ذیشان خان

Administrator
ویران مسجدیں، سسکتے وضوخانے،خالی خالی صفیں پوچھ رہی ہیں کہ کیا مسلمان ختم ہو گئے۔؟

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سجدے دعا تلاوت سب ہوگئے ہیں رخصت
حیرت ہے مسجدوں سے نمازی چلے گئے

مسجدیں مسلمانوں کے حالات کو بدلنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔۔۔۔
مسجدیں مسلمانوں کو شقاوت وبدبختی سے نکال کر سعادت وخوش بختی کی دہلیز پر پہنچاتی ہیں۔ مسجدیں تنگی واضطراب اور بے چینی سے نکال کرخوشحالی اور چین وسکون کی فضا میں پہنچا دیتی ہیں۔۔۔۔۔
مسجدیں یہاں اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔۔۔۔۔۔
مسجدیں معاشرہ کے افراد کی روحانی تربیت کرتی ہیں۔۔۔۔۔
مسجدیں بندوں کو اللہ سے جوڑتی اور انہیں اللہ کے رنگ میں رنگتی ہیں۔۔۔۔۔
مسجدیں مسلمانوں میں اسلام کی روح پھونکتی ہیں۔
مسجدیں ساری انسانیت کے لئے سرچشمہ نورِ ہدایت ہیں۔۔۔۔۔
مسجدیں مسلمانوں کو تقویٰ وطہارت اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔۔۔۔۔
مسجدیں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ ہم اپنے سماج اور اپنے ملک وشہر میں برابری کے ساتھ رہیں، ایک دوسرے سے متحد اور جڑے رہیں۔۔۔۔۔
مسجدوں کی حاضری وپابندی، اور اس کا التزام بڑا ہی بابرکت اور باعث خیر عمل ہے اور یہ انسان کی مغفرت اور عزت و مقام کا سبب بنتا ہے۔۔۔۔۔

صحابہ کرامؓ اور ہمارے اسلاف مساجد کو آباد کرنے پر خاص توجہ دیتے تھے، ہر نماز میں مسجد کی حاضری کو ضروری سمجھتے تھے، ان کے دل مسجدوں میں معلق ہوتے تھے ، جنگ کے میدان اور تلوار کے سایوں میں بھی جماعت سے نمازیں ادا کرتے تھے ۔۔۔۔
افسوس ہے آج کے مسلمانوں پر! موذن بار بار پکارتا ہے کہ آو نماز کی طرف ، آو کامیابی کی طرف؛ مگر لوگ اپنے گھروں ، اپنی دوکانوں ، چوراہوں اور مٹر گشتیوں میں مست رہتے ہیں ، انہیں نماز کی بالکل فکر نہیں!

وہ نماز جس کی وصیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی کرتے رہے ۔۔۔۔۔
وہ نماز کہ شدت مرض اور کمزوری کے باوجود بھی وفات سے چار دن پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام نمازیں خود ہی پڑھاتے رہے ۔۔۔۔۔
وہ نماز کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں جانے کی بالکل طاقت نہ رہی تو آپ نے غسل فرمایا ، اس کے بعد اٹھنا چاہا لیکن آپ پر غشی طاری ہوگئی ، پھر افاقہ ہوا تو آپ نے نماز کے بارے میں دریافت کیا ، معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد دوباہ اور سہ بارہ آپ نے غسل کیا اور نماز کیلئے جانا چاہا تو آپ پر غشی طاری ہوگئی، بالآخر آپ نے حضرت ابو بکرؓ کو کہلا بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔۔۔۔

وہ نماز کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے ایک یا دو دن پہلے اپنی طبیعت میں قدرے تخفیف محسوس کی چنانچہ دو لوگوں کے کندھوں کا سہارا لے کر ظہر کی نماز کیلئے تشریف لائے ۔۔۔۔

میرےبھائیو! آج ہم کتنی آسانی سے نماز اور جماعت چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔!
آج ہم نماز سے کس قدر غافل اور سست ہوچکے ہیں!
معمولی حیلہ اور بہانہ اور آسانی سے نماز اور نماز کے حقوق کو ہم ضائع کر رہے ہیں!
یہی وجہ ہے کہ آج مسجدیں ویران ، لوگ حیران!

کاش! ہم نبی صلی اللہ کی زندگی کو اسوہ و نمونہ بناتے!

قارئین محترم! مسلمان جب تک مساجد سے جڑے رہے خیرو بھلائی پر رہے۔۔۔۔۔
جب تک مسلمان مساجد سے جڑے رہے ان کا بول بالا اور دبدبہ رہا، ان کی شان و شوکت اور عظمت باقی رہی ۔۔۔۔۔۔

مگر افسوس! آج مسجدیں مسلمانوں کی زبوں حالی پر نوحہ کناں ہیں۔۔۔۔
مسجدوں کی ویرانیاں کسی باشعور اور زندہ ضمیر مسلمان اور کسی صاحب نظر انسان سے مخفی نہیں!

دینی و ملی بھائیو! ہم اگر حقیقت میں معاشرہ کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے مساجد کے رول کو واپس لائیں۔۔۔۔۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد کے رول کو زندہ کیا جائے، امت کی اصلاح کیلئے اسے وہی مرکزیت دی جائے جو دور صحابہ، تابعی ، تبع تابعی ، سلف صالحین کے زمانہ میں حاصل رہی ہے۔۔۔۔

آئیے! اچھی نیّت سے اپنے گھر والوں ، پڑوسیوں ، رِشْتہ داروں ، قرب وجوار کے لوگوں اور تمام مسلمانوں کونمازکی ترغیب دِلا کر مسجدوں میں لائیں اورایک ایک بے نمازی پراِنْفرادی و اجتماعی کوشش کر کے انہیں نمازی بنائیں۔۔۔۔۔۔

مسلمانو آؤ اور دوڑو اللہ کی رحمت کی طرف اللہ کی مدد کی طرف ، اللہ کے انعام و احسان کی طرف۔۔۔۔

اللہ تعالی ہماری کوتاہیوں اور لغزشوں کو درگذر فرمائے۔ ہمیں نمازوں کی حفاظت اور مسجدوں کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین
 
Top