ذیشان خان

Administrator
امانت کی واپسی پر ہدیہ قبول کرنا
================
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

مقبول احمد سلفی

معزز علمائے کرام خصوصا شیخ مقبول احمد سلفی صاحب سے ایک سوال ہے کہ زید نے بکر کو ایک لاکھ روپیہ بطور امانت رکھنے دیا اب جب بکر نے ایک لاکھ روپیہ جو زید کی امانت تھی واپس کردی تو ہدیہ کے طور پر زید نے بکر کو پانچ سو روپے دئے تو کیا یہ ہدیہ بکر لے سکتا ہے یا نہیں ؟علمائے کرام جلد از جلد جواب دیں۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواب بعون اللہ الوھاب
الحمد للہ :
امانت کی حفاظت کرنا اور صحیح سلامت امانت والے کو اس کا سامان لوٹادینا احسان و سلوک کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس احسان کا بدلہ امانت سونپنے والے کو دعا یا کوئی ہدیہ کی شکل میں چکانا چاہئے ۔
جزاک اللہ خیرا کہنا بہت بہترین دعا ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
مَن صُنِعَ إليهِ معروفٌ فقالَ لفاعلِهِ : جزاكَ اللَّهُ خيرًا فقد أبلغَ في الثَّناءِ(صحيح الترمذي:2053)
ترجمہ: جس شحص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کر نے والے سے 'جزاك الله خيراً' (اللہ تعالیٰ تم کو بہتربدلادے)کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کردی۔
امانت کی واپسی احسان ہونے کے سبب اپنی پسند سے محسن کو کوئی ہدیہ بھی پیش کرسکتے ہیں جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
مَنِ استعاذَ باللَّهِ فأعيذوهُ ومن سألَ باللَّهِ فأعطوهُ ومَن دَعاكم فأجيبوهُ ومن صنعَ إليكُم معروفًا فَكافئوهُ فإن لم تجِدوا ما تُكافئونَه فادعوا لَه حتَّى تَروا أنَّكُم قد كافأتُموهُ(صحيح أبي داود:1672)
ترجمہ: جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اس کو امان دو اور جو شخص اللہ کے نام سے سوال کرے اس کو دو اور جو تمہاری دعوت کرے اس کی دعوت قبول کرو اور جو تمہارے ساتھ احسان کرے اس کا بدلہ دو ۔ اگر بدلہ دینے کے لیے کوئی چیز نہ پاؤ تو اس کے حق میں دعا کرو یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ اس ( کے احسان ) کا بدلہ دے دیا ہے ۔
اس لئے زید کا دیا ہوا 500 روپئے کا ہدیہ بکر قبول کرسکتا ہے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
 
Top