکارڈ میں یہ بھی ہے کہ اس نے بیس ہزار علماء کو مارڈالا۔ انھیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیا اور جرمنی کے گسٹاپوکی طرح اس نے ایسا انتظام کیا کہ انھیں ایسے کیمیکل میں ڈال دیا گیا کہ وہ پگھل کر بہ گئے۔ یہ سب بیت گیا لیکن مسلمان اس سے بے خبررہے۔ یہ کون سے لوگ تھے یہ اہل سنت علماء تھے جن کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا اہل سنت معاشرے اور سوسائٹی کا یہ کریم کس بے دردی کے ساتھ ختم ہو گیا کس نے اس کا حساب رکھا؟ دورتھا کمیونسٹ بربریت کا۔ اس بربریت کے سامنے کون ٹکتا تھا اورکسے اس کی خبر ہوتی تھی۔
1982میں شام کے مشہور شہر حماۃ میں نصیری ظلم وستم اور استبداد کے خلاف اہل سنت نے بغاوت کی۔ اس میں علماء عوام، عسکری سب شریک تھے۔ حکومت اور حماۃ کے باشندوں کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ شہر حماۃ جنگی میدان بن گیا تھا۔ بہت سے سنی پائلٹ فوج سے اپنا جہاز لے کر نکل آئے تھے یہ جنگ سول اور فوج کے درمیان جنگ تھی بلکہ فوج بمقابلہ فوج جنگ تھی۔ نصیری اور اس کے ہم نوا یہ کیسے برداشت کرسکتے تھے کہ شام سے وہ بے دخل ہوں ۔ بڑی بے رحمی سے حماۃ میں سنیوں کو کچل دیا گیا تھا۔ آٹھ دس ہزار لوگ اس میں مارے گئے تھے۔ اور پورا شہر تہس نہس ہوگیا تھا ۔ آج تک وہ علاقہ کھنڈر بنا ہوا ہے جہاں یہ جنگ لڑی گئی تھی۔
خالص نصیری حکومت قائم ہونے کے بعد پورا ملک سنیوں کے لئے جیل خانہ بن گیا اور ایک عالم بھی جیل جانے سے سلامت نہ رہا۔ حافظ الاسد کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ملک میں ایمرجنسی لاگو کردی گئی تھی۔ تقریبا چالیس سال سے ملک میں ایمرجنسی لاگو ہے اور اب توعملا مارشل لا لاگو ہے۔
شام میں نصیری حکومت قائم ہونے کے بعد ہمیشہ حکومت کا موقف عوام دشمنی کا ہوتا تھا۔ حافظ الاسد نے نحوست زدہ رویہ اختیارکیا اورہمیشہ مسلمانوں کی اذیت کا باعث بنا۔ اسے فقط آتش وآہن کے ذریعہ ملک پرحکومت کرنے کا شوق تھا۔
اس نے ملک کے تانا بانا اوراسلامی شناخت کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اس کے دور میں ہردین پسند عالم وعامی بلائے ناگہانی کا شکار تھا۔ مخابرات اور انتظامیہ کے بلیک لسٹ میں اس کا نام تھا۔ حافظ الاسد کے دورمیں شام جیسی مردم خیز سرزمین علم وعلماء کے لئے بانجھ بن گئی تھی علم وثقافت کا چراغ بجھ گیا تھا۔ اس نے ملک کو تمام خیر اور خوبیوں سے محروم کرکے ایک عامیانہ اورفاسقانہ تہذیب ڈیولپ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جس میں لوگ فقط روزی روٹی کے طلبگار رہ جائیں اور اس کے لئے بھی حکومت کے دست نگررہیں۔ یہی ساری ظالمانہ اور سفاکانہ نصیری پالیسیاں تھیں جن کی وجہ سے ملک گمنام ہوگیا اورلوگ اپنے خول میں بند ہوکر رہ گئے۔ اسلام اورمسلم دشمن نصیریت کو یہی مطلوب تھا اوریہی ہوا۔
یہ تواس کی اندرون خانہ پالیسی تھی جس کو اس نے بڑی سختی اور قساوت سے لاگو کررکھا تھا۔ چالیس سالوں سے یہ پالیسی ملک میں لاگو ہے اورلوگ نصیریت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ اورعلمی ،معاشرتی اورمعاشی بحران سے دوچارہیں۔
اس نے اپنی بیرون ملک پالیسی یہ اپنائی اوریہی پالیسی اپنانی اس کی مجبوری تھی کہ کمیونسٹ لابی سے جڑا رہے اور1956 ہی میں یہ سلسلہ بڑی مضبوطی سے قائم ہوچکا تھا ۔کمیونسٹ نوازوں نے سوویت یونین سے ایسے معاہدے کرلئے تھے کہ ہتھیاروں کے حصول کے لئے ملکی معاملے میں ان کو مداخلت کی پوری چھوٹ دے رکھی تھی۔ حافظ الاسد کو جب سیاسی استقلال مل گیا تواس نے اس تعلق کو پوری طرح مضبوط کیا اورملک کو کمیونزم کے جہنم میں ڈھکیل دیا اوراس کا پورا اعتماد سوویت یونین ہی پررہا۔
شام کی حافظ الاسد حکومت کی نصیریت اس کی سب سے بڑی پہچان تھی۔ نصیریوں کی قلیل تعداد کے مفادات اندرون ملک اوربیرون ملک کیا ہوسکتے تھے وہی صدر کے پیش نظر تھے۔ اس لئے اسے کسی ایسے حوصلے اورامنگ کی ضرورت نہ تھی جوملک کے طول اورآبادی کے حجم کے ہم آہنگ ہو ۔اس کی پوری مدت حکومت میں یہی بات نظر آتی ہے کہ اس نے تعمیرترقی اور تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی اور بیرون ملک دیگر ممالک سے اس طرح اقتصادی تعلیمی اور اورترقیاتی تعلقات میں سرگرمی نہ دکھلائی جس سے ملک کے باشندوں کو طویل اورمتنوع فوائد حاصل ہوں۔ اسے سوویت یونین ، لبنان اورایران سے گہرے تعلقات بنانے میں دلچسپی رہی۔ سوویت یونین اس کا نظریاتی آقاتھا، ایران مذہبی آقا تھا اورلبنان پڑوسی اور استحصالی کھیل کھیلنے کا ذریعہ۔
1958 میں بھی شام اورمصر نے اردن پر قبضہ کرنے کا پلان بنایا تھا ۔
فلسطین کے قضیے کو اس صدرنے بری طرح استعمال کیا اورفلسطینیوں کو برباد کرنے کی ہرطرح کوشش کی۔ اس نے بلیک ستمبر میں فلسطینیوں کی مددکے لئے اردن فوج بھیجی تھی۔ اردنی فوج نے نصیری فوج پر بمباری کی۔ تب نصیری فوج بہ ہزار رسوائی وہاں سے بھاگی۔
نصیری صدر ہمیشہ فلسطینی کاز کا حمایتی بنارہا اوراس کا ز کو شیعوں نے بھی سنبھالنے کی کوشش کی اور س کے ذریعے اہل سنت کی پوزیشن ڈاؤن کرنے کی تدبیریں ہوتی رہیں۔ لبان کو شام کی نصیری شیعہ حکومت نے بفرژون بنالیا تھا اور لبنان کی پوزیشن خراب کررکھی تھی۔ لبنان میں پناہ گزین فلسطینیوں پر 1982ء میں شام وایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروپ الامل وغیرہ نے عرصۂ حیات تنگ کردی ۔ رمضان کے مہینے میں صابرا وشاتیلا کیمپ میں فلسطینیوں کو ذبح کیا گیا، ان کا دانا پانی بند کردیا گیا جان بچانے کے لئے انھیں کتے بلی اور مردوں کے گوشت کھانے پڑے۔ آخرانھیں مختلف ملکوں میں بکھر جانا پڑا اور یاسر عرفات کا ا پنا ہیڈ کواٹر تونس میں منتقل کرنا پڑا۔ اوربار بارکی دربدری کے بعداسرائیل کے ساتھ صلح کا ڈرامہ کرنے کے بعد انھیں سرزمین فلسطین میں واپسی کی اجازت ملی۔
اس کھینچ تان میں شیعوں کاایک طاقتور گروپ وجودپایا جس کا نام حزب اللہ رکھا گیا۔ ایران اور شام کی مشترکہ جدوجہد اورفلسطین کا ز کے پردے میں لبنان حزب اللہ لبنان بن گیا اورلبنان میں حکومت کے اندر حکومت قائم ہوگئی اورلبنان کی مسلم سنی اکثریت کو شیعوں نے یرغمال بنالیا اس مشترکہ پالیسی سے پورا خطہ یعنی شام ،لبنان اورعراق شیعہ اثرات کا خطہ بن گیا۔
حزب اللہ دراصل شام ،ایران اوراسرائیل کی مشترکہ ضرورت ہے تاکہ اسرائیل کے لئے خطرہ کم ہو۔ فلسطین کو شام، ایران اورحزب اللہ نے چکمہ دے رکھا ہے۔ انھیں لوگوں کی شہ پر حماس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ لڑی اور غازہ پٹی کو کھنڈر بنادیا اورفلسطینیو ں کا مسئلہ کمزور ترہوکر رہ گیا۔
اسرائیل کے لئے بروقت فلسطینیوں کا مسئلہ اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ اسے جس طرح چاہے گھمائے اور خودفلسطینی بھی کہ انھیں جس طرح چاہتا ہے پیٹ لیتا ہے۔ دس سالوں کا ان کا انتفاضہ اورپھر دوبارہ انتفاضہ جوعالمگیر شہرت حاصل کرچکا تھا اور فلسطینی بچوں کی شجاعت کے آگے اسرائیلی فوج نے گھٹنا ٹیک دیا تھا اوردنیا میں انھیں زبردست حمایت ملی تھی۔ ان تمام کو حماس کی حمایت اورحزب اللہ، ایران اورشام کے فریب نے زیروبنادیا۔
حزب اللہ، شام ،ایران اوراسرائیل کا خطے میں مشترکہ مفاد ہے اوروہ انھیں حاصل ہے علاقے میں ان کے اثرات بڑھے، انھیں تحفط ملا اوران کے مفادات کو تحفظ ملا۔ اس جتھے سے اسرائیل کو فروغ وتحفظ ملا، فلسطین کازپٹ گیا۔ فلسطینیوں کا خطرہ نہ رہا۔ شام سے اسرائیل کو خطرہ نہیں۔ لبنان اور حزب اللہ اس کے کمانڈ میں ہیں۔ مصر اور اردن سے صلح ہے۔ یہ مسلم خطہ شیعہ اثرات والا خطہ بن گیا ہے۔ اس سے زیادہ کیا چاہیے تھا؟ شام کے صدرحافظ اسد نے جس روباہی سیاست کو اختیارکیا تھا سوویت یونین کے گرنے کے بعد اس کا مکمل انحصار ایران پر ہونا تھا اور پھر اس خطے میں ایک شیعہ سازشی سیاست کاری شروع ہوئی۔ سال 2000 میں انتقال سے قبل حافظ الاسد اور ایرانی رہنماؤں نے گیم پلان مکمل طورپر تیار کرلیا تھا اوریہ پورا خطہ یعنی شام، لبنان، فلسطین، عراق، ایران اوراسرائیل شیعہ اور یہودگیم کھیلنے کے لئے ایک طرح سے خالی تھا۔ اردن مصرسے اورکئی دیگرملکوں سے اسرائیل کی صلح تھی لہٰذا بہت جلد پورے خطے میں ان کا اثر ورسوخ بڑھا اوراستعماری قوتوں سے بھی انھیں شہ ملی۔ اوربہت جلد پورا خطہ شیعہ خطہ بن گیا۔ یہ ہے نصیریت کا مکروہ چہرہ۔
حافظ الاسد کے مرنے کے بعداس کا بیٹا بشارالاسد جانشین بنا۔ اس نے باپ کی شہنشائیت کو اپنی جائداد سمجھا اور خود مستبد اعظم بن گیا اورباپ کی ساری پالیسیوں کو اپنا لیا اورشیعہ یہود گیم کوپروموٹ کرنے میں لگ گیا۔ اس کے دورمیں سارے گیم پلان کامیاب ہوتے چلے گئے۔
فروری 2011ء سے عالم عرب میں سیاسی تبدیلی کی لہر چلی تھی، کئی بت گرگئے اور اپنے سیاہ کارناموں کی سزا پائی اورپارہے ہیں اورکئی ایک بت گرنے والے ہیں۔ اس سیاسی تبدیلی میں شیعہ گیم پلان اورشیعہ ویہود ابعاداربعہ متحرک ہوا کہ اسے بھی اس سیاسی تبدیلی کی لہرمیں کچھ ہاتھ لگ جائے لیکن اب تک انھیں کچھ نہ ملا۔ نہ بحرین میں ملا، نہ سعودی عرب میں ، نہ لیبیا ومصر میں نہ یمن میں ہرجگہ یہ لوزرہی ہیں۔ شام ان کا رابعہ الاثافی ہے۔ وہاں لہر چل پڑی ہے اور پورا ملک جاگ اٹھاہے۔ چالیس سال سے لگے ایمرجنسی کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اصلاح کی بات کی گئی۔ ایمرجنسی کو اٹھانے کی بات کی گئی لیکن قوم ان یہود صفات دشمن اسلام نصیریوں پر بھروسہ کرنے کو تیارنہیں ہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک کے قصبات دیہات اورشہروں میں ہرجگہ بغاوت پھیل گئی ہے۔ مظاہرے ہورہے ہیں عوام اورپولیس وفوج میں دست بہ دست جھڑپیں ہورہی ہیں اورنصیری انتظامیہ وفوج کے ستم کا یہ حال ہے کہ پوری حکومتی مشینری پولیس فوج پورے ملک دیہاتوں شہروں اورقصبوں میں پھیل گئی ہے اور عوام کو اس طرح کھدیڑ کھدیڑ کاماررہی ہے جیسے امریکہ میں گورے سرخ انڈین کومارتے تھے اور آسٹریلیامیں وہاں کے آدی باسی ابروجنیوں کو مارتے تھے۔
نصیری حکومت کی مہربانی کا یہ حال ہے کہ اس کے اندر ذرا بھی مسلمانوں یعنی اہل سنت کے تئیں ہمدردی نہیں ہے ایسا لگتا ہے جیسے یہ استعماری حکومت ہے اور شام کے مسلمان نصیری استعمار کی رعایا ہیں ۔ اب تک ہزاروں مسلمان شام میں مارے جاچکے ہیں اورلاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ شامی مسلم بھائیوں کی ایک بڑی تعداد ترکی میں پناہ گزیں ہے۔ نصیری فورس سرحد پار کرکے پناہ گزینوں کو مارنے کی کوشش کرتی ہے۔ جن مظلوموں نے لبنان میں پناہ لی ہے ان کے لئے خیر نہیں ہے۔ لبنان شام کا بفروژون ہے پھروہاں حزب اللہ ہے۔ وہاں نصیری فوج اورپولیس کو اپنے شہریوں کا پیچھا کرنے اور انھیں مارنے میں کیا رکاوٹ ہوسکتی ہے۔
شام میں مہینوں سے یہ سلسلہ ظلم وستم چل رہاہے۔ دنیا کے اکثر ملکوں کا ضمیر جاگ چکا ہے اور ہرجگہ نصیری ڈکٹیٹر خونخوار اورظالم بشارالاسد کی مذمت ہورہی ہے اورساری دنیا کی نگاہ میں اس نے استبداد کی ساری سرحدوں کو پارکردیا ہے اورلوگوں کی نگاہ میں ننگا ہوچکا ہے لیکن ابعاد اربعہ شام حزب اللہ ، اسرائیل اور ایران ایک ساتھ ہیں۔ یہ سب ہم نواہیں کہ شام میں چاہے جتنا ناحق خون بہ جائے لیکن حکومت نصیری ہی رہے اور بشارالاسد شام پر مسلط رہے۔ اس مربع کا یہ نظریہ ہے کہ خطے میں یہود اور تشیع کی برتری کے لئے شام میں بشارالاسد کو شام پرحکمراں بنا رہنا بہت ضروری ہے۔ اس لئے کہ اگرشام سے بشار الاسد جاتا ہے اور سنی اکثریت کی حکومت قائم ہوتی ہے توشام سے نصیری شیعہ کا خاتمہ لازمی ہے پھر حزب اللہ کی دھما چوکڑی بھی ختم ہوگی اوریہ کاغذی شیر اورلبنان کی سنی آبادی کے لئے وبال جان اور بھیڑےئے اپنی اوقات میں آجائیں گے۔ لبنان بھی حزب اللہ کے پنجہ استبداد سے آزاد ہوجائے گا اورفلسطینی کاز بھی مضبوط ہوگا اور فلسطینی توانا ہوں گے۔ اسرائیل کے لئے خطرہ بڑھے گا تشیع لابی سمٹ کر رہ جائے گی اور پورے خطے بلکہ پورے عالم عرب کا نقشہ بدل جائے گا اورسب سے زیادہ نقصان شیعہ لابی کا ہوگا ۔ عراق میں بھی اس کا زبردست مسیج جائے گا اور تشیع جبرکی چولیں ہل جائیں گی۔
یہی پیش منظر ہے اورمستقل کے نمایا ں خدو خال ہیں کہ ایران، اسرائیل اورحزب اللہ سب کے بے تاب ہیں اور شام میں بشارالاسد کی حکومت کی بقاکو اپنے لئے لازمی سمجھتے ہیں اور اس کو اپنی زندگی سمجھتے ہیں ورنہ انھیں یہ لگتا ہے کہ اگرشام گیا توان کا زورخطے میں ٹوٹ جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے ایران اور حزب اللہ کھل کر شام کا ساتھ دے رہے ہیں اور ہوسکتا ہے ان کی ملیشیا شامی فوج اور پولس کے ساتھ مل کر شام کے اہل سنت کوپورے ملک میں قریہ قریہ شہر شہر مارنے اورکھدیڑنے میں لگی ہو۔یہ حقیقت ہے کہ حزب اللہ کے خونخوار اور ایران عسکری گماشتے شام میں نصیری حکومت کو مضبوط کرنے اورشامی عوام کو مارنے میں لگے ہوئے ہیں۔
ایران ، حزب اللہ ، نصراللہ انصاف کی دہائی لگانے والے، اورعوام کی حمایت میں چلانے والے مفاد کے ایسے اسیر ہوئے کہ ایک ظالم اورسفاک نصیری کے حامی بن گئے اوربیس تیس سال سے انصاف کی رٹ لگانے والے سارا سبق بھول گئے۔ یہ خونخوار لوگ کیا جانیں انصاف کو یمن بحرین سعودی عرب اورگلف میں آباد پبلک کے لئے ان کے دلوں میں بڑا درد ہوتاہے اورمارے درد کے بے تاب ہوجاتے ہیں، ہرطرح کی اچھل کود مچاتے ہیں لیکن جب شام میں مسلم عوام مسلم بھائی مارے جاتے ہیں۔ قریہ قریہ شہر شہر فوج اورپولیس ان کا پیچھا کرتی ہے انھیں تباہ کرتی ہے اوران پر ہوائی حملے ہوتے ہیں توعوام کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہانے والے اور انصاف کی بات کرنے والے ایران اور حزب اللہ گونگے بہرے بن جاتے ہیں اورآنکھ بند کرکے ظلم وستم کی حمایت کرتے ہیں اوریہ حمایت ہرطرح کی جاری ہے ۔ مالی، اخلاقی عسکری ہرقسم کا تعاون بشارالاسدکو مل رہا ہے۔ سیاسی مشیر بھی بھیجے جاتے ہیں اورعسکری ماہرین بھی۔ یہی ہے نفاق اورمفادپرستی بس ذاتی منفعت کے مطابق ہی سارا شور ہنگامہ ہے انصاف اورحق کی بات محض دھوکہ دینے کے لئے ہے۔
کیا شام نصیری استعمار صفت حکمرانوں سے نجات پاسکے گا؟ حالات جس طرح بگڑرہے ہیں اورجس طرح ملک کی پوری پبلک اٹھ کھڑی ہوئی ہے اورماحول جس طرح بن گیا ہے ان سب کو اگر سامنے رکھا جائے تولگتا یہی ہے کہ بشارالاسد کے لئے جانا طے ہے۔ لیکن خطرہ اس کا بھی ہے کہ جس بے رحمی سے نصیری گورنمنٹ عوام سے نمٹتی رہی ہے یا موجودہ حکمراں جس قساوت اورشدت سے عوام سے نمٹ رہے ہیں کہیں ایسا ہو کہ پھر نصیری حکومت کو غلبہ حاصل ہوجائے اور عوام تھک ہار کر اس کے زیر نگیں آجائے اورسرنگوں ہوکر رہ جائے۔
امکانات اس کے بھی ہیں کہ شام آزاد ہوجائے۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ بعثی نصیری حکومت اپنے یاران غار امریکہ، حزب اللہ، ایران اور اسرائیل کے سہارے پھر ٹک جائے۔ مستقبل میں کیا ہوگا اس کا علم کس کو ہے؟ لیکن سیاسی ارہاصات سے اندازہ ہوتاہے کہ بشارالاسد کو اب جانا ہے انھیں کوئی شاید نہ بچاسکے۔ اللہ تعالیٰ جلد وہ دن لائے جس میں شامی مسلمان اپنے حقوق پا سکیں اورانھیں مکمل آزاد حاصل ہو۔
شام کے سنی مظلوم باشندوں کے حق میں ترکی کا رول نہایت موثر ہے۔ ترکی کی پالیسی یہ تھی کہ پڑوسیوں سے تعلقات اچھے بنائے جائیں۔ چند سالو ں میں اس نے شام سے مثالی تعلق قائم کرلیا حتی کہ اس غریب ترین پسماندہ ملک سے اس نے سال گذشتہ 20 ارب ڈالر کا بزنس کیا۔ لیکن جب سے بشار الاسد کی حکومت شام کے سنیوں کی نسل کشی پر کمربستہ ہوئی ہے بشار الاسد سے ترکی تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ترکی نے شام میں جاری ستمہائے دراز کے خلاف واضح موقف اختیارکیا ہے۔
ترکی نے عالمی اورمقامی ہرسطح پر بشارالاسد حکومت کے رویے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ خطے میں یہود اور تشیع کے ناپاک عزائم کی دیگر عرب ملکوں کی طرح اسے بھی خبرہے۔ اس وقت شام علاقائی اثر ورسوخ اور مفادات کی جنگ کاسب سے اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ نصیریت یہودیت اورخمینیت کا مثلث جان توڑکوشش کررہا ہے کہ بشارالاسد ہرحال میں شام پر قابض رہے۔ حزب اللات یعنی حزب اللہ اور حسن عدواللہ یعنی حسن نصراللہ نے اپنی ساری عسکری اعلامی ادعائی اورعنتری طاقت جھونک دی ہے کہ ان کا قاتل خونی نصیری شیعہ بھائی جلاد الارنب یعنی بشارالاسد شام کے سنیو ں کے عزت وآبرو اور جان سے کھیلتا رہے۔
 
Top