ذیشان خان

Administrator
شب قدر میں سورہ قدرپڑھنے کی حقیقت
==================
مقبول احمد سلفی
سورہ القدر کے متعلق کئی جھوٹے فضائل بیان کئے جاتے ہیں ، ان میں ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں جو کوئی شب قدر میں سوره قدر سات مرتبہ پڑھتا ھے الله اسے ھر بلا سے محفوظ فرما دیتا ھے اور ستر ھزار فرشتے اس کے لیۓ جنت کی دعا کرتے ھیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول مجھے "نزہۃ المجالس و منتخب النفائس" نامی کتاب میں ملا۔ عربی عبارت اس طرح سے ہے ۔
"عن علي رضي الله عنه من قرأ إنا أنزلناه في ليلة القدر بعد العشاء سبع مرات عافاه الله من كل بلاء ودعا له سبعون ألف ملك بالجنة"
ترجمہ : علی رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں جو کوئی شب قدر میں سوره قدر سات مرتبہ پڑھتا ھے الله اسے ھر بلا سے محفوظ فرما دیتا ھے اور ستر ھزار فرشتے اس کے لیۓ جنت کی دعا کرتے ھیں۔
اس قول کے نیچے سورہ قدرکےمزید چند فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔
٭ جو جمعہ کو نماز سے پہلے تین مرتبہ پڑھے گا اللہ اس کے لئے اس دن نماز پڑھنے والوں کے برابر ثواب لکھے گا۔
٭ اگر اپاہج عورت پہ پڑھا جائے تو اللہ اس کی ولادت میں آسانی فرماتا ہے۔
٭اور جو فرض نمازوں کے بعد پڑھتا ہے اللہ اس کی قبر میں ، میزان کے وقت اور پل صراط پہ نور عطا کرتا ہے۔
میں آپ کو بتادوں یہ کتاب عبد الرحمن بن عبد السلام صفوري (متوفى: 894ہجری) کی ہے جس میں بلا سند اور بغیر تحقیق جھوٹے اقوال اور جھوٹے حکایات و فضائل بیان کئے گئے ہیں ۔اس وجہ سے صوفیا خاص طور سے بریلویوں کے یہاں بہت مقبول ہے ۔حالانکہ بلاسند و تحقیق کے ہونے کی وجہ سے ساقط الاعتبارہے ۔ علماء نے اس کتاب کو تو پڑھنے سے بھی منع کیا ہے ۔ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اس کا مطالعہ کرنا حرام قرار دیا ہے ۔(کتب حذرمنھا العلماء: 2/19)
اس لئے اس کتاب کی باتوں کو نشر کرنے سے بچیں۔
 
Top