ذیشان خان

Administrator
نکاح کو آسان بنائیں ؛ مگر کیسے؟

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل تیری بیٹی بھی اس آگ میں جل سکتی ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام بڑا پیارا دین ہے ، یہ اس قدر خوب صورت نظام زندگی ہے کہ اس میں ایک بھی چیز ایسی نہیں جو انسانی فطرت پر گراں گزرے ۔
دینی و ملی بھائیو! اسلامی نکاح کرو اور کرواؤ ،احسان کرو خود پر بھی ، اپنی اولادوں پر بھی ، اور نکاح اتنا آسان کرو کہ صبح کا طالبِ علم شام کو شوہر، صبح کا تاجر شام کو شوہر، صبح کچن روٹیاں بنارہی بیٹی شام کو دلہن بن جائے ۔
آج ہم حرام رسموں، بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بلکہ خانہا بربادی (بہت سارے گھروں کی بربادی ) بنالیتے ہیں۔اخباروں کی سرخیاں اس طرح کی خبروں سے بھری پڑی ہیں کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے باپ نے پھانسی لگالی تو بیٹی نے خود کشی کر لی یا کہیں بہو کو جلا دیا گیا۔
میرے بھائیو! نکاح کو آسان بنانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں دور جاہلیت کی بیہودہ اور فرسودہ رسومات سے جان چھڑانا ہو گی ، دھوم دھام سے کی جانے والی منگنیاں، مہندیاں، جہیز اور باراتیں آسان شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تیزی سے گزرتے وقت، گرتی، پھسلتی ، سنبھلتی ، سہارے لیتی اور ڈھلتی جوانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرپرستوں کو بچوں کی جلدی اور وقت پر شادی کی فکر کرنی چاہیے ، یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جانے آپ کی کل ہو یا نہ ، مگر آپ اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائیں گے ، ویسے بھی دیر کس بات کی اور تاخیر کیوں کرنی جب بچے جوان ہوچکے ہیں! شادی کے معاملے پر جب بھی بات ہو تو جواب ملتا ہے: یہ کوئی اتنا آسان کام نہیں ہے ، اس کے لیے بڑے مسائل ہیں جن کو دیکھ کر آگے بڑھا جاتا ہے۔ آخر کن وجوہات کی بنا پر شادیاں تاخیر کا شکار ہیں ؟ سوچیں اللہ نہ کرے اگر آپ کے پاس مختصر سا وقت ہو اور آپ کو اپنے بچے کی شادی کرنی ہو تو یقینا آپ کچھ ہی لمحوں میں اوسط رشتے کو قبول کرلیں گے ، وجہ یہ کہ تب آپ کے لیے وہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوگا ، مگر چونکہ آپ کو لگتا ہے کہ ابھی آپ کے پاس بہت وقت ہے ، تو خواہ مخواہ کیڑے نکالتے جائیں گے ، میرے بھائی! رشتوں کے معاملات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قبولیت والی سوچ رکھیں ، شادی میں ایک اہم مسئلہ اخراجات کا ہے ، اخراجات آپ کے اپنے اختیار میں ہیں ،بڑھاتے جائیں تو بڑھتے ہی جائیں گے ، ہاں اگر کلچ دبا لیں تو بریک لگ جائے گی ، دل تو بہت کچھ چاہتا ہے، حسرتیں بھی بہت ہوتی ہیں، ارمان ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ، مگر ان کے ساتھ زندگی الجھتی چلے جائے گی! اپنی حیثیت کے مطابق فیصلہ کریں ، کون کیا کہے گا اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے ، فرق پڑنا چاہیے تو اس بات سے کہ اگر آپ نے وقت پر شادی نہ کی اور آپ کے بچے نے کچھ غلط کردیا تب کیا ہوگا اور کون ذمے دار ہوگا؟
محترم حضرات! ہم نے کئی بہترین ولیمے اور پکوان دیکھے ، مگر پھر بھی لوگوں نے اعتراض ہی کیا ، لوگ کب خوش ہونے والے ہیں؟ بس اللہ تعالی خوش ہو یہی فکر کریں ، لوگوں کی کسی بھی معاملے میں فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں! بعض اوقات جہیز کی وجہ سے کئی سال شادی کا معاملہ لٹکا رہتا ہے ، الیکٹرونکس سے لے کر فرنیچر تک ، بائیک سے لے گھر، فلیٹ اور گاڑی تک یہ سب ایسی چیزیں ہیں اگر دیکھا جائے تو یہ مرد کی ذمے داری ہے ، لڑکی کیوں دے بھائی؟ مگر لڑکوں کے والدین جہیز کیلئے لڑکوں کے نام کی منڈی سجانے جب مارکیٹ میں اترتے ہیں تو ان کا ریٹ اتنا اونچا ہوتا ہے کہ لڑکی پڑھی ہو ، تعلیم یافتہ ہو، امیر ہو ، خاندان ایسا ہو جو مسلسل ہمارے جیب کو گرماتا رہے ، کون ہیں یہ لوگ جو جہیز مانگتے ہیں؟ کون ہیں یہ بھیڑیئے اور درندے جو مسلمان سماج کو سیندھ لگاتے ہیں ؟ اسلام کو بد نام کرتے ہیں؟ یہ کون سا سماج اور کون سے مسلمان ہیں اورکس طرح کا ضمیر ہے ؟
شرم ان کو مگر نہیں آتی!
ملت کے نوجوانو! تم اپنی بیوی کے ڈبل بیڈ پر بیٹھ کر اس سے نظریں کیسے ملاتے ہو؟ جو نوجوان اپنی کمائی کا بیڈ نہیں خرید سکتا ، وہ بڑی بڑی باتیں کرے ، اونچے اونچے خواب دیکھے اور دعوے کرے ، جس شخص کے پاس اپنے بیڈ کے لئے پیسے نہ ہوں ، بیوی کے مخملی بستر پر بیٹھ کر قدم سے قدم ملا کر چلنے اور خوشیاں بانٹنے کا وعدہ کرے ؛ عجیب بات ہے!
میرے نوجوان بھائیو! نہیں ہیں آپ ملت کے علمبردار!
نہیں کہتا ہے اسلام! اس بات کو کہ آپ بیوی کے باپ سے گاڑی کا مطالبہ کریں اور بے شرمی کی انتہا کہ اس گاڑی پر بیٹھ کر ہواؤں سے باتیں کریں! ںہیں کہتا ہے میرا اسلام! کہ بیوی کے گھر والوں پر شان بگھاریں! نہیں میرے بھائی! ہم نے رب کو بھلا دیا ، اس کی تعلیمات اور احکامات کو نظر انداز کر دیا ، ہم نے اسلام کے اس پہلو کو نظر انداز کر دیا جو ہمیں انسان بناتا ہے ، جو ہمیں مومن کامل بناتا ہ ، آو کلام پاک اٹھا کر دیکھو ، اللہ کا کلام کیا کہتا ہے ، صحابہ کرامؓ کی سیرت کو دیکھو، زندگی کیا کہتی ہے ؟ ان کے ہاں شادیاں کیسے ہوتی تھیں ، شادی اتنی آسان تھی کہ چلتے پھرتے نکاح ہو جاتا تھا ، کہاں کہتا ہے میرا اسلام! کہ لاکھوں لاکھ کا میریج ہال بک کریں ، کروڑوں کی شادی کریں ، دو سو تین سو روپئے کی قیمت کا دعوت نامہ تقسیم کریں ، پورے علاقہ والوں کو جمع کر لیں اور اپنی شہرت و دولت کا خوب جلوہ دکھائیں ۔
واہ آج جاھل اور ناکارہ شخص بھی خواب دیکھتا ہے ملکہ کا ، خواب دیکھتا ہے سویزر لینڈ کی تجوری ک، یہ بیچاری عورت ہے جو اپنا گھر چھوڑ کر آتی ھے ماں باپ کو چھوڑ کر آتی ہے ، خاندان کو چھوڑ کر آتی ہے اور کچھ ڈیمانڈ نہیں کرتی ، تین لفظ ہوتے ہیں نکاح کے ، ہاں میں نے قبول کیا ، ہاں میں نے قبول کیا اور ساری زندگی غلامی قبول کرتی ہے ، صبح و شام تمہاری غلامی کرتی ہے ، پورے گھر والوں کی خدمت بھی کرتی ہے ، بچوں کی پرورش بھی کرتی ہے ، نسلوں کو آگے بڑھاتی ہے ، صنف نازک کہتے ہیں عورت کو ، بہت نازک ہوتی ہے اور ہم اسے مشین سمجھتے ہیں ، دیکھو نا صرف ایک ہفتہ اپنے گھر اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو سنبھال کر، پھر بیوی کی قیمت اور اس کے کام کا انداز ہو جائے گا ۔
افسوس! جو نکاح کا سوٹ بھی جہیز کے پیسوں سے خریدتے ہیں ، اس مسکین ڈیڑھ پسلی والی عورت پر حکومت کرتے ہیں اللہ تعالی نے تمہیں طاقتور اور نوجوان بنایا ہے ، اپنے بازووں پر بھروسہ کر کے تو دیکھو، آج سے طے کر کے دیکھو اور کہہ دو اپنی ماں سے کہ ہم جہیز نہیں لیں گے ، پیارے ابو! ہم بالکل سادگی سے شادی کریں گے ، اپنا کمرہ اور گھر ہم خود سجائیں گے ، جو لوگ پختہ عزم کر لیں گے تو ان کے ماں باپ ان پر زور نہیں دے سکتے!
نوجوان بھائیو! نکاح سادگی سے کر کے تو دیکھو ، کتنا سکون حاصل ہو گا اس وقت جب چار پانچ لوگوں کے ساتھ اس لڑکی کو سادگی سے اپنے گھر لے آؤ گے ؟
تمہاری روح کتنی خوش ہوگی تمہارا ضمیر کتنا خوش ہو گا ، تم کتنے خوش ہو گے ؟ تم اپنے گھر کے معمولی سے بیڈ پر بھی بہت خوش ہو گے اس بات پر کہ وہ تمہاری اپنی کمائی کی ہے ، سسرال والوں سے تو نہیں میں نے لیا ، تمہیں کتنی خوشی حاصل ہو گی کہ وہ لڑکی تمہیں ہمیشہ سرتاج بنا کر رکھے گی اور کہے گی کہ اللہ یہ وہی سرتاج ہے جس نے ہمارے ماں باپ کو سرخرو کیا ، انہیں قرضدار نہیں کیا۔
اٹھو نوجوانو! تہیہ تو کرو ، کوشش تو کرو اور سنو اولاد کے سر پرستو! ایسا مت کرو کہ حجر اسود کہاں سے آیا ،شرو ع میں اس کا رنگ کیا تھا؟ دیکھا جائے تو 80 فیصد شادیوں میں رکاوٹ ہمارے بزرگ طبقے کی سوچ یا نظریات ہوتی ہے۔ وہ اپنی جگہ درست سوچتے ہیں اور دور اندیشی بھی ہوتی ہے مگر کہیں تھوڑا سا توجہ کریں تو دور اندیشی سے زیادہ انا آڑے ہوتی ہے۔۔۔۔
شادی کو آسان بناو ورنہ سچی بات تو یہ ہے سوشل میڈیا پر دعوت گناہ اور سیاہ کاری ہر دوسرے لمحے میسر ہے ، محفوظ جگہ ، چند روپئے اور آپ کی نسل کا دامن ہمیشہ کے لیے داغدار ہوجائے گا۔ یاد رکھیے! شیطانی خیالات انسان کے جسم پر ہر وقت حاوی رہتے ہیں ، گناہ کے لیے کسی بھی وقت آمادہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ آپ کی تربیت پر شک نہیں پر شیطان بہت خطرناک ہے کچھ بھی کرسکتا ہے۔۔۔۔۔!
پیغام۔۔۔۔ نکاح جس کو شریعت نے دو خاندانوں کے مابین محبت، مؤدت اور رحمت کا ذریعہ بنایا ہے، اسے آسان سے آسان تر بناو ، ورنہ وہ دن دور نہیں کہ ظلم سے جہیز حاصل کرنے والوں اور رسم و رواج بڑھانے والوں کو خود ہی اپنی بیٹیوں کے معاملہ میں بہت زیادہ پریشان کن او رتکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑے: ﴿وَتِلْکَ الأیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْْنَ النَّاس﴾ یہ تو زمانہ کے نشیب وفراز ہیں، جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ آج ہماری کل تمہاری باری ہے!!!
اللہ ہمیں اپنی اور دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

غیر پروں سے اڑ سکتے ہو حد سے حد دیواروں تک
عنبر تک تو وہ جائیں گے جن کے اپنے پر ہوں گے
 
Top