ذیشان خان

Administrator
عید سے قبل اپنے ملک سفر کرنے والے خلیجی عامل کا روزہ

=======================
اس وقت اکثر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ جو لوگ عرب ممالک میں رہتے ہیں ، جب عید سے پہلے اپنے ملک ہندوستان ، پاکستان ، نیپال اور بنگلہ دیش وغیرہ جاتے ہیں تو ان کا روزہ اپنے ملک والوں سے زیادہ ہوجاتا ہے ۔ اس حال میں انہیں کیا کرنا ہے ؟ کیا ان کے ساتھ روزہ رکھنا ہے یا افطار کرنا ہے ؟
ایسے لوگوں سے عرض کریں گے کہ آپ سفر کرکے جہاں گئے ہیں وہاں کے حساب سے روزہ رکھیں کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
الصَّومُ يومَ تَصومونَ ، والفِطرُ يومَ تُفطِرونَ ، والأضحَى يومَ تُضحُّونَ( صحيح الترمذي:697)
ترجمہ: روزہ وہ دن ہے جس میں تم سب روزہ رکھتے ہو ، اور افطار وہ دن ہے جس میں تم سب روزہ نہیں رکھتے ہو ،اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم سب قربانی کرتے ہو ۔
آپ کا فرمان واضح ہے ، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آدمی جہاں بھی سفر کرکے جائے وہاں کے لوگوں کے حساب سے روزہ رکھے ، افطار کرے اور قربانی دے ۔
یہاں پر چند باتیں مزید سمجھ لینی چاہئے ۔
٭ روزہ رکھنے میں رویت ہلال کا ہی اعتبار ہوتا ہے جیساکہ حدیث میں ہے چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔
٭ روزہ دار قمری تاریخ کا اعتبار کرے گا نہ کہ عیسوی تاریخ کا ۔
٭ قمری مہینہ کم سے کم 29 کا اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کا ہوتا ہے ۔
٭آدمی سفر کرکے جس ملک میں جارہا ہے اس ملک کے حساب سے اگر اس کا روزہ اکتیس دن کا ہوجاتا ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر 29 سے کم ہوجاتا ہے تو کم از کم ایک روزہ بعد میں رکھنا ہوگا کیونکہ قمری مہینے میں کم ازکم دن 29 دن ہوتے ہیں ۔
واللہ اعلم
مقبول احمد سلفی
 
Top