ذیشان خان

Administrator
رمضان المبارک کے بعض مسائل

مقبول احمد سلفی
(1)رویت ہلال:
اسلامی عبادات کا رویت ہلال سے گہرا تعلق ہے خصوصا روزے کا ۔ روزہ رکھنا، افطارکرنا، عیدمناناسب قمری چاند پہ منحصر ہیں۔
اللہ کا فرمان ہے : يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الأَهِلَّةِ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ." (سورة البقرة: 189)
ترجمہ: لوگ آپ سے ہلال کے بارے میں پوچھتے ہیں ،کہو یہ لوگوں کے لئے اوقات اور حج کی تعیین کا ذریعہ ہے۔
نبی ﷺ کا ارشاد ہے : صوموا لرؤيتِه . وأفطروا لرؤيتِه . فإنْ أُغمْيَ عليكم فاقْدروا له ثلاثينَ (صحيح مسلم:1080)
ترجمہ : چاند دیکھ کر روزہ رکھو اورچاند دیکھ کر افطار کرو۔ اگر بدلی چھاجائے تو (شعبان کے ) تیس (دن) پورے کرو۔
اس لئے مسلمانوں کو ہرمہینہ چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے خصوصا اہم مہینےرمضان ،شوال ،ذوالحجہ وغیرہ۔
٭ چاند دیکھنے کی دعا: اَللّٰھُمَّ اؑھلَّه عَلَیْنَا بِالْأمْنِ وَالْإیْمَانِ وَالسَّلا مة وَالْإسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّك اللّه (السلسلہ الصحیحہ: 1816)
٭ 29 کا چاند نظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کئے جانے کے بعد روزہ رکھا جائے گا۔اوپر والی حدیث اس کی دلیل ہے۔
٭ہرشخص کا چاند دیکھنا ضروری نہیں ہے ،کسی علاقے میں ایک عادل مسلمان کا چاند دیکھنا کافی ہے ۔ دلیل : عن ابنِ عمرَ قال : تراءَى النَّاسُ الهلالَ فأخبرتُ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ علَيهِ وسلَّمَ أنِّي رأيتُه فَصامَه وأمر النَّاسَ بصيامِهِ(صحيح أبي داود للالبانی :2342)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ مین نے چاند دیکھ لیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔
٭ ایک شہر کی رویت قریبی ان تمام شہر والوں کے لئے کافی ہوگی جن کا مطلع ایک ہو۔ مطلع کے اختلاف سے ایک شہر کی رویت دوسرے شہر کے لئے نہیں مانی جائے گی ۔ دلیل :
أنَّ أمَّ الفضلِ بنتَ الحارثِ بعثَتْه إلى معاويةَ بالشامِ . قال : فقدمتُ الشامَ . فقضيتُ حاجتَها . واستهلَّ عليَّ رمضانُ وأنا بالشامِ . فرأيتُ الهلالَ ليلةَ الجمعةِ . ثم قدمتُ المدينةَ في آخرِ الشهرِ . فسألني عبدُ اللهِ بنُ عباسٍ رضي اللهُ عنهما . ثم ذكر الهلالَ فقال : متى رأيتُم الهلالَ فقلتُ : رأيناه ليلةَ الجمعةِ . فقال : أنت رأيتَه ؟ فقلتُ : نعم . ورأه الناسُ . وصاموا وصام معاويةُ . فقال : لكنا رأيناه ليلةَ السَّبتِ . فلا تزال نصومُ حتى نكمل ثلاثينَ . أو نراه . فقلتُ : أو لا تكتفي برؤيةِ معاويةَ وصيامِه ؟ فقال : لا . هكذا أمرَنا رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ (صحيح مسلم:1087)
ترجمہ : حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا۔ حضرت کریب کو اپنے ایک کام کے لیے حضرت معاویہ کے پاس شام میں بھیجتی ہیں۔ حضرت کریب فرماتے ہیں کہ وہاں ہم نے رمضان شریف کا چاند جمعہ کی رات کو دیکھا میں اپنا کام کر کے واپس لوٹا یہاںمیری باتیں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہو رہی تھیں۔
آپ نے مجھ سے ملک شام کے چاند کے بارے میں دریافت فرمایا تو میں نے کہا کہ وہاں چاند جمعہ کی رات کو دیکھا گیا ہے، آپ نے فرمایا تم نے خود دیکھا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں میں نے بھی دیکھا۔ اور سب لوگوں نے دیکھا، سب نے بالاتفاق روزہ رکھا۔ خود جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا۔ آپ نے فرمایا ٹھیک ہے، لیکن ہم نے تو ہفتہ کی رات چاند دیکھا ہے، اور ہفتہ سے روزہ شروع کیا ہے، اب چاند ہو جانے تک ہم تو تیس روزے پورے کریں گے۔ یا یہ کہ چاند نظر آ جائے میں نے کہا سبحان اللہ! امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کا چاند دیکھا۔ کیا آپ کو کافی نہیں؟ آپ نے فرمایا ہر گز نہیں ہمیں رسول اللہ ﷺ اسی طرح حکم فرمایا ہے ۔
یہ حدیث مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد وغیرہ میں موجود ہے ، اس حدیث پہ محدثین کے ابواب سے بات اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔
امام مسلم کا باب : باب بَيَانِ أَنَّ لِكُلِّ بَلَدٍ رُؤْيَتَهُمْ وَأَنَّهُمْ إِذَا رَأَوُا الْهِلاَلَ بِبَلَدٍ لاَ يَثْبُتُ حُكْمُهُ لِمَا بَعُدَ عَنْهُمْ
ترمذی کا باب : باب مَا جَاءَ لِكُلِّ أَهْلِ بَلَدٍ رُؤْيَتُهُمْ
نسائی کا باب: باب اخْتِلاَفِ أَهْلِ الآفَاقِ فِى الرُّؤْيَةِ
٭پرنٹ میڈیا یا الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ چاند کی خبر پانے پہ یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ خبر عادل مسلمان یا باوثوق ادارے کی طرف سے ہے کہ نہیں؟
٭ہندوستان، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش وغیرہ یعنی جس جس ملک میں سعودی عرب سے مطلع کا فرق پڑتا ہے وہاں کے لوگ سعودی عرب کے حساب سے نہ روزہ رکھیں نہ ہی عید منائیں گے ۔
٭ بعض علاقے میں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہوتی ہے ایسے ملک والے قریبی ملک کے حساب سے روزہ ،افطار اور نماز ادا کریں گے۔
(2) روزے کی نیت :
تمام اعمال کا دارومدار نیت پہ لہذا روزے کی قبولیت کے لئے اچھی نیت کا ہونا ضروری ہے ۔
اللہ کا فرمان ہے :قُل أَتُعَلِّمونَ اللَّهَ بِدينِكُم وَاللَّهُ يَعلَمُ ما فِى السَّمٰو‌ٰتِ وَما فِى الأَر‌ضِ ۚ(الحجرات:16)
ترجمہ : ان سے کہو کیا تم اللہ کو اپنی دین داری جتلاتے ہو اور اللہ تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے۔
گویا نام لیکر اپنے عملوں کو بتلانے کی ضرورت نہیں۔
اور نبی ﷺ کا فرمان ہے : إنما الأعمالُ بالنياتِ، وإنما لكلِّ امرئٍ ما نوى، فمن كانت هجرتُه إلى دنيا يصيُبها، أو إلى امرأةٍ ينكحها، فهجرتُه إلى ما هاجر إليه(صحيح البخاري:1)
ترجمہ : بے شک اعمال نیتوں کے ساتھ ہیں اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس نے دنیا پانے پانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی نیت سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی کام کے لئے ہے جس کی طرف ہجرت کی ۔
٭نیت کا تعلق دل سے ہے لہذا الفاظ کے ذریعہ زبان سے بول کر نیت کرنا بدعت ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : كلَّ بدعةٍ ضلالةٌ وَكلَّ ضلالةٍ في النَّارِ(صحيح النسائي:1577)
ترجمہ :ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ (جہنم) میں ہے۔
٭اعمال کی قبولیت کے لئےزبانی الفاظ کی نہیں بلکہ سچی نیت(اخلاص) اور نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کی ضرورت ہے ۔ جس کا ذکراللہ کے اس فرمان میں ہے :
فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا (الكهف:110)
ترجمہ : تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہیے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔
٭ پورے رمضان کی اکٹھے نیت درست نہیں ہے بلکہ ہرروزے کی الگ الگ نیت کرے ۔ نیت کا وقت مغرب کے بعد سے فجر تک ہے ۔ اس دوران کسی بھی وقت روزے کی نیت کرلے ۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے : من لم يبيِّتِ الصِّيامَ منَ اللَّيلِ فلا صيامَ لَه(صحيح النسائي: 2333)
ترجمہ: اس شخص کا روزہ نہیں جس نے رات ہی سے روزہ کی نیت نہ کی ہو۔
مَن لم يُجمعِ الصِّيامَ قبلَ الفجرِ فلا صيامَ لَهُ(صحيح أبي داود: 2454)
ترجمہ: جس نے فجر سے پہلے پہلے روزے کی نیت نہیں کی اس کا روزہ نہیں ۔
ان دونوں احادیث سے جہاں اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ہرروزے کی نیت الگ الگ ہونی چاہئے وہیں یہ بھی ظاہر ہے کہ روزے کی نیت کا وقت رات سے لیکر فجر تک ہے ۔
٭ لوگوں میں روزے کی نیت کے الفاظ معروف ہیں وہ الفاظ کچھ طرح سے ہیں۔
(1) نویت أن أصوم غدا(میں کل کا روزے رکھنے کی نیت کرتاہوں)
(2) بِصَوْمٍ غَدٍ نَّوَیْتُ(کل کے روزے کی نیت کرتاہوں)
(3) وَبِصَوْمِ غَدٍ نَّوَيْتَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ(اور میں رمضان مہینے کے کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں)
نیت کے یہ مختلف الفاظ کسی حدیث سے ثابت نہیں بلکہ اس تعلق سے کوئی ضعیف یا موضوع روایت بھی نہیں ملتی ۔ نیت کے الفاظ خود ہی بتلاتے ہیں کہ ہم خودساختہ ہیں ۔ ان الفاظ میں لفظ "غد" (جو کہ کل کے معنی میں ہے ) کیسے صحیح ہوسکتا ہے جبکہ روزہ آج کا ہوتا ہے ۔
تنبیہ : بعض لوگ امت کو نیت کے نام پہ ایسے اعمال کا درس دیتے ہیں جو نہ صرف باعث مشقت ہیں بلکہ تضییع اعمال کا بھی سبب ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ کتنے لوگ اس لئے نماز نہیں پڑھتے کہ انہیں نماز کی خودساختہ نیت نہیں آتی ۔
(3) سحری:
روزے کی صحت کے لئے سحری کھانا ضروری نہیں ہے تاہم سحری کھانا مسنو ن ہے اس لئے سحری کھانا چاہئے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے ۔ تسحَّروا، فإن في السَّحورِ بركةً (صحيح البخاري:1023،صحيح مسلم:1095)
ترجمہ: سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔
ایک دوسری حدیث میں نبی ﷺ کا فرمان ہے :
السُّحورُ أكلةُ بركةٍ فلا تدعوهُ ولو أن يَجرعَ أحدُكم جرعةَ ماءٍ فإنَّ اللهَ وملائكتَهُ يُصلُّونَ على المتسحِّرينَ(السلسلة الصحيحة:7/1206 )
ترجمہ: سحری تمام تر برکت ہے لہذا اس کو نہ چھوڑوخواہ تم میں سے کوئی ایک گھونٹ پانی ہی پی لے کیونکہ اللہ تعالی اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پہ رحمت بھیجتے ہیں۔
*سحری کی برکت سے سنت کی پیروی، اہل کتاب کی مخالفت،عبادت پر قوت،چستی میں اضافہ،بسبب بھوک بدخلقی سے نجات،بوقت سحر سائل کو صدقہ،ذکرودعا اور نیت روزہ کے اسباب و مواقع میسر ہوتے ہیں (اختصار ازکلام حافظ ابن حجرؒ فتح الباری 4/140)
٭ سحری کھانے کی کوئی خاص دعا نہیں ہے ، سحری سے پہلے بس روزے کی نیت کرنی ہے اگر رات میں نیت نہ کی ہوتو۔
٭بعض لوگ سحری نہیں کھاتے، بعض لوگ رات کا کھانا سحری سمجھ کے کھاتے ہیں اور بعض لوگ آدھی رات میں اٹھ کے کھالینے کو سحری سمجھتے ہیں ۔ ان تمام طریقوں میں سحری کی سنت مفقود ہے ۔
٭ سحری کا وقت فجر سے کچھ پہلے ہے ۔
تسَحَّرْنا معَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، ثم قام إلى الصلاةِ، قلتُ : كم كان بينَ الأذانِ والسُّحورِ ؟ . قال : قدْرَ خمسينَ آيةً (صحيح البخاري:1921)
ترجمہ: صحابی رسول زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے سحری کھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ سحری اور اذان میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا تو انہوں نے کہا کہ پچاس آیتیں (پڑھنے) کے موافق فاصلہ ہوتا تھا۔
٭ اگر کبھی سحری کھاتے کھاتے فجر کی اذان ہوجائے تو کھانا نہ چھوڑے بلکہ پلیٹ کا کھانا صاف کرلے ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إذا سمعَ أحدُكُمُ النِّداءَ والإناءُ على يدِهِ ، فلا يَضعهُ حتَّى يقضيَ حاجتَهُ منهُ(صحيح أبي داود:2350)
ترجمہ: تم میں سے جب کوئی (فجر) کی اذان سنے اوربرتن اس کے ہاتھ میں ہوتو اسے رکھے نہیں بلکہ اپنی ضرورت پوری کرلے۔
اس میں دو باتیں دھیان دینے کے لائق ہیں ۔ اولا : اس طریقہ کو معمول نہ بنائے ۔ ثانیا: اس حدیث میں اس اذان کا ذکر ہے جوصحیح وقت پر ہو ۔ جن مساجد میں فجر کی اذان صحیح وقت پر نہیں ہوتی بلکہ تاخیر سے ہوتی ہےوہ اس حکم میں داخل نہیں۔
٭ سحری کے لئے طہارت شرط نہیں اس لئے اگر احتلام ہوگیا ہویا جماع کیا ہوتو اس حالت میں سحری کھاسکتے ہیں ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ۔
أشهَدُ على رسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إنه كان لَيُصبِحُ جُنُبًا، من جِماعٍ غيرِ احتِلامٍ، ثم يصومُه . (صحيح البخاري:1931)
ترجمہ : میں گواہی دیتی ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم احتلام کے سبب سے نہیں بلکہ جماع کے سبب سے حالت جنابت میں صبح کرتے اور غسل کیے بغیر روزہ رکھتے۔
تاہم صبح ہی غسل کرلے تاکہ فجر کی نماز جماعت سے ادا کرے ۔
(4) افطار:
افطار کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے ۔ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:لاَ يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطْرَ(صحیح البخاري 1957)
ترجمہ: حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ جلدی افطاری کرتے رہیں گے ۔
٭ افطار میں جلدی کرنا چاہئے یعنی سورج ڈوبتے ہی فورا افطار کرنا چاہئے ۔ اوپر والی حدیث اس بات کی دلیل ہے ۔
٭لوگوں میں مشہور افطار کی دعا " اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ" مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ شیخ البانی نے ابوداؤد کی حدیث کو ضعیف کہا ہے۔ دیکھیں(ضعيف أبي داود:2358)
٭ افطار کرتے وقت بسم اللہ کہیں اور افطار کے بعد یہ دعا پڑھیں :
ذَهَبَ الظَّمأُ وابتلَّتِ العُروقُ وثبَتَ الأجرُ إن شاءَ اللَّهُ(صحيح أبي داود:2357)
ترجمہ: پیاس بجھ گئی ، رگیں تر ہوگئی ، اوراللہ نے چا ہا تو اجربھی ثابت ہوگیا۔
٭ افطار کرانا بڑے اجر کا کام ہے ۔ حدیث پاک میں ہے نبی پاک ﷺ نے فرمایا:
مَن فطَّرَ صائمًا كانَ لَهُ مثلُ أجرِهِ ، غيرَ أنَّهُ لا ينقُصُ من أجرِ الصَّائمِ شيئًا(صحيح الترمذي:807)
ترجمہ: جس شخص نے کسی روزہ دارکو افطارکروایاتواس شخص کوبھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا ثواب روزہ دار کے لئے ہوگا،اورروزہ دارکے اپنے ثواب میں‌ سے کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی۔
جب کوئی کسی دوسرے کے یہاں افطار کرے تو یہ دعا پڑھے :
أفطرَ عندَكُمُ الصَّائمونَ ، وأكَلَ طعامَكُمُ الأبرارُ ، وصلَّت عليكمُ الملائِكَةُ(صحيح أبي داود:3854)
ترجمہ: تمہارے پاس روزے داروں نے افطاری کی، نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور تم پر فرشتوں نے رحمت بھیجی ۔
٭ غلطی سے وقت سے پہلے افطار کرنے والوں کو چاہئے کہ جیسے ہی غلطی کا علم ہو فورا کھانا ترک کردے ، اس پہ کوئی گناہ اور کوئی کفارہ نہیں ہے۔ جیساکہ نبی ﷺ فرمان ہے :
من أكل ناسيًا ، وهو صائمٌ ، فليُتِمَّ صومَه ، فإنما أطعمَه اللهُ وسقاهُ(صحيح البخاري:6669)
ترجمہ: جس شخص نے روزہ کی حالت میں بھول کر کھا لیا ,تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنا روزہ مکمل کرے ۔ یقینًا اللہ ہی نے اسے کھلایا اور پلایا ہے ۔
لیکن عمدا ایسا کرنے والوں کے لئے سخت وعید ہے ۔
٭ غیر مسلم اگر حلال کمائی سے افطار کرائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے گردینی مصلحت ہو لیکن اگراسلام کے لئے برے ہوں تو بچنا بہترہے ، اسی طرح جو لوگ افطار کو سیاست سے جوڑتے ہیں اور افطار پاڑتی کرتے ہیں اس سے بھی پرہیز بہتر ہے۔
٭ ہوائی جہاز میں سفر کرنے والوں کو بھی اس وقت تک افطار نہیں کرنا ہے جب تک سورج نظر آئے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:
إذا أقبل الليلُ من ها هنا، وأدبر النهارُ من ها هنا، وغربتِ الشمسُ، فقد أفطر الصائِمُ(صحيح البخاري:1954)
ترجمہ : ’’جب ادھر رات بڑھ آئے اور ادھر سے دن پیچھے ہٹ جائے اور سورج ڈوب جائے تو اس وقت روزہ دار روزہ افطار کرے۔
٭ مسلمانوں کے بعض طبقات میں افطار کے لئے پانچ سے دس منٹ تک کا احتیاط ہوتا ہے ، اسی حساب سے یہ لوگ اپنے افطار کا کلینڈر بناتے ہیں ۔ اس لئے میں عام مسلمانوں کو باخبر کرنا چاہتاہوں کہ یہ سنت کی مخالفت ہے بلکہ افطار میں احتیاط کو رواج دینا بدعت کا ارتکاب ہے ۔سورج ڈوبتے ہی ہمیں بغیر احتیاط کئے فورا افطار کرنا چاہئے ۔
(5) روزے کے مفسدات :
وہ امور جن سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ۔
٭ بلاعذر قصدا کھا پی لینے سے روزۃ ٹوٹ جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو قضا کے ساتھ توبہ بھی کرنا چاہئے۔
٭ بحالت روزہ جماع کرنا۔ اس کی قضا اور کفارہ دونوں ہے ۔ کفارہ : ایک غلام آزادکرنا یا دو مہینے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ۔
٭ حیض ونفاس کا آنا۔
٭ قصدا قے کرنا۔
٭بوس وکنار یا مشت زنی سے منی خارج کرنا۔ اس پہ صرف قضا ہے ۔
٭ جو اشیاء کھانے پینے کے مقابل ہوں ان سے بھی روزہ فاسد ہوجائے گا۔ مثلا قوت والا انجکشن
٭ عمدا خون کا نکالنا مثلا حجامہ ۔(بعض لوگوں کے نزدیک حجامہ ناقض روزہ نہیں ہے )
(6) روزے کے جائزومستحب امور :
اس میں دو باتیں ہیں ۔
پہلی بات: ان امور سے متعلق ہے جن سے روزہ نہیں ٹوٹتااور وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔
بھول کر کھاناپینا، سہوا قے کرنا، طاقت رکھنے والوں کا بیوی سے بوس وکنار کرنا،خود بخود خون آنا مثلا نکسیر ، زخم یا طبی معائنہ کی غرض سے تھوڑا سا خون نکالنا، غیرمقوی انجکشن لگانا، سرمہ لگانا، کلی کرنا ، ناک میں پانی ڈالنا، سر پہ پانی ڈالنا، نہانا، ضرورتا کھانے کا ذائقہ چکھنا بشرطیکہ معدے میں نہ جائے ، احتلام ہوجانا، حالت جنابت میں صبح ہوجانا، ناک - کان اور آنکھ میں قطرے ڈالنا(یہ عمل رات میں کرے تو بہترہے)، توتھ پیسٹ کرنا وغیرہ ۔
دوسری بات : ان امور سے متعلق ہے جن کا کرنا بحالت روزہ مستحب وپسندیدہ ہے ۔
٭ عبادت پہ محنت: ہر قسم کی بھلائی کا کام کرنا ۔مثلا قرآن کی تلاوت، اس میں تدبر،صدقہ،دعا،ذکرفرائض کے ساتھ دیگر نفلی عبادت پہ محنت کرنا۔
٭ فرائض کے علاوہ عبادات میں تراویح، شب قدرکی عبادت، عمرہ اور اعتکاف بڑے اجر والا عمل ہے ۔
٭مسواک کرنا: حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے :السواک مطھرۃ للفم مرضاۃ للرب (رواہ البخاری تعلیقا)
ترجمہ : مسواک سے منہ صاف ہوتاہے اور اللہ کی رضامندی حاصل ہوتی ہے ۔
٭ افظاروسحر میں کھجوریا پانی کا استعمال مسنون ہے ،سحر میں تاخیراور افطار میں جلدی کریں ، افطار کے وقت دعاکرنا اور روزے داروں کا افطار کرانا بھی محبوب عمل ہے ۔
٭ یہاں یہ بھی دھیان رہے کہ جہاں بحالت روزہ بھلائی کا کام کرنے سے اجر بڑھ جاتا ہے وہیں اس مہینے میں خصوصا روزے کی حالت میں گناہ کرنے سے برائی کا درجہ بھی بڑھ جاتا ہے اس لئے زبان، ہاتھ پیراور پورے دل دماغ کو روزے کے منافی امور سے بچائے ۔
(7)روزہ داروں کے اقسام واحکام
(الف)بیمار:
بیمارکی دوقسمیں ہیں ایک وہ بیمارآدمی جو روزہ کی وجہ سے مشقت یا جسمانی ضررمحسوس کرے یا شدید بیماری کی وجہ سے دن میں دوا کھانے پہ مجبور ہو تو اپنا روزہ چھوڑسکتا ہے ۔ ضررونقصان کی وجہ سے جتنا روزہ چھوڑے گا اتنے کا بعد میں قضا کرنا ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)
ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
دوسرا وہ بیمار جن کی شفا یابی کی امید نہ ہو اور ایسے ہی بوڑے مردوعورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ان دونوں کو روزہ چھوڑنا جائز ہے اور ہرروزے کے بدلے روزانہ ایک مسکین کو نصف صاع(تقریبا ڈیڑھ کلو) گیہوں، چاول یا کھائی جانے والی دوسری اشیاء دیدے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ(البقرة:184)
ترجمہ :اور اس کی طاقت رکھنے والےفدیہ میں ایک مسکین کو کھانادیں۔
یہاں یہ دھیان رہے کہ معمولی پریشانی مثلا زکام ، سردرد وغیرہ کی وجہ سے روزہ توڑنا جائز نہیں ہے ۔
(ب)مسافر:
رمضان میں مسافر کے لئے روزہ چھوڑنا جائز ہے جیساکہ اللہ کا فرمان ہے :
فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ(البقرۃ:184)
ترجمہ : اورجوکوئی مریض ہو یا پھر مسافر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔
اگر سفر میں روزہ رکھنے میں مشقت نہ ہو تو مسافر حالت سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے ۔ اس کے بہت سارے دلائل ہیں ۔ مثلا۔
ایک صحابی نبی ﷺ سے سفر میں روزہ کے بابت پوچھتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
إن شئتَ صمتَ وإن شئتَ أفطرتَ( صحيح النسائي:2293)
ترجمہ : اگر تم چاہو تو روزہ اور اگر چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔
مسافر چھوڑے ہوئے روزے کی قضا بعد میں کرے گا۔
(ج) عورت کا روزہ:
حیض والی اور بچہ جنم دینے والی عورت کے لئے خون آنے تک روزہ چھوڑنے کا حکم ہے ۔
اور جیسے ہی خون بند ہوجائے روزہ رکھنا شروع کردے۔ کبھی کبھی نفساء چالیس دن سے پہلے ہی پاک ہوجاتی ہیں تو پاک ہونے پر روزہ ہے۔عورت کےلئے مانع خون دوا استعمال کرنے سے بہتر ہے طبعی حالت پہ رہے ۔حیض اور نفاس کے علاوہ خون آئے تو اس سے روزہ نہیں توڑنا ہے بلکہ روزہ جاری رکھناہے ۔
دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ عورت کو جب اپنے لئے یا بچے کےلئے روزہ کے سبب خطرہ لاحق ہو تو روزہ چھوڑ سکتی ہے ۔ بلاضرر روزہ چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔ نبی ﷺ کے اس فرمان کا یہی مطلب ہے ۔
إنَّ اللَّهَ عزَّ وجلَّ وضعَ للمسافرِ الصَّومَ وشطرَ الصَّلاةِ ، وعنِ الحُبلَى والمُرضِعِ( صحيح النسائي:2314)
ترجمہ: اللہ تعالی نے مسافر کے لئے آدھی نماز معاف فرما دی اور مسافر اور حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزے معاف فرما دیئے۔
بیمار اور سن رسیدہ عورت کے احکام پہلے نمبر میں شامل ہیں۔
جب عذر کی وجہ سے عورت روزہ چھوڑدے تو بعد میں اس کی قضا کرے۔حاملہ اور مرضعہ کے تعلق سے فدیہ کا ذکرملتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے ۔
(د)بچوں کا روزہ:
بچوں پر روزہ فرض نہیں ہے جب تک بالغ نہ ہوجائے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
رُفِعَ القلمُ عن ثلاثةٍ: عنِ المجنونِ المغلوبِ على عقلِهِ حتَّى يُفيقَ، وعنِ النَّائمِ حتَّى يستيقظَ، وعنِ الصَّبيِّ حتَّى يحتلمَ(صحيح أبي داود:4401)
ترجمہ:ميرى امت ميں سے تين قسم ( كے لوگوں ) سے قلم اٹھا ليا گيا ہے، مجنون اور پاگل اور بے عقل سے جب تك كہ وہ ہوش ميں آجائے، اور سوئے ہوئے سے جب تك كہ وہ بيدار ہو جائے، اور بچے سے جب تك كہ وہ بالغ ہو جائے۔
لیکن تربیت کے طور پر بچوں سے بھی روزہ رکھوایا جائے جب وہ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔ بعض علماء نےروزہ کے لئے بچوں کی مناسب عمردس سال بتلائی ہے کیونکہ حدیث میں دس سال پہ ترک نماز پر مارنے کا حکم ہے ۔ بہر کیف دسواں سال ہو یا اس سے پہلے کا اگر بچے روزہ رکھ سکتے ہوں تو سرپرست کی ذمہ داری ہے کہ ان سے روزہ رکھوائیں ۔ اس کی نظیر قرون مفضلہ میں ملتی ہے ۔
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رضي الله عنها قَالَتْ : أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الأَنْصَارِ الَّتِى حَوْلَ الْمَدِينَةِ :مَنْ كَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ كَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ ، فَكُنَّا بَعْدَ ذَلِكَ نَصُومُهُ ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَنَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الإِفْطَارِ(صحيح البخاري:1960وصحيح مسلم :1136) .
ترجمہ:ربيع بنت معوذ بن عفرا رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يوم عاشوراء كے دن مدينہ كے ارد گرد رہنے والے انصار كى طرف ايك شخص كو يہ پيغام دے كر بھيجا كہ:جس نے روزہ ركھا ہے وہ اپنا روزہ پورا كرے، اور جس نے روزہ نہيں ركھا وہ باقى سارا دن بغير كھائے پيے گزارے ۔ چنانچہ اس كے بعد ہم روزہ ركھا كرتے تھے، اور ان شاء اللہ اپنے چھوٹے بچوں كو بھى روزہ ركھواتے اور ہم مسجد جاتے تو بچوں كے ليے روئى كے كھلونے بنا ليتے، جب كوئى بچہ بھوك كى بنا پر روتا تو ہم اسے وہ كھلونا دے ديتے۔
تعليقات بخاری میں باب صوم الصبيان کے تحت یہ روایت مذکورہے کہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ نے رمضان المبارك ميں نشہ كرنے والے شخص كو مارتے ہوئے فرمايا:تو تباہ ہو جائے، ہمارے تو بچے بھى روزے سے ہيں۔
(ر)بلاعذرقصدا روزہ چھوڑنے والا:
رمضان میں بغیر عذر کے قصدا روزہ چھوڑنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ۔ اسے اولا اپنے گناہ سے سچی توبہ کرنا چاہئے اور جو روزہ چھوڑا ہے اس کی بعد میں قضا بھی کرے ۔ اور اگر کوئی بحالت روزہ جماع کرلیتا ہے اسے قضا کے ساتھ کفارہ بھی ادا کرنا ہے ۔کفارہ میں لونڈی آزاد کرنا یا مسلسل دو مہینے کا روزہ رکھنا یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے ۔
یاد رہے بلاعذر روزہ توڑنے کا بھیانک انجام ہے ۔ مستدرک وغیرہ کی روایت ہے ۔
بَينا أنا نائمٌ أتاني رجلانِ ، فأخذا بِضَبْعَيَّ فأتَيا بي جبلًا وعْرًا ، فقالا : اصعدْ . فقلتُ : إنِّي لا أُطيقُهُ . فقال : إنَّا سَنُسَهِّلُهُ لكَ . فصعدتُ ، حتَّى إذا كنتُ في سَواءِ الجبلِ إذا بأصواتٍ شديدةٍ . قلتُ : ما هذهِ الأصواتُ ؟ قالوا : هذا عُوَاءُ أهلِ النَّارِ ثمَّ انْطُلِقَ بي فإذا أنا بقَومٍ مُعلَقِينَ بعراقيبِهِم ، مُشَقَّقَةٌ أشداقُهُم ، تسيلُ أشداقُهُم دمًا . قال : قلتُ : مَن هؤلاءِ ؟ قال : الَّذينَ يُفطِرونَ قبلَ تَحلَّةِ صَومِهِم .(صحيح الترغيب: 2393)
ترجمہ : ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے:ایک مرتبہ میں سو رہا تھا میرے پاس دو آدمی آئے انہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور وہ دونوں مجھے ایک مشکل پہاڑ کے پاس لے آئے تو انہوں نے کہا کہ اس پر چڑھو میں نے کہا میں اس پر چڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتا، انہوں نے کہا ہم اس کو آپ کے لیے آسان کر دیتے ہیں تو میں اس پر چڑھ گیا حتیٰ کہ جب پہاڑ کے درمیان میں تھا تو میں نے خوفناک آوازیں سنی تو میں نے کہا یہ آوازیں کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ آگ والوں کی چیخ و پکار اور واویلہ ہے، پھر مجھے ایک جگہ لے جایا گیا تو میں وہاں کچھ لوگوں کو دیکھا جو الٹے لٹکائے گئے تھے ان کی باچھیں (منہ کی دونوں اطراف ) پھاڑی ہوئی تھیں اور ان سے خون بہہ رہا تھا میں نے کہا یہ کون ہے تو کہا یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ افطار کے وقت سے پہلے ہی کھول دیتے تھے۔
ہماری نصیحت کے لئے ایک حدیث ہی کافی ہے ۔
(س)نماز کے بغیر روزہ رکھنے والا:
جیسے روزہ ارکان اسلام میں ایک رکن ہے ویسے ہی نماز بھی ایک رکن ہے ۔ نماز کے بغیر روزے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ جو نماز کا منکر ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ نبی ﷺ فرمان ہے :
العَهدُ الَّذي بيننا وبينهم الصَّلاةُ ، فمَن تركَها فَقد كَفرَ(صحيح الترمذي:2621)
ترجمہ :ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے،جس نے نماز کو چھوڑا پس اس نے کفر کیا۔
اس وجہ سے تارک صلاۃ کا روزہ قبول نہیں ہوگا بلکہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے اس کا کوئی بھی عمل قبول نہیں کیا جائے گاجب تک کہ وہ توبہ نہ کرلے ۔
اس سلسلے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
"الذي يصوم ولا يصلى لا يقبل منه صوم ، لأنه كافر مرتد ، ولا تقبل منه زكاة ولا صدقة ولا أي عمل صالح ، لقول الله تعالى ( وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلاَّ أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلا يَأْتُونَ الصَّلاةَ إِلاَّ وَهُمْ كُسَالَى وَلا يُنفِقُونَ إِلاَّ وَهُمْ كَارِهُونَ ) التوبة/54
فإذا كانت النفقة وهي إحسان إلى الغير لا تقبل من الكافر فالعبادة القاصرة التي لا تتجاوز فاعلها من باب أولى ، وعلى هذا فالذي يصوم ولا يصلى هو كافر والعياذ بالله ، وصومه باطل ، وكذلك جميع أفعاله الصالحة لا تقبل منه"(فتاوى نور على الدرب لابن عثيمين :124 /32) .
اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو آدمی روزہ رکھتا اور نماز نہیں پڑھتا ہے اس کا روزہ مقبول نہیں ہے اس لئے کہ وہ کافر اور مرتد ہے ۔ اس کی طرف سے زکوۃ ،صدقات بلکہ کوئی نیکی قبول نہیں کی جائے گی۔
اللہ کا فرمان ہے : وَمَا مَنَعَهُمْ أَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَى وَلَا يُنْفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ۔
ترجمہ :انکے صدقات کی قبولیت کے سامنے صرف یہی بات آڑے آئی کہ انہوں نے اللہ ، اور رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، اور وہ نمازوں کیلئے صرف سستی کرتے ہوئے آتے ہیں، اور صدقہ دیتے ہیں تو انکے دل تنگی محسوس کرتے ہیں۔
جب کافر سے دوسروں پہ خرچ کرنے کا احسان قبول نہیں ہوگا تو عبادت جو کہ ذاتی فعل ہے بدرجہ اولی قبول نہیں ہوگی ۔ اس لئے جو آدمی روزہ رکھتا اور نماز ادا نہیں کرتا (اللہ کی پناہ )وہ کافر ہے ۔اس کا روزہ باطل ہے اور اسی طرح تمام نیک اعمال( بھی باطل ہیں)قبول نہیں کئے جائیں گے ۔
اسی طرح روزے دار کو چاہئے کہ رمضان میں بھلائی کا کام کرے اور منکر کام سے بچے ۔ جو آدمی روزے سے ہو اور جھوٹ بولے ، برا کام کرے اور گندی حرکتوں سے باز نہ آئے ایسے روزہ داروں کے روزہ کی کوئی وقعت نہیں ۔ اللہ ایسوں کو پسند نہیں فرماتا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْل فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ .(صحيح البخاري:6057)
ترجمہ : ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جوکوئي قول زور اوراس پر عمل کرنا اورجہالت نہ چھوڑے اللہ تعالی کو اس کے بھوکا اورپیاسا رہنے کی کوئي ضرورت نہیں۔

(8) تراویح:
رمضان میں قیام کرنے کو قیام رمضان کہا جاتا ہے ۔ یہ وہی نماز ہے جو دیگر مہینوں میں قیام اللیل اور تہجد کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ رمضان میں عام طور سے تراویح کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ نفل نمازہے اس کا بہت زیادہ ثواب ہے ۔ حدیث میں ہے ۔
من قام رمضانَ إيمانًا واحتسابًا ، غُفِرَ له ما تقدَّم من ذنبِه(صحيح مسلم:759)
ترجمہ: راوی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے رمضان کی راتوں میں نماز تراویح پڑھی، ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ، اس کے اگلے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے۔
٭ تراویح کی مسنون رکعات آٹھ ہیں ، اس کی سب سے بڑی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان جو بخاری شریف میں ہے :
أنه سأل عائشة رضي الله عنها : كيف كانت صلاة رسول الله صلَّى اللهُ عليه وسلَّم في رمضان ؟ . فقالتْ : ما كان يزيدُ في رمضانَ ولا في غيرهِ على إحدى عشرةَ ركعةً،يُصلِّي أربعًا، فلا تَسَلْ عَن حُسْنِهِنَّ وطولهِنَّ، ثم يُصلِّي أربعًا، فلا تَسَلْ عنْ حُسْنِهِنَّ وطولهِنَّ، ثم يصلي ثلاثًا .(صحيح البخاري:2013)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز رمضان میں کیسی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ رمضان میں اور اس کے علاوہ دونوں میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہ بڑھتے تھے۔ چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ان کے طول و حسن کو نہ پوچھو۔ پھر چار رکعتیں پڑھتے جن کے طول و حسن کا کیا کہنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے تھے۔
اس حدیث پہ چند اعتراض کا جواب :
اعتراض : یہ تہجد کی نماز ہے تراویح کی نہیں ۔
جواب : تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے دو الگ الگ نام ہیں ۔
اعتراض : تراویح اور تہجد دو الگ الگ نمازیں ہیں ۔
جواب : یہ دونوں ایک ہی نمازیں ہیں جو کہ حدیث میں ہی مذکور ہے کہ رمضان یا غیر رمضان میں آپ کا قیام آٹھ رکعت کا ہوا کرتا تھا۔اگر یہ تہجد کی نماز مان لی جائے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ آپ نے دوبارہ تراویح الگ سے پڑھی جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ اور صحابہ کرام جب چوتھے روز باجماعت تراویح کے لئے جمع ہوئے اور نبی ﷺ نہیں نکلے تو صحابہ دوبارہ دوسرے قیام کے وقت پھر آتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا؟ ۔ مشہور حنفی عالم مولانا انور شاہ کشمیری نے بھی تہجد اور تراویح کو ایک ہی نماز تسلیم کیا ہے ۔ (دیکھیں:عرف الشذی :309)
اعتراض :اگریہ تراویح کی نماز ہے تو دو دو کیوں پڑھتے ہیں ، اس حدیث میں چارچار کا ذکر ہے؟
جواب : اس حدیث میں چار چار رکعات کا وصف بتلایا گیا ہے نہ کہ چار رکعت پہ سلام پھیرنے کا۔ آپ ﷺدو دو کرکے ہی قیام کرتے تھے جس کے بہت سے دلائل ہیں ۔
ایک دلیل : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يصلِّي فيما بين أن يفرغَ من صلاةِ العشاءِ ( وهي التي يدعو الناسُ العتمَةَ ) إلى الفجرِ ، إحدى عشرةَ ركعةً . يسلِّمُ بين كلِّ ركعتَينِ . ويوتر بواحدةٍ .(صحيح مسلم:736)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور اسی نماز کو لوگ عتمہ بھی کہتے تھے، آپ ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔
دوسری دلیل : صلاةُ الليلِ مثنى مثنى ، فإذا خشي أحدُكم الصبحَ صلى ركعةً واحدةً ، توتِرُ له ما قد صلى.(صحيح البخاري:990 و صحيح مسلم:749)
ترجمہ : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور اگر تم میں کسی کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو، اور وہ ایک رکعت پڑھ لے، تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کے لئے وتر ہوجائیگی۔
٭ تراویح کی نماز اکیلے اور باجماعت دونوں پڑھنا صحیح ہے ۔
٭ مرد امام کے پیچھے صرف عورتوں کا تراویح پڑھنابھی جائز ہے ۔
٭ تراویح مسجد اور گھر دونوں جگہ پڑھی جاسکتی ہے۔
٭ تراویح میں بضرورت قرآن اٹھانا اور دیکھ کر پڑھنا دونوں جائز ہے ۔
٭تراویح میں قرآن ختم کرنا ضروری نہیں ہے البتہ ختم کرے تو بہتر ہے نبی ﷺ رمضان میں مکمل قرآن کا دورہ کرتے تھے۔
٭نبی ﷺ کی طرف منسوب بیس رکعت تراویح والی کوئی روایت صحیح نہیں ہے ۔
دو غلط فہمیوں کا ازالہ
پہلی غلط فہمی : لوگوں کے درمیان یہ غلط فہمی پھیلی ہے کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعت تراویح پہ جمع کیاجبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق بیس رکعت والی حدیث ضعیف اور صحیح حدیث کے مخالف ہے ۔ درست بات یہی ہے کہ حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا جو صحیح سند سے ثابت ہے ۔
عن عمرَ رضيَ اللَّهُ تعالى عنهُ أنَّهُ أمرَ أبيَّ بنَ كعبٍ وتميمًا الدَّاريَّ أن يقوما للنَّاسِ بإحدى عشرةَ رَكعةً(تحفة الأحوذي:3/234)
ترجمہ : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا تھا کہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھایا کریں۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے مشکوۃ ،ارواء الغلیل ، تمام المنہ اور صلاۃ التراویح میں ، شیخ ابن عثیمین نے بلوغ المرام اور ریاض الصالحین کی شرح میں ، علامہ مبارکپوری نے تحفۃ الاحوذی میں صحیح الاسناد بتلایا ہے ۔
گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی گیارہ رکعت پہ ہی لوگوں کا جمع کرنا ثابت ہوتا ہے اور یہی بات بخاری شریف میں مذکور بیان عائشہ رضی اللہ عنہا کے موافق ہے ۔
دوسری غلط فہمی : اگر سنت تراویح آٹھ رکعت ہے تو حرم شریف میں بیس رکعت تراویح کیوں پڑھائی جاتی ہے ؟
اصل میں حرم عالمی جگہ ہے ،یہاں کسی زمانے میں چار مصلے ہواکرتے تھے ، آل سعود نے الحمد للہ ایک مصلی قائم کرکے فتنہ رفع کیا ۔ تراویح بھی لوگوں کے لئے باعث اختلاف تھا اس لئے مصلحتا بیس رکعت رکھی گئی ۔ اس کے لئے دو امام کا انتخاب کیا گیا تاکہ ایک امام دس پڑھا کر چلے جاتے ہیں وہ الگ سے اکیلےایک رکعت وتر پڑھتے ہیں جس سےگیارہ رکعت تراویح کی سنت پوری ہوجاتی ہے۔ یہی حال دوسرے امام کا بھی ہے ۔ اس طرح سے نہ صرف فتنہ ختم ہوگیابلکہ امام کو گیارہ گیارہ رکعت پڑھنے اور دور دراز سے لیٹ سیٹ آنے والوں کو جس قدر میسر ہو پڑھنے کا موقع مل گیا۔حرم کے علاوہ سعودی عرب کی اکثر مساجد میں صرف آٹھ رکعت تراویح ہوتی ہے کیونکہ عرب کے علماء کا یہی موقف اور فتوی ہے ۔ چنانچہ سعودی لجنہ دائمہ کا فتوی ہے :
''والأفضل ما کان النبيﷺ یفعله غالبًا وھو أن یقوم بثمان رکعات یسلم من کل رکعتین، ویوتر بثلاث مع الخشوع والطمأنینة وترتیل القراء ة، لما ثبت فی الصحیحین من عائشة رضی اﷲ عنھا قالت: کان رسول اﷲ ﷺ لا یزید في رمضان ولا في غیرہ علی إحدٰی عشرة رکعة...''(فتاوٰی اللجنة الدائمة 7؍212)
ترجمہ : اور افضل وہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر کرتے تھے، اور وہ یہ کہ انسان آٹھ رکعات پڑھے، اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے، پھر تین وتر ادا کرے اور پوری نماز میں خشوع، اطمینان اور ترتیل قرآن ضروری ہے۔ بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور دیگر مہینوں میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔
یہی فتوی شیخ ابن باز، شیخ ابن عثیمین اور عرب کے دیگر مشائخ کا ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں سنت کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کی توفیق دے ۔ آمین
(9) نماز وتر
٭ وتر کی فضیلت :
عبادت قرب الہی کا ذریعہ ہے اور وترعبادتوں میں سے قرب الہی کا عظیم ذریعہ ہے ۔ یہ ایک مستقل نماز ہے جو رات میں عشاء اور فجر کے درمیان ادا کی جاتی ہے۔ اس کی فضیلت میں متعدد احادیث ملتی ہیں۔ مثلا
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُ قالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: مَنْ خَافَ أنْ لا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أفْضَلُ. (صحيح مسلم:755)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص آخر رات میں نہ اٹھ سکے تو وہ اول شب وتر پڑھ لے اور جو آخر رات اٹھ سکے وہ آخر رات وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی نماز افضل ہے۔
وإنَّ اللهَ وِترٌ يحبُّ الوِترَ(صحيح مسلم:2677)
ترجمہ:اور اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔
٭ وتر کی نمازکاحکم:
یہ نماز حنفیہ کے نزدیک واجب ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ سنت مؤکدہ ہے ۔ دلیل :
عن عليٍّ قالَ : الوِترُ ليسَ بِحَتمٍ كَهيئةِ الصَّلاةِ المَكتوبةِ ، ولَكن سنَّةٌ سنَّها رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ( صحيح الترمذي:454)
ترجمہ: وتر فرضی نماز کی طرح حتمی (واجب) نہیں ہے بلکہ یہ تو سنت ہے جسے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے جاری فرمایا تھا۔
٭ وتر کی نماز کا وقت:
اس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے لیکر فجر کی نماز تک ہے ۔ دلیل :
إنَّ اللهَ زادَكم صلاةً ، و هي الوترُ ، فصلوها بين صلاةِ العشاءِ إلى صلاةِ الفجرِ( السلسلة الصحيحة:108)
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے تمہارے اوپر ایک نماز زیادہ کی ہے جس کا نام وتر ہے ۔ اس وتر کو نماز عشاء اور فجر کی نماز کے درمیان پڑھو۔
٭ وتر کا افضل وقت :
اس نماز کو تاخیر سے ادا کرنا زیادہ افضل ہے جس کو جاگنے پہ اعتماد ہو۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنهُ قالَ: قالَ رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم: «مَنْ خَافَ أنْ لا يَقُومَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ أوَّلَهُ، وَمَنْ طَمِعَ أنْ يَقُومَ آخِرَهُ فَلْيُوتِرْ آخِرَ اللَّيْلِ، فَإِنَّ صَلاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ، وَذَلِكَ أفْضَلُ». (صحيح مسلم:755)
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص آخر رات میں نہ اٹھ سکے تو وہ اول شب وتر پڑھ لے اور جو آخر رات اٹھ سکے وہ آخر رات وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی نماز افضل ہے۔
٭ وترکی رکعات :
وتر کی کم از کم ایک رکعت ہے اور نبی ﷺ سے گیارہ رکعات تک پڑھنا ثابت ہے ۔ جو لوگ ایک رکعت وترکا انکار کرتے ہیںوہ سنت کا انکار کرتے ہیں ۔
ایک رکعت پڑھنے کے بہت سے دلائل ہیں انمیں سے چنددیکھیں:
الوترُ ركعةٌ من آخرِ الليلِ(صحيح مسلم:752)
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں سے۔
الوِترُ حقٌّ ، فمن أحبَّ أنْ يوترَ بخَمسِ ركعاتٍ ، فليفعلْ ، ومن أحبَّ أنْ يوترَ بثلاثٍ ، فليفعلْ ومن أحبَّ أنْ يوترَ بواحدةٍ ، فليفعلْ .(صحيح النسائي:1711)
ترجمہ: ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے پس جسکی مرضی ہو پانچ وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو تین وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو ایک وتر پڑھے۔
کئی صحابہ کرام سے بھی ایک رکعت پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے ، ان میں ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما،امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ،سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اورعثمان رضی اللہ عنہ۔
گیارہ رکعت پڑھنے کی دلیل : كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يصلِّي فيما بين أن يفرغَ من صلاةِ العشاءِ ( وهي التي يدعو الناسُ العتمَةَ ) إلى الفجرِ ، إحدى عشرةَ ركعةً . يسلِّمُ بين كلِّ ركعتَينِ . ويوتر بواحدةٍ .(صحيح مسلم:736)
ترجمہ : رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد صبح تک گیارہ رکعات پڑھتے تھے اور اسی نماز کو لوگ عتمہ بھی کہتے تھے، آپ ہر دو رکعات پر سلام پھیرتے تھے اور ایک وتر پڑھتے تھے۔
رات کی نماز دودو رکعت ہے اگر کسی کو طاقت ہو تو جتنا چاہے دو دو کرکے پڑھ سکتا ہے ، آخر میں ایک وتر پڑھ لے۔
صلاةُ الليلِ مثنى مثنى ، فإذا خشي أحدُكم الصبحَ صلى ركعةً واحدةً ، توتِرُ له ما قد صلى.(صحيح البخاري:990 و صحيح مسلم:749)
ترجمہ : رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور اگر تم میں کسی کو صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو، اور وہ ایک رکعت پڑھ لے، تو یہ اس کی پڑھی ہوئی نماز کے لئے وتر ہوجائیگی۔
تین رکعت وتر پڑھنے کا طریقہ :
اس کے دو طریقے ہیں ۔
پہلا طریقہ : تین رکعت ایک تشہد سے پڑھے ۔ دلیل :الوِترُ حقٌّ ، فمن أحبَّ أنْ يوترَ بخَمسِ ركعاتٍ ، فليفعلْ ، ومن أحبَّ أنْ يوترَ بثلاثٍ ، فليفعلْ ومن أحبَّ أنْ يوترَ بواحدةٍ ، فليفعلْ .(صحيح النسائي:1711)
ترجمہ: ‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے پس جسکی مرضی ہو پانچ وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو تین وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو ایک وتر پڑھے۔
مسلسل تین رکعت ادا کرے یعنی دو رکعت پہ تشہد کے لئے نہ بیٹھے ۔ دلیل : لا توتِروا بثلاثٍ ولا تُشبِّهوا الوِترَ بثلاثٍ(عون المعبود)
ترجمہ: تین رکعت وتر نہ پڑھو اوروترکو(مغرب کی) تین رکعت سے مشابہت نہ کرو ۔
اس حدیث کو صاحب عون المعبود نے شیخین کی شرط پہ بتلایا ہے ۔ (4/176 )
مغرب کی مشابہت سے دو طریقوں سے بچا جا سکتا ہے ، ایک یہ کہ تین رکعت اکٹھی پڑھی جائیں،بیچ میں تشہد نہ کیا جائے دوسرا طریقه یہ ہے کہ دو رکعت الگ پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے ، پھر ایک رکعت الگ پڑھی جائے ۔ اس کی دلیل نیچے ذکر کی جارہی ہے ۔
تین وتر پڑھنے کا دوسرا طریقہ :
دو رکعت ایک سلام سے پڑھ کر پھر ایک سلام سے ایک رکعت پڑھی جائے ۔ دلیل :
كان يُوتِرُ بركعةٍ ، و كان يتكلَّمُ بين الرَّكعتَيْن والرَّكعةِ(السلسلة الصحيحة:2962)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے (آخری ) دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان (سلام پھیر کر ) بات چیت بھی کرتے۔
٭ وتر کی قرات:
نبی ﷺ وتر کی پہلی رکعت میں "سبح اسم ربك الأعلى " دوسری رکعت میں "قل ياأيها الكافرون" اورتیسری رکعت میں "قل هو الله أحد" پڑھتے تھے ۔
كانَ رسولُ اللَّهِ يقرأُ في الوترِ ب سبِّحِ اسمَ ربِّكَ الأعلى وفي الرَّكعةِ الثَّانيةِ ب قل يا أيُّها الكافرونَ وفي الثَّالثةِ ب قل هوَ اللَّهُ أحدٌ ولا يسلِّمُ إلَّا في آخرِهنَّ ويقولُ يعني بعدَ التَّسليمِ سبحانَ الملِك القدُّوسِ ثلاثًا( صحيح النسائي:1700)
ترجمہ: نبی ﷺ وتر میں" سبِّحِ اسمَ ربِّكَ الأعلى" دوسری رکعت میں " قل يا أيُّها الكافرونَ" اور تیسری میں "قل هوَ اللَّهُ أحدٌ" پڑھتے تھے اور سب سے اخیر میں سلام پھیرتے تھے اور سلام کے بعد تین مرتبہ کہتے "سبحانَ الملِك القدُّوسِ"۔
٭ دعائے قنوت کا حکم :
قنوت وتر واجب نہیں ، مشروع ہے ۔ آپ ﷺ کی قنوت وتر کے متعلق وارد ہے ۔
كانَ يوترُ فيَقنُتُ قبلَ الرُّكوعِ(صحيح ابن ماجه:978)
ترجمہ:رسول اللہﷺ وتر پڑھتے تو رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔
٭دعائے قنوت کے صیغے:
اللَّهمَّ اهدِني فيمن هديتَ وعافِني فيمن عافيتَ وتولَّني فيمن تولَّيتَ وبارِك لي فيما أعطيتَ وقني شرَّ ما قضيتَ فإنَّكَ تقضي ولا يُقضى عليكَ وإنَّهُ لا يذلُّ من واليتَ تباركتَ ربَّنا وتعاليتَ(صحيح الترمذي:464)
٭دعائے قنوت بصیغہ جمع بھی حدیث میں وارد ہے۔
٭دعائے قنوت میں زیادتی کرنا بھی جائز ہے۔ علامہ البانی ؒ لکھتے ہیں:
ولا بأس من الزيادة عليه بلعن الكفرة ومن الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، والدعاء للمسلمين . (قيام رمضان للألباني:31)
ترجمہ: دعا میں زیادتی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کافروں پہ لعنت، نبی ﷺ پہ درود اور مسلمانوں کے لئے دعا کی غرض سے ۔
٭ قنوت وتر رکوع سے پہلے اور بعد میں دونوں طرح جائز ہے ۔
٭ دعائے قنوت میں ہاتھ اٹھایا جاسکتا ہے جیسے عام دعاؤں میں اٹھایا جاتا ہے ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ احادیث میں ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں اس لئے ہاتھ اٹھانا خلاف سنت ہے ۔ یہ بات صحیح نہیں ہے ۔ متعدد صحابہ اور تابعین سے وتر کی دعا میں ہاتھ اٹھانا ثابت ہے جن میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما،عمر رضی اللہ عنہ،ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،ابو قلابہ اور امام مکحولؒ وغیرہم۔
عبدالرحمان مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں کہ ظاہرا دعا کی طرح اس میں بھی ہاتھ اٹھانے کا ثبوت ملتا ہے ۔(تحفة الأحوذی شرح ترمذی: 1/343)
٭وتر کی نمازاکیلے اور باجماعت سفروحضردونوں میں ادا کی جاسکتی ہیں جیساکہ سنت سے ثابت ہے ۔
٭ایک رات میں دو وتر:
ایک رات میں ایک مرتبہ ہی وتر پڑهنا چاہئے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا وِترانِ في ليلةٍ(صحيح أبي داود:1439)
کہ ایک رات میں دو بار وتر پڑھنا جائز نہیں۔
اگر کوئی شخص ایک مرتبہ وتر پڑھ کے سو جائے اور دوبارہ قیام کرنا چاہے تو کرسکتا ہے مگر بعد میں وتر نہیں پڑهے جیساکہ مذکورہ حدیث سے واضح ہے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجعلوا آخرَ صلاتِكم بالليلِ وترًا.(صحيح البخاري:998ِ، صحيح مسلم:751)
یعنی رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان وجوب کے لئے نہیں ہے.
٭ وتر کی قضا :
اگر کبھی نیند کی وجہ سے وتر کی نماز نہ پڑھ سکے تو جب بیدار ہو وتر پڑھ لے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من نامَ عن وترِهِ أو نسيَهُ فليصلِّهِ إذا ذكرَهُ(صحيح أبي داود:1431)
ترجمہ: جو وتر کی نماز سے سو جائے یا بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے ۔
٭ وتر کی نماز چھوڑنا:
وتر اور فجر کی دو سنت بہت اہم ہیں جنہیں نبی ﷺ نے سفر و حضر میں ہمیشہ پڑھنے کا اہتمام کیا۔اس لئے ہمیں بھی سدا اس کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ کبھی کبھار وتر چھوٹنے کا مسئلہ نہیں ہے کیونکہ یہ سنت مؤکدہ ہے مگر برابر چھوڑنے والا بہت سے علماء کے نزدیک ناقابل شہادت ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
الوتر سنة مؤكدة باتفاق المسلمين، ومن أصر على تركه فإنه ترد شهادته. (الفتاوی الکبری)
کہ وتر تمام مسلمانوں کے نزدیک متفقہ طور پر سنت مؤکدہ ہے اور جو متواتر اسے چھوڑتا ہے اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔

(10)اعتکاف :
اعتکاف اور اس کا حکم:
اعتکاف کا تعلق رمضان کے آخری عشرے سے ہے ۔ یہ قرب الہی کا اہم ذریعہ ہے ۔ اس سے متعلق متعدد فضائل وارد ہیں مگر سب کے سب ضعیف ہیں تاہم اس کی مشروعیت وترغیب متعدد آیات و احادیث سے ثابت ہے ۔ ہاں اعتکاف عبادت ہے نیز مسجد میں اعتکاف کی بدولت مختلف قسم کی نیکیاں کرنے کا موقع ملتا ہے اس لئے ان سب کی فضیلت و اجر اپنی جگہ مسلم ہے ۔
اللہ کا فرمان ہے :
وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ ( البقرة:125)
ترجمہ:اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کو تاکید کی کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھیں۔
نیز اللہ کا فرمان ہے : وَلا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ (البقرة:187)
ترجمہ:اور اگر تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو پھر اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔
اور نبی ﷺ کے متعلق عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے :
أن النبيَّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كان يعتكفُ العشرَ الأواخرَ من رمضانَ حتى توفاهُ اللهُ، ثم اعتكفَ أزواجُهُ من بعدِهِ .(صحيح البخاري:2026، صحيح مسلم:1172)
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے رہے اور آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ۔
قرآن و حدیث کے علاوہ اجماع امت سے بھی اس کی مشروعیت ثابت ہے جیساکہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے ۔(وشرح العمدة :2/711) .
دلائل کی رو سے اعتکاف واجب نہیں بلکہ سنت ہے الا یہ کہ کوئی اعتکاف کی نذر مان لے تو اس کے حق میں واجب ہوگا۔

اعتکاف کی جگہ:
جس طرح مرد کے لئے اعتکاف مسنون ہے اسی طرح عورت کے لئے بھی اعتکاف مشروع ہے ۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ اعتکاف کی جگہ صرف مسجد ہے ۔ جیساکہ اوپرقرآن کی آیت سے واضح ہے اور نبی ﷺ نے اس پہ عمل کرکے دکھایا ہے ۔اگر عورت اعتکاف کرے تو اسے بھی مسجد میں ہی اعتکاف کرنا ہوگا خواہ جامع مسجد ہو یا غیر جامع ۔ صرف جامع مسجد میں اعتکاف والی روایت (لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ فِى مَسْجِدٍ جَامِعٍ) پر کلام ہے ۔ اگر جامع مسجد میں اعتکاف کرے تو زیادہ بہترہے تاکہ نماز جمعہ کے لئے نکلنے کی ضرورت نہ پڑے ۔
اعتکاف کا وقت :
نبی ﷺ نے رمضان میں اکثر دس دنوں کا اعتکاف کیا ہے اس لئے افضل ہے کہ رمضان کے آخری عشرے میں دس دنوں کا اعتکاف کرے کیونکہ آخری عشرے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اعتکاف کی دل سے نیت کرے اور بیسویں رمضان کا سورج ڈوبتے ہی مسجد میں داخل ہوجائے ۔یہ اکیسویں کی رات ہوگی ۔ رات بھر ذکرواذکار اور نفلی عبادات میں مصروف رہے اور فجر کی نماز پڑھ کے اعتکاف کی جگہ پہ چلاجائے ۔ عید کا چاند ہوتے ہی اعتکاف ختم کردے ۔
اعتکاف کے مباح امور:
بحالت اعتکاف مسجد میں کھانا پینا،غسل کرنا،بقدرضرورت بات کرنا،تیل خوشبو استعمال کرنا،بغیر شہوت بیوی سے بات چیت اور اسے چھونا، ناگزیر ضرورت کے لئے باہرجانا مثلا مسجد میں بیت الخلاء نہ ہوتوقضائے حاجت کے لئے ، جمعہ والی مسجد نہ ہوتو نماز جمعہ کے لئے ، کھانا کوئی لادینے والا نہ ہوتوکھانا کے لئے وغیرہ۔
اعتکاف کے منافی امور:
بلاضرورت مسجد سے باہرجانا،جماع یا کسی اور طرح سے قصدا ً منی خارج کرنا اعتکاف کے بطلان کا سبب ہے ۔ اسی طرح حیض ونفاس بھی عورت کا اعتکاف باطل کردے گا۔ ان کے علاوہ بلاضرورت بات چیت، غیرضروری کام میں تضییع اوقات یا عبادت کے منافی کام جھوٹ و غیبت سے بچے ۔ یہ بطلان کا سبب تو نہیں مگر ان سے اعتکاف کا مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح مریض کی عیادت، نمازجنازہ اور دفن کے لئے مسجد سے باہر نکلنا بھی جائز نہیں ہے ۔
اعتکاف کے مسنون اعمال :
معتکف کو چاہئے کہ دس دنوں میں کثرت سے تدبر کے ساتھ تلاوت، ذکر واذکار، دعا واستغفار اور نفلی عبادات انجام دے ۔خشوع وخضوع اور خضورقلبی کے ساتھ اللہ سے تعلق جوڑنے پہ محنت و مشقت کرے ۔ رمضان تقوی کا مظہر ہے ، اعتکاف سے تقوی کو مزید تقویت بخشے ۔ان ہی دنوں میں لیلۃ القدربھی آتی ہے معتکف کے لئے اسے پانی کا سنہرا موقع ہے ، آپ ﷺ نے اسی غرض سے تینوں عشرے میں اعتکاف کیا۔ جب آخری عشرے میں شب قدر کی خبرملی تو اس میں اعتکاف کرنے لگے ۔
مزید چند مسائل :
٭ اعتکاف کی اس طرح نیت کرنا"نویت سنت الاعتکاف ﷲ تعالیٰ"(میں نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے سنت اعتکاف کی نیت کی) بدعت ہے ۔ نیت محض دل سے کرنا ہے۔
٭ اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں (لااعتکاف الابصوم) والی روایت پہ کلام ہے ۔
٭ مسجد میں عورت کے لئے جب تک مخصوص ومحفوظ جگہ نہ ہو تب تک اسے اعتکاف میں بیٹھنا جائز نہیں۔
٭ صرف تین مساجد میں اعتکاف کا اعتقاد بھی صحیح نہیں ہے ۔
٭ اعتکاف کی مدت متعین نہیں ہے اس لئے دس دن سے کم اور زیادہ کا بھی اعتکاف کیا جاسکتا ہے ۔ حدیث میں کم ازکم ایک دن ایک رات کے اعتکاف کا ذکر آیا ہے ۔
٭ رمضان کے علاوہ دیگر ماہ میں بھی اعتکاف کیاجاسکتا ہے جیساکہ نبی ﷺ سے ثابت ہے ۔
٭اگر کسی نے اعتکاف کی نیت کی (نذرنہیں مانی) مگر حالات کی وجہ سے اعتکاف نہیں کرسکا تو اس پہ کچھ نہیں ہے ۔
٭اجتماعی اعتکاف اس طرح کہ ایک مسجد میں کئی معتکف ہوں جائز ہے مگر اجتماعی صورت سے ذکر یا دعا یا عبادت کرنا صوفیاء کی طرح جائز نہیں ہے ۔
اعتکاف سے متعلق بعض ضعیف احادیث :
(1)منِ اعتَكَفَ عشرًا في رمضانَ كانَ كحجَّتينِ وعُمرتينِ۔( السلسلة الضعيفة:518)
ترجمہ:جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔
(2)مَنِ اعتكف يومًا ابتِغاءَ وجهِ اللهِ ؛ جعل الله بينَه وبينَ النارِ ثلاثةَ خنادقَ ، كُلُّ خَندَقٍ أبْعدُ مِمَّا بينَ الخافِقَيْنِ .(السلسلة الضعيفة:5345)
ترجمہ: جو شخص اﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔
(3) أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في المعتكف هو يعكف الذنوب ، ويجرى له من الحسنات كعامل الحسنات كلها(ضعيف ابن ماجه:352) .
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کرنے والے کے بارہ میں فرمایا :وہ گناہوں سے باز رہتا ہے ، اوراس کے لیے سب نیکی کرنے والے کی طرح نیکی لکھی جاتی ہے۔
(4) مَنِ اعتكفَ إيمانًا واحتسابًا غُفِرَ لَهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (ضعيف الجامع (5452) .
ترجمہ:جس نے ایمان اوراجروثواب کی نیت سے اعتکاف کیا اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کردئےجاتے ہیں۔
(5)لا اعتكافَ إلا في المساجدِ الثلاثةِ(ضعیف عندشیخ ابن باز،مجموع فتاوى ابن باز25/218)
ترجمہ: اعتکاف تین مساجد کے علاوہ کسی میں نہیں۔
(11) لیلۃ القدر
لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت :
لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی فضیلت کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (1) وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ (2) لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ (3) تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ (4) سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (5)(سورۃ القدر)
ترجمہ: بیشک ہم نے قرآن کو لیلة القدر یعنی باعزت وخیروبرکت والی رات میں نازل کیا ہے ۔اورآپ کو کیا معلوم کہ لیلةالقدرکیا ہے ۔لیلة القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اس رات میں فرشتے اور جبریل روح الامین اپنے رب کے حکم سے ہر حکم لے کر آترتے ہیں۔ وہ رات سلامتی والی ہوتی ہے طلوع فجر تک ۔
اس سورت میں چند فضائل کا ذکر ہے ۔
٭ شب قدر میں قرآن کا نزول ہوا یعنی یکبارگی مکمل قرآن لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا جو تئیس سالوں میں قلب محمد ﷺ پر نازل کیا گیا۔
٭یہ قدرومنزلت والی رات ہے ، قدر کی تفصیل اللہ نے ہزار مہینوں سے بیان کی جو مبالغہ پر دلالت کرتاہے یعنی یہ رات ہزاروں مہ و سال سے بہتر ہے ۔
٭ یہ اس قدر عظیم رات ہے کہ اس میں فرشتوں بالخصوص جبریل علیہ السلام کا نزول ہوتا ہے ان کاموں کو سرانجام دینے جن کا فیصلہ اللہ تعالی اس سال کے لئے کرتا ہے ۔
٭ یہ مکمل رات سراپہ امن و سلامتی والی ہے ۔ مومن بندہ شیطان کے شر سے محفوظ ہوکر رب کی خالص عبادت کرتا ہے ۔
* اس رات سال میں ہونے والے موت وحیات اور وسائل حیات کے بارے میں سال بھر کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ(الدخان:4)
ترجمہ: اسی رات میں ہرایک مضبوط کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔
٭ لیلۃ القدر میں قیام کا اجر پچھلے سارے گناہوں کا کفارہ ہے ۔
مَن قام ليلةَ القدرِ إيمانًا واحتسابًا، غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه(صحيح البخاري:1901)
ترجمہ: جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
* لیلۃ القدر کی فضیلت سے محروم ہونے والا ہرقسم کی بھلائی سے محروم ہے ۔
دخلَ رمضانُ فقالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ إنَّ هذا الشَّهرَ قَد حضرَكُم وفيهِ ليلةٌ خيرٌ مِن ألفِ شَهْرٍ من حُرِمَها فقد حُرِمَ الخيرَ كُلَّهُ ولا يُحرَمُ خيرَها إلَّا محرومٌٍ(صحيح ابن ماجه:1341)
ترجمہ: ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا تونبی ﷺنے فرمایا کہ: تمہارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سےافضل ہے جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا ،گویا ساری بھلائی سے محروم رہ گیا۔
لیلۃ القدرکا تعین:
لیلۃ القدر کے تعین کے سلسلے میں علماء کے مختلف اقوال ملتے ہیں مگر راحج قول یہ ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (21،23،25،27،29) میں سے کوئی ایک ہے ۔ اس کی دلیل نبی ﷺ کا فرمان ہے: تَحَرَّوْا ليلة القدرِ في الوِتْرِ، من العشرِ الأواخرِ من رمضانَ .(صحيح البخاري:2017)
ترجمہ: لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
کیا ستائیسویں کی رات لیلۃ القدر ہے ؟
بعض لوگوں نے 27 ویں کی رات کو لیلۃ القدر قراردیا ہے جوصحیح نہیں ہے ۔یہ صحیح ہے کہ بعض روایتوں میں شب قدر ستائیسویں کی رات بتلایا گیا ہے مگرستائیسویں کو ہی ہمیشہ کے لئے شب قدر قرار دینا غلط ہے ۔ اس کی چند وجوہات ہیں۔
اولا: بخاری کی روایت اس موقف کی تردید کرتی ہے جس میں شب قدر کو پانچ طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، صرف ستائیسویں کی حدیث لیکر فیصلہ کرنا درست نہیں ہے ۔
ثانیا: روایات میں ستائیسویں کے علاوہ دیگر رات کا بھی ذکر ہے ۔ صحیحین میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے شب قدر پانے کے لئے کبھی پہلے عشرے میں اعتکاف کیا، کبھی درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا تو کبھی آخری عشرے میں اور آخر میں فرمایا:
إني أُريتُ ليلةَ القَدْرِ، ثم أُنْسيتُها، أو نُسِّيتُها، فالتمِسوها في العَشْرِ الأواخرِ في الوَتْرِ(صحيح البخاري:2016، صحيح مسلم:1167)
ترجمہ: مجھے وہ رات دکھائی گئی تھی مگرپھر بھلا دیا گیا، لہذا اب تم اسے رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرو۔
ایک روایت میں ہے : مَن كان مُتَحَرِّيها فلْيَتَحَرَّها في السبعِ الأواخرِ(صحيح البخاري:2015، صحيح مسلم:1165)
ترجمہ : جس کو شب قدر کی تلاش کرنی ہووہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔
ان کے علاوہ کسی روایت میں 21 کا ذکر ہے ، کسی میں 23 کا ذکر ہے ، کسی میں 25 کا ذکر ہے تو کسی میں 29 کا ذکر ہے ۔
ان ساری روایات کو سامنے رکھتے ہوئے عشراخیرکے اندر وسعت پائی جاتی ہے ، ان میں سبع اخیراور دیگر ساری روایات داخل ہیں۔اس وجہ سے شب قدر آخری عشرے کی کوئی طاق رات ہے ۔ یہی موقف اکثر اہل علم کاہے ۔ جہاں تک ستائیس کا مسئلہ ہے تو کسی سال ستائیس کی رات قدر کی رات کی ہوگی جیساکہ کبھی اکیس، کبھی تئیس ، کبھی پچیس تو کبھی انتیس رہی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ رات ہرسال آخری عشرے کی پانچ طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں منتقل ہوتی رہتی ہے ۔
ثالثا: نبی ﷺ کے فرامین کے علاوہ آپ کا عمل بھی ثابت کرتا ہے کہ لیلۃ القدر آخری عشرے کی کوئی ایک طاق رات ہے ۔
عنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ(صحيح البخاري:2024)
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری دس دنوں میں داخل ہوتے تو ﴿عبادت کے لئے﴾ کمر کس لیتے، خود بھی شب بیداری کرتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔
لیلۃ القدر کی علامات:
احادیث میں اس شب کی چند نشانیاں ملتی ہیں۔
٭ صبح کے سورج میں شعاع نہیں ہوتی :هي ليلةُ صبيحةُ سبعٍ وعشرين . وأمارتُها أن تطلعَ الشمسُ في صبيحةِ يومِها بيضاءَ لا شُعاعَ لها(صحيح مسلم:762)
ترجمہ: وہ (لیلۃ القدر) ستائیسویں رات ہے ، اور اُس کی نشانی یہ ہے کہ اُس کی صبح میں جب سورج طلوع ہو تا ہے تو وہ سفید ہوتا ہے اور اُس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔
٭لیلۃ القدر معتدل ہوتی ہے :ليلةُ القدْرِ ليلةٌ سمِحَةٌ ، طَلِقَةٌ ، لا حارَّةٌ ولا بارِدَةٌ ، تُصبِحُ الشمسُ صبيحتَها ضَعيفةً حمْراءَ(صحيح الجامع:5475)
ترجمہ : قدر کی رات نرمی والی معتدل ہے ، نہ گرم نہ ٹھنڈی ، اُس رات کی صُبح سورج کی روشنی کمزور اور سُرخی مائل ہوتی ہے ۔
٭کبھی بارش بھی ہوسکتی ہے:وإني رأيتُ كأني أسجدُ في طينٍ وماءٍ (صحيح البخاري:813)
ترجمہ: میں نے (خواب میں) اپنے کو دیکھا کہ اس رات مٹی اور پانی (کیچڑ) میں سجدہ کر رہا ہوں۔
علامات سے متعلق لوگوں میں غلط باتیں مشہور ہیں مثلا اس رات کتے نہیں بھوکتے ، گدھے کم بولتے ہیں ۔ سمندر کا کھارا پانی بھی میٹھا ہوجاتا ہے ۔ درخت زمین کو سجدہ کرتے ہیں پھر اپنی جگہ لوٹ جاتے ہیں ۔ ہرجگہ روشنی ہی روشنی ہوتی ہے ، اس دن شیطان سورج کے ساتھ نہیں نکل سکتا۔وغیرہ وغیرہ

لیلۃ القدر میں ہم کیا کریں ؟
حدیث میں لیلۃ القدرکے حصول کے لئے نبی ﷺ کے بالغ اجتہاد کا ذکر ملتا ہے ۔
عنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ وَأَحْيَا لَيْلَهُ وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ(صحيح البخاري:2024)
ترجمہ: عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری دس دنوں میں داخل ہوتے تو ﴿عبادت کے لئے﴾ کمر کس لیتے، خود بھی شب بیداری کرتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔
اس حدیث میں تین باتیں مذکور ہے ۔
(1) شد میزرہ : کمر کس لیتے یعنی عبادت کے لئے بالغ اجتہادکرتے ۔عورتوں سے کنارہ کشی کے بھی معنی میں آیا ہے ۔
(2) احیالیلہ : شب بیداری کرتے رات میں عبادت کے لئے خود کو بیدار رکھتے ۔
(3) ایقظ اھلہ : اپنے اہل وعیال کو بھی جگاتے کیونکہ یہ اہم رات ہوتی ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شب قدر میں عبادت پہ خوب خوب محنت کرناہے تاکہ ہم اس کی فضیلت پاسکیں جیساکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
مَن قام ليلةَ القدرِ إيمانًا واحتسابًا، غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه(صحيح البخاري:1901)
ترجمہ: جو لیلۃ القدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرے اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔
قیام کے ساتھ ذکرودعا اور تلاوت و مناجات سے اس رات کو مزین کریں ۔ اس رات کی ایک خصوصی دعا ہے جو نبی ﷺ نے اپنی امت کو سکھائی ہے ۔
عن عائشة أنها قالت يا رسول الله أرأيت إن وافقت ليلة القدر ما أدعو ؟ : قال: تقولين اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني ﴿ صحيح ابن ماجه:3119)
ترجمہ : عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علی وسلم سے دریافت کیا کہ اگر مجھے شب قدر مل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پڑھو:" اللَّهمَّ إنَّكَ عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعفُ عنِّي"(اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے لہذا تو مجھے معاف کردے)۔
سنن ترمذی میں عفو کے بعد "کریم" کی زیادتی ہے ، اس زیادتی کی کوئی اصل نہیں یعنی یہ ثابت نہیں ہے ۔
(12) صدقہ الفطر
صدقہ الفطر کی فرضیت :
جس سال رمضان کا روزہ فرض ہوا اسی سال صدقہ الفطر بھی فرض ہوا۔ وہ سن دو ہجری ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و حدیث اور اجماع امت سے ثابت ہے ۔
قرآن سے دلیل: قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ (الاعلی : 14)
ترجمہ:بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا۔
سنت سے دلیل : أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين (صحيح مسلم:984)
ترجمہ: بے شک اللہ کے رسول ﷺ نے رمضان کے صدقہ الفطر کو مسلمانوں میں سے ہر نفس پر فرض کردیا ہے ۔
امام ابن منذر رحمہ اللہ نے اس کی فرضیت پہ اجماع نقل کیا ہے ۔(الإجماع لابن المنذرص :55)
صدقہ الفطر/ زکوۃ الفطر کو زکوۃ البدن اور زکوۃ النفس بھی کہا جاتا ہے ۔ عام اردو بول چال میں فطرہ یا فطرانہ سے جانا جاتا ہے۔
فطرانے کی حکمت :
دو حکمتیں تو ایک حدیث میں مذکور ہیں ۔
زكاةُ الفطرِ طُهْرَةٌ للصائِمِ مِنَ اللغوِ والرفَثِ ، و طُعْمَةٌ للمساكينِ (صحيح الجامع:3570)
پہلی حکمت :
روزہ دار کی پاکی :روزے کی حالت میں روزے دار سے ہونے والی غلطیوں سے پاک ہونے کے لئے فطرانہ ادا کیا جاتا ہے ۔
دوسری حکمت :
مساکین کا کھانا: عید کے دن جہاں مالدار لوگ خوشی منائیں وہیں اپنی خوشی میں شامل کرنے کے لئے ان کے ذمہ غرباء ومساکین کو فطرانہ ادا کرنا ہےتاکہ وہ بھی مسلمانوں کی عید کی خوشی میں برابر کے شریک ہوسکیں ۔
تیسری حکمت : فطرانے میں مسکینوں کے ساتھ الفت ومحبت کے اظہار کے سوا، اپنے بدن کا صدقہ بھی ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اب تک اپنی توفیق سے بقید حیات رکھا۔ اور اللہ کی ان نعمتوں کا شکریہ بھی جو رمضان المبارک میں (روزہ،قیام، اعتکاف، لیلۃ القدروغیرہ)میسرآتے ہیں۔
فطرانے کی شرائط:
اس کی تین شرطیں ہیں۔
(1) فطرانے کے لئے اسلام شرط ہے ، اس لئے کافر پر فطرانہ نہیں۔
(2) استطاعت: فطرانہ کے لئے نصاب کا مالک ہونا شرط نہیں بلکہ اس کے پاس عید کی رات اور اس دن اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنےسے زائد خوراک ہو تو اسے مسکینوں کو صدقہ کرے۔
(3) تیسری شرط فطرانے کا واجبی وقت ہونا ہے جوعید کا چاند نکلنے سے عید کی نماز کے وقت تک ہے ۔
کن کی طرف سے فطرانہ ادا کیا جائے گا؟
اس سلسلے میں نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين ، حرٍّ أو عبدٍ . أو رجلٍ أو امرأةٍ . صغيرٍ أو كبيرٍ . صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من شعيرٍ .(صحيح مسلم : 984)
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد ،غلام ، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔
*اس لئے ہر مسلمان خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، آزاد ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ان کی طرف سے فطرہ نکالنا ان کے سرپرست کے ذمہ واجب ہے ۔
*یتیم اور مجنوں کے پاس مال ہو تو ان کی طرف سے بھی صدقہ نکالا جائے ۔
*پیٹ میں موجود بچے کی طرف سے فطرانہ واجب نہیں ہے مگر کوئی بطور استحباب دینا چاہے تو دے سکتا ہے ۔
٭ میت کی طرف سے فطرانہ نہیں ہے ۔ ہاں اگر میت نے وقت وجوب(عید کا چاند نکلنے سے عید کی نماز تک) کو پالیا تو اس کی طرف سے فطرانہ ادا کیا جائے گا۔
٭ نوکر یا نوکرانی کافطرانہ خود ان کے ذمہ ہے ، اگر اس کا مالک ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
فطرانے میں کیا دیا جائے ؟
جس ملک میں جو چیز بطور غذا استعمال کی جاتی ہے اسے فطرے کے طور پہ دے سکتے ہیں ۔اس سے متعلق نبی ﷺ کا فرمان ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين ، حرٍّ أو عبدٍ . أو رجلٍ أو امرأةٍ . صغيرٍ أو كبيرٍ . صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من شعيرٍ .(صحيح مسلم : 984)
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد ،غلام ، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔
نبی ﷺ کے زمانے میں جو، کھجور، منقہ اور پنیربطور غذا استعمال ہوتا تھا۔ ہمارے یہاں عام طور سے چاول ، گیہوں،چنا، جو ، مکی، باجرہ، جوار وغیرہ اجناس خوردنی ہیں لہذا ہم ان میں سے فطرانہ نکالیں گے ۔
صاع کی مقدار:
فطرانے کی مقدار ایک صاع ہے ۔ایک صاع چار مُد ہوتا ہے ۔گرام کے حساب سے صاع کی تعیین میں کافی اختلاف ہے ۔شیخ ابن عثیمین نے دوکلو چالیس گرام بتلایا ہے ۔ بعض نے دوکلو ایک سو، بعض نے پونے تین سیر یعنی ڈھائی کلو تقریبا،بعض نے دو کلو ایک سوچھہتر، بعض نے دو کلو سات سو اکاون کہا ہے ۔ شیخ ابن باز نے تین کلو بتلایا ہے ۔ یہی سعودی فتاوی کمیٹی لجنہ دائمہ کا فتوی ہے ۔
زیادہ تر اقوال ڈھائی کلو کے آس پاس ہیں ۔ اگر فی کس ڈھائی کلو کے حساب سے نکال دیا جائے توزیادہ مناسب ہے ۔ اس میں فقراء و مساکین کا فائدہ بھی ہے اور اگر کوئی تین کلو کے حساب سے نکالتا ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
یہاں ایک اور مسئلہ جان لینا چاہئے کہ ایک ہی جنس سے ایک صاع نکالنا بہتر ہے نہ کہ آدھا ایک جنس سے اور آدھا ایک جنس سے ۔
ابوداؤد اور نسائی وغیرہ میں نصف صاع کابھی ذکر ہے مگر وہ ورایت صحیح نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں بعض آثار بھی ملتے ہیں ۔امام ابوحنیفہ، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،علامہ ابن القیم، علامہ البانی اورعبیداللہ مبارک پوری رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ نصف صاع بھی کفایت کرے گا۔
فطرانے کا مصرف:
فطرانے کا مصرف نبی ﷺ نے بتلادیا ہے ۔
زكاةُ الفطرِ طُهْرَةٌ للصائِمِ مِنَ اللغوِ والرفَثِ ، و طُعْمَةٌ للمساكينِ (صحيح الجامع:3570)
ترجمہ: صدقہ فطر روزہ دارکی لغواور بیہودہ باتوں سے پاکی اور مساکین کا کھانا ہے ۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ فطرانے کا مصرف فقراء ومساکین ہے۔ بعض علماء نے کہا زکوۃ کے آٹھ مضارف میں فطرانہ صرف کرسکتے ہیں مگر یہ بات مذکورہ بالا حدیث کے خلاف ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فطرانے کو فقراء ومساکین کے ساتھ خاص کیا ہے اور دلیل سے قوی تر اسی کو قرار دیا ہے ۔ (مجموع فتاوى:25/71) .
شیخ ابن باز نے کہا کہ فطرانے کا مصرف فقراء ومساکین ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہے:
زكاةُ الفطرِ طُهْرَةٌ للصائِمِ مِنَ اللغوِ والرفَثِ ، و طُعْمَةٌ للمساكينِ۔
ترجمہ: صدقہ فطر روزہ دارکی لغواور بیہودہ باتوں سے پاکی اور مساکین کا کھانا ہے ۔
انتہی (مجموع الفتاوى:14/202)
لہذا فطرانہ فقراء ومساکین کے علاوہ مسجد و مدرسہ وغیرہ پہ خرچ کرنا سنت کی مخالفت ہے ۔
اگر اپنی جگہ پہ فقراء ومساکین نہ پائے تو دوسری جگہ فطرانہ بھیج دے۔
فطرانے کا وقت :
فطرانے کا دو وقت ہے ۔ ایک وقت وجوب اور ایک وقت جواز
وقت وجوب: عید کا چاند نظر آنے سے عید کی نماز تک ہے ۔ اس درمیان کسی وقت مستحق کو فطرانہ دیدے ۔
وقت جواز: عید سے ایک دو دن پہلے فطرہ دینا جائز ہے ۔ بخاری ومسلم میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :
وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين(صحیح البخاري:1511 وصحیح مسلم:984).
کہ صحابہ کرام عید سے ایک دو دن پہلے فطرانہ ادا کرتے تھے ۔
افضل وقت عید کی نمازکے لئےنکلنے سے پہلے ادا کرنا ہے کیونکہ فرضیت فطرانہ والی صحیحین کی روایت میں ہے :
وأمَر بها أن تؤدَّى قبلَ خروجِ الناسِ إلى الصلاةِ .(صحیح البخاري:1503)، وصحیح مسلم:984)
نبی ﷺ نے عید کی نماز کے لئے نکلنے سے پہلے لوگوں کو فطرانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
عید کی نماز کے بعد فطرہ دینے سے ادا نہ ہوگا وہ محض عام صدقہ شمار ہوگا لیکں اگر کسی کے ساتھ بھول ہوگئی یا کسی عذرشرعی کی بنیاد پر تاخیر ہوگئی تو اللہ تعالی ایسے بندوں سے درگذرکرتا ہے ۔
فطرانہ دینے کی جگہ :
اس میں اصل یہی ہے کہ جو جس جگہ رہتا ہے وہیں فطرہ ادا کرے لیکن اگر وہاں فقراء ومساکین موجود نہ ہوں تو فطرہ دوسری جگہ بھیج دے ۔ اسی طرح اگر کسی دوسری جگہ بھجنے میں سخت ضرورت ہو تو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
فطرانے میں رقم دینا:
یہ ایک اہم مسئلہ جو لوگوں میں جواز اور عدم جواز سے متعلق اختلاف کا باعث بناہوا ہے ۔ احادیث کی روشنی میں یہ مسئلہ واضح ہے ، نبی ﷺ نے فطرانہ کو مسکین کی غذا قرار دیا ہے اورغذا کھائی جانےوالی چیز ہے، نہ کہ رقم ۔
اس لئے فرمان رسول ﷺ پہ چلتے ہوئے اولی و افضل غلے سے ہی فطرہ ادا کرنا ہے ۔ تاہم سخت ضرورت کے تحت فطرے کی رقم دینا بھی جائز ہے ۔ اس کو مثال سے اس طرح سمجھ لیں کہ آج کل فقراء ومساکین جنہیں غلے کی حاجت نہیں ہوتی وہ ہم سے غلہ تو لے لیتے ہیں مگراسے بیچ کر قیمت حاصل کرتے ہیں اورپھر قیمت سے اپنی ضروری اشیاء خریدتے ہیں ۔ ایسے حالات میں بجائے اس کے کہ مسکین کو غلہ بیچنےکی مشقت ملے اور غلے کی کم قیمت حاصل کرنی پڑے ۔ خود ہم ان کی طرف سے وکیل بن کر غلے کی قیمت ادا کردیں۔
واضح رہے یہ صرف ضرورتا ًجائز ہے تاہم اولی و افضل سنت کی تطبیق دینی ہے جو کہ اشیائے خورنی سے فطرہ ادا کرنا ہے ۔
(13) عیدالفطر
عیدالفطر اور اس کا حکم:
دوہجری میں روزہ فرض ہوا، صدقہ الفطر بھی اسی سال واجب ہوا اور اسی سال پہلی مرتبہ عیدالفطر کی نماز ادا کی گئی ۔ نماز عید مسلمانوں پر واجب ہے ، بغیر عذر کے اس سے پیچھے رہ جانے والا گنہگار ہے ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے : فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ(الكوثر:2)
ترجمہ:اپنے رب كے ليے نماز ادا كرو، اور قربانى كرو.
وجوب کی اصل دلیل صحیحین کی اس حدیث سے ملتی ہے جس میں نبی ﷺ نے حائضہ عورت تک کو عیدگاہ جانے کا حکم دیا ہے۔
یہی موقف شیخ الاسلام ابن تیمیہ،شیخ البانی، شیخ ابن باز، شیخ الحدیث عبیداللہ مبارک پوری وغیرہم کا ہے ۔
عید کا چاند:
رمضان کی انتیسویں تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ رمضان کے چاند کی رویت کے لئے ایک عادل مسلمان کی گواہی کافی ہے مگر رمضان کے علاوہ بقیہ تمام مہینوں کے لئے دوعادل مسلمان کی گواہی ضروری ہے ۔ جب چاند نظر آئے تو یہ دعا پڑھیں:
«اَللّٰھُمَّ اؑھلَّه عَلَیْنَا بِالْأمْنِ وَالْإیْمَانِ وَالسَّلا مة وَالْإسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّك اللّه»(السلسلہ الصحیحہ: 1816)
فطرانے کی ادائیگی :
عید کا نکلنے سے فطرے کا واجبی وقت شروع ہوجاتا ہےلہذا عید کی نماز سے پہلے پہلے فی کس ڈھائی کلو اناج گھر کے چھوٹے بڑے تمام لوگوں کی طرف سے نکال کے فقراء و مساکین کو دیدیں ۔
عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فرض زكاةَ الفطرِ من رمضانَ على كلِّ نفسٍ من المسلِمين ، حرٍّ أو عبدٍ . أو رجلٍ أو امرأةٍ . صغيرٍ أو كبيرٍ . صاعًا من تمرٍ أو صاعًا من شعيرٍ .(صحيح مسلم : 984)
ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد ،غلام ، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔
عید کی شب عبادت :
عید کی رات عبادت کرنے سے متعلق ایک روایت بیان کی جاتی ہے ۔ روایت یہ ہے :
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رضي الله عنه عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ قَامَ لَيْلَتَيْ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ۔(ضعيف ابن ماجه:353)
ترجمہ: ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے عيد الفطر اور عيد الاضحى كى دونوں راتوں كو اجروثواب كى نيت سے اللہ تعالى كے ليے قيام كيا اس كا اس دن دل مردہ نہيں ہو گا جس دن دل مرجائيں گے۔
یہ روایت گھڑی ہوئی ہے ، اس لئے اس سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔ اس روایت کو شیخ البانی نے ضعیف ابن ماجہ میں موضوع کہا ہے ، سلسلہ ضعیفہ میں سخت ضعیف کہا ہے ۔ اور دیگر محدثین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
گویا عید کی رات عبادت کرنے سے متعلق فضیلت والی کوئی روایت ثابت نہیں ہے ۔ اس کا معنی ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ اس دن قیام نہیں کیا جاسکتا ہے ، جس طرح دیگر راتوں میں قیام کرنے کا ثواب ہے اس عموم میں یہ رات بھی داخل ہے ۔
تکبیر:
چاند رات سورج ڈوبنے سے لیکر نماز عید تک تکبیر پڑھنا سنت ہے ، یعنی شب عید سے لیکر خطبہ ختم ہونے تک تکبیرپڑھنا چاہئے ۔گھر میں ہو، بازار میں ہو یا مسجد میں۔مردحضرات بآواز بلند پڑھیں اور خواتین پست آواز میں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔(البقرة:185)
ترجمہ: وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اوراس کا شکر کرو۔
تکبیرات کے ثابت شدہ الفاظ :
(1)اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ لا إلهَ إلا اللهُ واللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ وللهِ الحمدُ۔
اس کی سند کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ۔( إرواء الغليل:3/125)
(2) اللهُ أكبرُ كبيرًا اللهُ أكبرُ كبيرًا اللهُ أكبرُ وأجلُّ اللهُ أكبرُ على ما هَدَانا۔
اس کی سند کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے ۔( إرواء الغليل3/126)
(3) اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا، اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا، اللَّهُ أَكبرُ كبيرًا۔
اس کو شیخ ابن تیمیہ نے ثابت کہا ہے ۔ ( مجموع الفتاوى:23/326)
(4) اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ ، اللهُ أكبرُ كبيرًا۔
حافظ ابن حجر نے اسے تکبیرکا سب سے صحیح صیغہ جو ثابت ہے کہا ہے ۔(فتح الباري :2/462) .
(5) اللهُ أكبرُ كبيرًا . والحمدُ لله كثيرًا . وسبحان اللهِ بكرةً وأصيلًا۔(صحيح مسلم:601)
یہ ایک عام تکبیر ہے مگر اس کے پڑھنے سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
تکبیر میں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ اجتماعی طور پر تکبیر کہنا یعنی سب یک آواز ہوکر بدعت ہے ۔
عید کا روزہ :
عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
نهى عن صيامِ يومَينِ : يومِ الفطرِ ويومِ النَّحرِ .(صحيح مسلم:1138)
ترجمہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے۔
غسل، لباس اور خوشبو :
عید کے دن غسل کرنا مستحب ہے ۔ بہتر ہے فجر کی نماز کے بعد غسل کرے، اگرکسی وجہ سے اس سے پہلے غسل کرلیا تو بھی کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح عمدہ یا صاف ستھرا لباس لگانا چاہئےجیساکہ نبی ﷺ سے عید کے دن خوبصورت چادر اوڑھنے کا ذکر ملتاہے اور خوشبو نبی ﷺکو بہت پسند تھی اس لئے ہمیں بھی اسے پسند کرنا چاہئے۔
عید کے دن کھانا:
کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا مسنون ہے ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم لا يَغْدُو يوْمَ الفِطْرِ حتَّى يَأْكُلَ تَمَراتٍ(صحيح البخاري:953)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھجوریں تناول فرمائے بغیر نہ نکلتے۔
طاق کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا چاہئے جیساکہ دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے اور کھجور میسر نہ ہو تو جو بھی ملے کھالے ۔
عیدگاہ پیدل جانا:
پاپیادہ عیدگاہ جانا چاہئے اور اسی طرح واپس آنا چاہئے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسولُ اللهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ يخرجُ إلى العيدِ ماشيًا ويرجعُ ماشيًا(صحيح ابن ماجه:1078)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ پیدل جاتے پیدل ہی واپس تشریف لاتے ۔
ضرورتمند آدمی سواری پہ سوار ہوسکتا ہے ۔
واپس لوٹتے ہوئے راستہ بدل دینا چاہئے ۔ جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان النبيُّ صلى الله عليه وسلم ، إذا كان يومُ عيدٍ ، خالف الطريقَ.(صحيح البخاري:986)
ترجمہ:عيد كے دن رسول كريم صلى اللہ عليہ سلم مختلف راستے پر چلتے۔
راستے کی مخالفت کی حکمت سے متعلق بہت سارے اقوال ملتے ہیں ، سب سے اچھا جواب شیخ ابن عثیمین کا ہے کہ اس کی حکمت نبی ﷺ کی اتباع اور پیروی ہے ۔
عیدگاہ:
عید کی نماز صحرا میں ادا کی جائے البتہ ضرورت کے تحت مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہےجیساکہ بارش کی وجہ سے نبی ﷺ نے مسجد میں عید کی نماز پڑھی ہے ۔
عید کی نماز اور خواتین:
نبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز پڑھنے کا حکم دیا لہذا خواتین کو نماز عید میں شریک ہونا چاہئےخواہ بوڑھی ہو جوان، شادی شدہ ہو یا غیرشادی شدہ اور بالغہ ہو یا نابالغہ یہاں تک آپ ﷺ نے حائضہ کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا تاکہ وہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکے ۔
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْها قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا .(صحیح البخاري :324وصحیح مسلم :890)
ترجمہ: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحی میں عید گاہ لے جائیں جوان لڑکیوں ،حیض والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی ، ہاں حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں لیکن وہ اخیر میں مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں ،میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک کے پاس جلباب نہ ہوتو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی بہن اس کو اپنی چادر اڑھادے۔
اس لئے عید کے دن خواتین کے لئے افضل ہے کہ وہ عیدگاہ جائیں ۔ ذمہ داروں کو چاہئے کہ خواتین کے لئے الگ سے خیمے کا انتظام کرے تاکہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھ سکے ۔ خواتین کا الگ سے عید کی نماز ادا کرنا مشروع نہیں ہے ۔
نماز عید کا طریقہ:
٭عیدگاہ میں عید کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے ، اسی طرح عید کی نماز کے لئے اذان و اقامت بھی نہیں ہے ۔
٭اگر مسجد میں عید کی نماز ادا کرے تو تحیۃ المسجد ادا کرے ۔
٭ نماز عید صرف دو رکعت ہے ۔ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں پڑھے ۔
٭تکبیرات عید پہ رفع یدین کرنا چاہئے حدیث سے ثابت ہے ۔
خطبہ عید:
نماز کے بعد امام مرد و خواتین کو وعظ و نصیحت کرے ۔ خطبہ صحیح قول کی روشنی میں سنت ہے، واجب نہیں ہے ۔ عید کی نماز کےبعد نبی ﷺ نے فرمایا تھا: مَن أحبَّ أن ينصرفَ فلينصرِفْ ، ومن أحبَّ أن يُقيمَ للخطبةِ فليُقِمْ۔(صحيح النسائي:1570)
ترجمہ: جو لوٹنا پسند کرے وہ لوٹ جائے اور جو خطبہ کے لئے رکنا چاہے وہ رک جائے۔
٭ جمعہ کی طرح اس کا سننا واجب نہیں لیکن وعظ ونصیحت کو سنے بغیر جانا بھی نہیں چاہئے۔
٭ عید کا ایک ہی خطبہ حدیث سے ثابت ہے ۔
٭ خطبہ کھڑے ہوکر دینا ہے اور بغیر منبر کے دینا ہے ۔
٭ خطبہ کے بعد یا نماز عید کے بعد اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ملتا لہذا اس نئی ایجاد سے بچنا چاہئے۔

جمعہ کے دن عید کی نماز:
اگر جمعہ کے دن عید کی نماز پڑجائے تو اس دن جمعہ کی نمازبھی پڑھ سکتے ہیں یاپھر ظہر ہی ادا کرنا کافی ہوگا۔
اجتمعَ عيدانِ على عَهدِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ فصلَّى بالنَّاسِ ثمَّ قالَ من شاءَ أن يأتيَ الجمعةَ فليأتِها ومن شاءَ أن يتخلَّفَ فليتخلَّف(صحيح ابن ماجه:1091)
ترجمہ : ابن عمر رضي الله عنهما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ساتھ دو عید پڑگئیں (یعنی عید اور جمعہ)، تو آپ نے عید کی نماز پڑھانے کے فرمایا کہ: جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے توپڑھ لے، اور جو نہیں پڑھنا چاہتا ہے تو وہ نہ پڑھے۔
نمازعید اور قضا:
٭ اگر کسی کو ایک رکعت مل جائے تو اس نے عید کی نماز پالی ،جو آخری رکعت کے سجدہ یا تشہد میں امام کے ساتھ ملے تو وہ عید کی نماز کی طرح نماز ادا کرلے ۔
٭ اگر کسی کی عید کی نماز چھوٹ جائے تو عید کی نماز کی طرح ادا کرلے ، چند لوگ ہوں تو جماعت قائم کرلے ۔جنہوں نے کہا نمازعید کی قضا نہیں صحیح بات نہیں ہے ۔ قضا کا بھی آثار سے ثبوت ملتا ہے ۔ نیز جس اثر سے قضا کی صورت میں چار رکعت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے اسے شیخ البانی نے ارواء الغلیل میں منقطع قرار دیا ہے ۔ قضاکرتے ہوئے دو رکعت ہی ادا کرے اور خطبہ عید چھوڑدے۔
عید کی مبارکبادی:
عید کے دن ایک دوسرے کو بایں الفاظ مبارکبادی دی جائے :تقبل اللہ منا ومنک( اللہ تعالیٰ ہم سب کی عید اور دیگر اعمال صالحہ قبول فرمائے)۔
كان أصحابُ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إذا الْتَقَوْا يومَ العيدِ يقولُ بعضُهم لبعضٍ : تَقَبَّلَ اللهُ مِنَّا ومنكَ۔
جبير بن نفير(تابعی) بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام عيد كے روز جب ايك دوسرے كو ملتے تو ايك دوسرے كو كہتے"تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْك" (اللہ تعالى مجھ اور آپ سے قبول فرمائے).
اس کو شیخ البانی نے صحیح کہا ہے ۔(تمام المنة:354)
حافظ ابن حجر نے اسے حسن کہا ہے (فتح الباری )
عید کے دن معانقہ و مصافحہ:
شيخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے دريافت كيا گيا:نماز عيد كے بعد مصافحہ اور معانقہ كرنے كا حكم كيا ہے ؟
توانہوں نے جواب دیا:ان اشياء ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ لوگ اسے بطور عبادت اور اللہ تعالى كا قرب سمجھ كر نہيں كرتے، بلكہ لوگ يہ بطور عادت اور عزت و اكرام اور احترام كرتے ہيں، اور جب تك شريعت ميں كسى عادت كى ممانعت نہ آئے اس ميں اصل اباحت ہى ہے۔ اھـ(مجموع فتاوى ابن عثيمين : 16 / 208- 210 )
عیدکے دن کھیل:
عید کے دن خوشی کے اظہار میں جائز کھیل کا مظاہرہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔عید کے دن حبشہ کے لوگوں کا ڈھالوں اور برچھوں سے کھیلنا ثابت ہے ۔ آپ ﷺ نے بھی اس کھیل کو دیکھا اور ان حبشیوں کو مزید کھیلنے کو کہا۔ یہ حدیث بخاری شریف میں کتاب العید کے تحت مذکور ہے ۔
( جاری رہے گا)​
 
Top