ذیشان خان

Administrator
مکاں کو راس نہ آئے مکیں تو کیا کروں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
✍ عتیق الرحمن ریاضی، استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معلوم نا معلوم کے فاصلے مٹ گئے ہیں۔
اعتبار اور اعتماد سب ختم ہو چکے ہیں۔
میرے سارے لفظ بے ثمر ہو گئے ہیں۔
میرے سارے ہنر خاک میں مل گئے ہیں۔

میں بہت کچھ سوچنا چاہتا تھا۔
لیکن سوچ پر پہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔
میں بے بس اور لاچار ہو گیا ہوں۔
میں آزاد ہوتے ہوئے قید ہو گیا ہوں۔
مشعل راہ بننا تھا ؛ پر خود بھٹک گیاہوں!
میں نے اپنی آزادی خود سلب کی ہے ، اپنے پاوں میں خود زنجیریں ڈالی ہیں، اپنے اوپر خود قدغنیں لگائی ہیں ، اپنے دست و بازو خود کاٹ لئے ہیں ۔۔۔۔۔

میں وہ مجرم ہوں جو اپنے ساتھ انصاف کے لئے آواز بلند نہیں کر سکتا!
میں وہ پرندہ ہوں جو قفس ہی میں رہنا پسند کرتا!
اب مجھے یہ قید ہی اچھی لگتی ہے۔
اب مجھے آزادی کی تلاش ہی نہیں۔
میں اب حق بات کرنے سے قاصر ہوں۔
میں اب سچ کہنے سے ڈرتا ہوں۔
میں اب آواز اٹھانے سے ڈرتا ہوں۔
میں اب چراغ جلانے سے ڈرتا ہوں۔
میں اب صبح کا اعلان کرنے سے ڈرتا ہوں۔

میں ایک نئی دنیا بنا سکتا تھا۔
ایک نیا جہان آباد کر سکتا تھا۔
یہی میرا منصب تھا، یہ میرا مقام تھا۔
مجھے تو راستہ دکھانا تھا ، مجھے تو امید بننا تھا۔ مجھے تو جہان علم و دانش کہلانا تھا۔
مجھے نشان منزل دکھانا تھا۔
مگر میں نےخود اپنے آپ کو بے توقیر کر دیا۔
اپنی کجیوں، کمیوں کا میں سب سے بڑا خود اشتہار ہوں ، اپنی ناکامیوں کا میں خود شاہکار ہوں۔
کسی کی کیا بات!
میں خود اپنے انہدام کا سبب ہوں۔
مجھے تو حق کی آواز بلند کرنی تھی مگر میں نے خود اپنی آواز پر پہرے لگا لئے ہیں۔
اپنے ماتھے پر کلنک سجا لئے ہیں۔
اپنے گھر کو خود آگ لگا لی ہے۔
میں خود اپنی مرضی سے راکھ اور خاک ہو گیا ہوں۔

بتاؤ میں کون ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
 
Top