ذیشان خان

Administrator
آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بت پرستی کے ماحول میں آنکھ کھول کر توحید کا اعلان کرنا ، بتوں کے معبد میں جاکر بت شکنی کی جسارت کرنا ، ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کر کے آتش نمرود کی پرواہ نہ کرنا ، رضائے الہی کی خاطر اپنی محبوب بیوی اور نومولود بچے کو بے آب و گیاہ میدان میں تنہا چھوڑنا ، رب کے حکم پر اپنے فرمانبردار و اطاعت شعار اکلوتے لخت جگر کی گردن پر چھری پھیرنا۔۔۔۔۔۔۔!!!

پھر یہ تو ممکن ہی نہیں کہ مالک کائنات اس بندے کو اطاعت و رضا کا صلہ نہ دے۔۔۔۔۔!
وہ اپنے بندے کے لیے آگ کو گلزار بنا دیتا ہے۔۔۔۔۔
بیٹے کی پیاس بجھانے کی خاطر دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنے والی ماں کے عمل کو رہتی دنیا تک مثال بنا دیتا ہے اور صحرا کے میدان میں پانی کا میٹھا چشمہ (آب زمزم) جاری کر دیتا ہے ۔۔۔۔۔
اور جب خلیل اللہ دل کے پورے ارادے سے بیٹے کو زمین پر کروٹ کے بل لٹا دیتا ہے تو مالک بیٹے کی جگہ ایک حَسین مینڈھا ذبح کرنے کیلئے عطا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اور فرماتا ہے۔ ”اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچ کر دِکھایا۔ بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں“(سورۃ الصٰفّٰت ١٠۵- ١١٠)

قارئین محترم! حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حالات و واقعات میں ہمارے لئے یہ واضح پیغام ہے کہ۔۔۔۔
اللہ کی رضا کے لئے
ملت بیضا کے عروج کے لیے
توحید کی عظمت و رفعت کیلئے
ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے
اسلام کی ترقی و سربلندی کے لیے
باطل رسم و رواج کی سر کوبی کیلئے
حق کی خاطر بادشاہ کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے

اپنی آرزوؤں کو چھوڑنا پڑے تو پریشان نہ ہوں
خواہشات کو قربان کرنا پڑے تو قدم پیچھے نہ ہوں حسرتوں سے ہاتھ دھونا پڑے تو تذبذب کا شکار نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ مال و منال جان و اولاد سب اللہ وحدہ لاشریک کی عطا کردہ ہیں اور اس کی دی ہوئی چیز کو ضرورت پڑنے پر اس کی راہ میں نچھاور کردینا یہی قربانی و قربانی کا اصل تقاضا ہے اور یہی موجودہ دور کی ملت کا بھولا ہوا سبق ہے۔۔۔۔۔۔۔
یہ بات بھی یاد رکھیں کہ جب کوئی صدق دل سے اللہ کا ہوجائے تو اللہ تعالی اس کا ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔

کاش! ہمارے سوچ کا معیار درست ہو!
کاش! ہمارے دلوں اور جذبوں کی اصلاح ہو!
کاش! خلوص اور تقوی والی قربانی ہمیں نصیب ہو!

کیونکہ بارگاہِ ایزدی میں ہماری قربانیوں کا نہ گوشت پہونچتا ہے نہ خون ؛ بلکہ اصل تو تقوی ہی مطلوب و مقصود ہے۔۔۔۔۔۔
اللہ رب العالمین کا فرمان ہے "لن ینال اللہ لحومھا ولا دمائھا ولکن ینالہ التقوی منکم"

قربانی کے ذریعے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، انبیاء کرام علیہم السلام سے محبت ، خلوص وایثار کا جذبہ پروان چڑھتا ہے اور ایمان تروتازہ و پختہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
 
Top