بدعت کی مذمت
ابو حمدان اشرف فیضی
ناظم جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
------------------------------------------------

عَنْ أُمِّ المُؤمِنِينَ أُمِّ عَبْدِ اللهِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ :مَنْ أَحْدَثَ فِيْ أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ.رواه البخاري ومسلم، وفي رواية لمسلم: مَنْ عَمِلَ عَمَلاً لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ.

تخريج: صحيح البخاري:كِتَابٌ : الصُّلْحُ ، بَابٌ : إِذَا اصْطَلَحُوا عَلَى صُلْحِ جَوْرٍ. 2697،صحيح مسلم: كِتَابٌ : الْأَقْضِيَةُ، بَابٌ : نَقْضُ الْأَحْكَامِ الْبَاطِلَةِ، وَرَدُّ مُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ : 1718، سنن أبي داود :أَوْلُ كِتَابِ السُّنَّةِ ، بَابٌ : فِي لُزُومِ السُّنَّةِ 4606، سنن ابن ماجه: الْمُقَدِّمَةُ, بَابٌ : تَعْظِيمُ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ُ 14، مسند أحمد:مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا 26033، أبو يعلى: 4594، صحيح ابن حبان: 26 و 27، تخريج سنن الدارقطني: ٤٥٣٤.

ترجمه: ام المومنین ام عبد اللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود (ناقابل قبول) ہے،
مسلم کی روایت میں ہے: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
اس حدیث کی اہمیت:
یہ حدیث انتہائی عظیم ہے، اس کی اہمیت اور عظمت سے متعلق علماء کرام کے بہت سے اقوال منقول ہیں، چند مشہور اقوال درج ذیل ہیں:
1- امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهذا الحديث قاعدة عظيمة من قواعد الإسلام وهو من جوامع كلمه (صلى الله عليه وسلم) فإنه صريح في رد كل البدع والمخترعات وفي الرواية الثانية زيادة وهي أنه قد يعاند بعض الفاعلين في بدعة سبق إليها فإذا احتج عليه بالرواية الأولى يقول أنا ما أحدثت شيئا فيحتج عليه بالثانية التي فيها التصريح برد كل المحدثات سواء أحدثها الفاعل أو سبق باحداثها۔ ( شرح مسلم للنووي: 14/257، المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم للقرطبي: 6/171)
یہ حدیث اسلام کا ایک عظیم قاعدہ ہے یہ نبی ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے، یہ ہر طرح کی بدعت اور خود ساختہ امور کی تردید میں صریح ہے، دوسری روایت میں مفہوم کی زیادتی ہے اور وہ یہ کہ بعض پہلے سے ایجاد شدہ بدعتوں کو کرنے والے کے خلاف اگر پہلی روایت بطور حجت پیش کی جائے تو وہ بطور عناد کہے گا کہ میں نے تو کچھ ایجاد نہیں کیا، لہذا اس کے خلاف دوسری روایت حجت ہوگی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر نئی چیز مردود ہے خواہ کرنے والے نے اسے از خود ایجاد کیا ہو یا اس سے پہلے اسے کوئی ایجاد کر چکا ہو۔

2- حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کا قول ہے:
وهذا الحديث أصلٌ عظيم من أصول الإسلام؛ كما أن حديث: (الأعمال بالنيَّات) ميزان للأعمال في باطنها، وهو ميزان للأعمال في ظاهرها.
فكما أن كل عمل لا يُراد به وجهُ الله تعالى، فليس لعامله فيه ثواب، فكذلك كل عمل لا يكون عليه أمر الله ورسوله، فهو مردودٌ على عامله.
وكل من أحدث في الدين ما لم يأذن به الله ورسوله، فليس من الدين في شيء [جامع العلوم والحكم: 1/176]
یہ حدیث اسلام کے اصولوں میں سے ایک اصل عظیم ہے جس طرح إنما الأعمال بالنيات والی حدیث اعمال کے باطن کو پرکھنے کا ذریعہ ہے اسی طرح یہ حدیث اعمال کے ظاہر کو پرکھنے کا ذریعہ ہے، جس طرح ہر وہ عمل جس سے اللہ کی رضا مقصود نہ ہو عامل کے لیے اس کا کوئی ثواب نہیں اسی طرح ہر وہ عمل جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق نہیں اس کے عامل کے منہ پر مار دیا جائے گا اور جس نے بھی اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف کوئی چیز ایجاد کی اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔

3- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هذا الحديث معدود من أصول الإسلام، وقاعدة من قواعده، وقال: يصلح أن يسمى نصف أدلة الشرع[ فتح الباري: 5/357]
اس حدیث کا شمار اسلام کے اصول وقواعد میں ہوتا ہے، اور فرمایا: اس حدیث کو شرعی دلائل کا نصف کہا جائے تو بجا ہے۔

4-ابن حجر الهيتمي - رحمه الله - کا قول ہے: هو قاعدة عظيمة من قواعد الإسلام، بل من أعظمها وأعمها نفعًا من جهة منطوقه؛ لأنه مقدمة كلية في كل دليل يستنتج منه حكم شرعي[فتح المبين: 96]
یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہے، بلکہ اپنے منطوق کے حساب سے عظیم اور بہت زیادہ نفع بخش ہے، اس لئے کہ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے ہر اس دلیل میں جس سے شرعی حکم کا استنباط ہو۔

5-ابن دقيق العيد - رحمه الله کا قول ہے: هذا الحديث قاعدة عظيمة من قواعد الدين، وهو من جوامع الكلم التي أوتيها النبي صلى الله عليه وسلم؛ فإنه صريح في رد كل بدعة وكل مخترع، واستدل به بعض الأصوليين على أن النهي يقتضي الفساد[شرح الأربعين النووية: 22]
یہ حدیث دین کے قواعد میں سے عظیم قاعدہ ہے اور یہ نبی ﷺ کے جوامع الکلم میں سے ہے، کیونکہ یہ ہر بدعت اور ایجاد کردہ عمل کی تردید میں صریح ہے، اور اس سے بعض اصولیوں نے استدلال کیا ہے کہ نہی فساد اور منع کا تقاضا کرتا ہے۔

6-شیخ سعدي - رحمه الله فرماتے ہیں: هذان الحديثان العظيمان يدخل فيهما الدين كله، أصوله وفروعه، ظاهره وباطنه، فحديث عمر ((إنما الأعمال بالنيات...)) ميزان للأعمال الباطنة، وحديث عائشة ميزان للأعمال الظاهرة، ففيهما الإخلاص للمعبود، والمتابعة للرسول، اللذان هما شرط لكل قول وعمل، ظاهر وباطن[بهجة قلوب الأبرار: 10].
ان دو عظیم حدیثوں میں پورے دین کے تمام اصول وفروع اور ظاہر وباطن سب داخل ہیں، حدیث عمر : (إنما الأعمال بالنيات) باطنی اعمال کا میزان ہے اور حدیث عائشہ ظاہری اعمال کا میزان ہے، ان دونوں حدیثوں میں ہر قول و عمل اور ظاہری و باطنی عبادت کی قبولیت کی شرطیں موجود ہیں، یعنی اخلاص اور متابعت رسول ﷺ۔

7- علامة الباني رحمہ اللہ فرماتے ہیں: هذا الحديث قاعدة عظيمة من قواعد الإسلام، وهو من جوامع كلمه، فإنه صريح في رد إبطال كل البدع والمحدثات۔ ("إيقاظ الأفهام" (4/ 2)
یہ حدیث اسلام کے قواعد میں سے ایک عظیم قاعدہ ہے، نیز جوامع الکلم میں سے ہے، کیونکہ یہ حدیث ہر طرح کی بدعات و محدثات کے ابطال و رد میں بالکل صریح ہے۔
بدعت کا مفہوم:
بدعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دین میں ایجاد کردہ اس طریقہ کو کہتے ہیں جو تقرب الہی اور ثواب کے مقصد سے انجام دیا جائے اور شریعت میں اس کی کوئی اصل اور دلیل موجود نہ ہو۔
حافظ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والمراد بالبدعة: ما أُحْدِثَ مِمَّا لا أصل له في الشريعة يدل عليه، وأمَّا ما كان له أصلٌ من الشَّرع يدل عليه فليس ببدعة شرعًا، وإن كان بدعةً لغة۔ [جامع العلوم والحكم:266]

بدعت سے مراد دین میں ایجاد کردہ وہ طریقہ جس کی شریعت میں کوئی اصل موجود نہ ہو جو اس پر دلالت کرے، جس عمل کے لیے شریعت میں اصل موجود ہو تو وہ شرعاً بدعت نہیں کہلائے گا اگرچہ لغوی طورپر وہ بدعت کہلائے۔
امام شاطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
البِدعة: طريقةٌ في الدِّين مُخْتَرَعة تُضاهِي الشَّرعِيَّة، يُقْصَد بالسُّلوك عليها المُبالَغَةُ في التَّعبُّد للهِ سبحانه۔ (الاعتصام:1/ 21)
دین میں ایجاد کیا گیا وہ طریقہ جو شریعت کی شکل میں ہو اور جس سے مقصود رضاء الہی کے حصول میں مبالغہ ہو بدعت کہلاتا ہے

بدعت کی مذمت کتاب وسنت اور اقوال سلف کی روشنی میں:

*بدعتی خواہش پرست ہوتا ہے اور خواہش پرستی گمراہی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَإِن لَّمۡ یَسۡتَجِیبُوا۟ لَكَ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا یَتَّبِعُونَ أَهۡوَاۤءَهُمۡۚ وَمَنۡ أَضَلُّ مِمَّنِ ٱتَّبَعَ هَوَىٰهُ بِغَیۡرِ هُدࣰى مِّنَ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا یَهۡدِی ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِینَ﴾ [القصص ٥٠]پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

*بدعتی کتاب وسنت سے انحراف کرتے ہوئے اپنی عقل پر اعتماد کرتا ہے، جب کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یَـٰۤأَیُّهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُوۤا۟ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِیعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَلَا تُبۡطِلُوۤا۟ أَعۡمَـٰلَكُمۡ﴾ [محمد ٣٣] اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کا کہا مانو اور اپنے اعمال کو غارت نہ کرو
*بدعتی کتاب وسنت کو چھوڑ کر آباء و اجداد کے طریقے پر عمل کرتا ہے، پیروں، بزرگوں اور اماموں کی تقلید کرتا ہے، جبکہ آباء پرستی باعث ضلالت اور موجب ہلاکت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذَا قِیلَ لَهُمُ ٱتَّبِعُوا۟ مَاۤ أَنزَلَ ٱللَّهُ قَالُوا۟ بَلۡ نَتَّبِعُ مَاۤ أَلۡفَیۡنَا عَلَیۡهِ ءَابَاۤءَنَاۤۚ أَوَلَوۡ كَانَ ءَابَاۤؤُهُمۡ لَا یَعۡقِلُونَ شَیۡـࣰٔا وَلَا یَهۡتَدُونَ﴾ [البقرة ١٧٠] اور ان سے جب کبھی کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کی تابعداری کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، گو ان کے باپ دادے بےعقل اور گم کرده راه ہوں
اور فرمایا:
﴿بَلۡ قَالُوۤا۟ إِنَّا وَجَدۡنَاۤ ءَابَاۤءَنَا عَلَىٰۤ أُمَّةࣲ وَإِنَّا عَلَىٰۤ ءَاثَـٰرِهِم مُّهۡتَدُونَ﴾ [الزخرف ٢٢] (نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں.
نیز فرمایا:
وَقَالُوا۟ رَبَّنَاۤ إِنَّاۤ أَطَعۡنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۤءَنَا فَأَضَلُّونَا ٱلسَّبِیلَا۠.رَبَّنَاۤ ءَاتِهِمۡ ضِعۡفَیۡنِ مِنَ ٱلۡعَذَابِ وَٱلۡعَنۡهُمۡ لَعۡنࣰا كَبِیرࣰا[الأحزاب: ٦٧-٦٨]اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی مانی جنہوں نے ہمیں راه راست سے بھٹکا دیا، پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما.
حدیث میں ہے نبی ﷺ خطبے میں فرماتے تھے: أَمّا بَعْدُ؛ فإنَّ خَيْرَ الحَديثِ كِتابُ اللهِ، وَخَيْرُ الهُدى هُدى مُحَمَّدٍ، وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثاتُها، وَكُلُّ بدْعَةٍ ضَلالَةٌ.[صحيح مسلم :٨٦٧ ]
حمد و صلاۃ کے بعد یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یقیناً سب سے بہتر کلام اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے، سب کاموں میں سب سے بدتر کام نئی نئی باتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
دوسری حدیث میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: فمَن رَغِبَ عن سُنَّتي فليسَ مِنِّي.
[صحيح البخاري: ٥٠٦٣ ]جو شخص میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں۔
ایک اور حدیث میں ہے:
وإيّاكُم ومُحدَثاتِ الأُمُورِ؛ فإنَّ كلَّ مُحدَثةٍ بِدْعةٌ، وكُلَّ بِدْعةٍ ضَلالةٌ
تخريج مشكاة المصابيح: ١٦٥، إسناده صحيح ،أخرجه أبو داود (٤٦٠٧)، والترمذي (٢٦٧٦)، وابن ماجه (٤٢)، وأحمد (١٧١٤٤)
(دین میں)نئی ایجاد کردہ چیزوں سے بچو، کیونکہ ہر نو ایجاد چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

بدعت مردود ہے اور بدعتی بھی مردود ہے، قیامت کے دن حوض کے پاس سے انہیں دور ہٹایا جائے گا، فرمان نبوی ﷺ ہے:
إنِّي فَرَطُكُمْ على الحَوْضِ، مَن مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، ومَن شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أبَدًا، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أقْوامٌ أعْرِفُهُمْ ويَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحالُ بَيْنِي وبيْنَهُمْ.
وفي رواية: فأقُولُ إنَّهُمْ مِنِّي، فيُقالُ: إنَّكَ لا تَدْرِي ما أحْدَثُوا بَعْدَكَ، فأقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَن غَيَّرَ بَعْدِي.
(صحيح البخاري: ٦٥٨٣)
میں اپنے حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود رہوں گا۔ جو شخص بھی میری طرف سے گزرے گا وہ اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گے لیکن پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا
میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی تھی.

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا أَنَا مُتَّبِعٌ، وَلَسْتُ بِمُبْتَدِعٍ، فَإِنْ أَنَا أَحْسَنْتُ فَأَعِينُونِي، وَإِنْ أَنَا زُغْتُ فَقَوِّمُونِي)
(رواه القاسم بن سلَّام في (الأموال) (1/ 8) (رقم 6)، والطبري في (الرياض النضرة) (ص 123)، وابن سعد في (الطبقات الكبرى) (3/ 183).
عبد اللہ بن مسعودٍ رضي الله عنه فرماتے ہیں: اتَّبِعُوا، ولا تَبْتَدِعُوا؛ فَقَدْ كُفِيتُمْ، كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ۔
[رواه وكيع في (الزهد) (1/ 357)، وأحمد في (الزهد) (ص 162). وقال الهيثمي في (مجمع الزوائد) (1/ 181): (رجاله رجال الصحيح).
اتباع کرو بدعت کا کام مت کرو، اتباع تمہارے لیے کافی ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
امام مالك رحمه الله فرماتے ہیں:مَن ابتدع في الإسلام بدعةً يراها حسنةً، فقد زعم أنَّ محمدًا صلى الله عليه وسلم خان الرسالة؛ لأنَّ الله يقول: ﴿ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ ﴾ فما لم يكن يومئذٍ دينًا، فلا يكون اليوم دِينًا)[44] (الاعتصام للشاطبي: 1/65)
جس نے اسلام میں کوئی بدعت ایجاد کی اور اسے اچھا سمجھا تو گویا اس کا گمان ہے کہ محمد ﷺ نے رسالت کے اندر خیانت سے کام لیا کیونکہ اللہ کا فرمان ہے: الیوم اکملت لکم۔۔۔۔۔ میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا، لہذا جو اس وقت دین کا حصہ نہیں تھا تو وہ آج بھی دین نہیں بن سکتا۔

امام أحمد رحمه الله فرماتے ہیں: أصولُ السُّنَّةِ عندنا: التَّمَسُّكُ بما كان عليه أصحابُ رسولِ الله صلى الله عليه وسلم، والاقتداءُ بهم، وتركُ البدع، وكلُّ بدعةٍ فهي ضلالة۔[شرح اصول اعتقاد اهل السنة والجماعة للالكائي: 1/176]
ہمارے نزدیک سنت کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ جس پر قائم تھے اس کو مضبوطی کے ساتھ تھامنا، اس کی پیروی کرنا اور بدعتوں کو ترک کرنا ہے، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
البدعة أحب إلى إبليس من المعصية فإن المعصية يتاب منها ،والبدعة لا يتاب منها.
( مجموع الفتاوي [ 11/472]ابلیس کو بدعت نافرمانی و گناہ سے زیادہ محبوب و پسندیدہ ہے کیونکہ گناہ و نافرمانی سے توبہ کر لی جاتی ہے مگر بدعت سے توبہ اکثر نہیں کی جاتی (اس لئے کہ بدعتی اسے ثواب سمجھ کر کرتا ہے )

تابعی جلیل حسان بن عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا , ثُمَّ لَا يُعِيدُهَا عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.( سنن الدارمي: 1/58 ، رقم : 98)
جب بھی کوئی قوم دین میں بدعت ایجاد کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان میں سے اس کے مثل سنت اٹھا لیتا ہے، پھر وہ سنت ان پر قیامت تک نہیں لوٹاتا۔
شرح وفوائد حديث:
*دین میں ایجاد شدہ ہر نئی چیز بدعت ہےاور ہر بدعت مذموم اور باعث ضلالت ہے، لہذا بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی تقسیم و تفریق صحیح نہیں ہے۔
*یہ دونوں احادیث بدعت کے ابواب میں اصل شمار ہوتی ہیں۔
*دین مکمل ہے اس میں کسی حذف واضافہ کی گنجائش نہیں ہے،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اليوم اكملت لكم دينكم (المائدة : 3)بدعتی اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ دین ناقص ہے
*مومن کی شان اتباع ہے نہ کہ ابتداع، ارشاد ربانی ہے: وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنࣲ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥۤ أَمۡرًا أَن یَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِیَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن یَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَـٰلࣰا مُّبِینࣰا﴾ [الأحزاب ٣٦]
*اعمال و عبادات کی قبولیت کے لیے دو بنیادی شرطیں ہیں:
1-اخلاص 2- متابعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم
دوسری شرط اس حدیث سے ماخوذ ہے،
متابعت رسول کے لیے چھ امور میں موافقت ضروری ہے: 1-سبب، جنس، مقدار، کیفیت، وقت، جگہ، ہمارا عمل اگر ان چھ چیزوں میں شریعت کے موافق نہ ہو تو وہ باطل اور مردود ہوگا۔
*سنت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے
*معلم کو چاہیے کہ طلبہ کو وہ عام اصول سمجھائے جن پر احکام کی بنیاد ہے، اس حدیث میں یہ اصول بیان کیا گیا ہے کہ عبادات میں اصل منع ہے اور منہیات میں اصل فساد ہے۔
استفادہ از:
جامع العلوم والحكم لابن رجب
شرح الاربعين النووية لابن عثيمين
شبكة الالوكة
بدعت کی پہچان اور اس کی تباہ کاریاں، از: شیخ عبد الہادی عبد الخالق مدنی
سنت کی روشنی اور بدعت کی تاریکیاں، اردو ترجمہ از: شیخ سہیل احمد فضل الرحمن مدنی
-----------------------
 
Top