ذیشان خان

Administrator
تو جنت میں میرا بھی داخلہ آسان ہو جائے!( قسط1)

✍ عتیق الرحمن ریاضی،استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"وَسَارِعُوٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ" (آل عمران133)
اور اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف دوڑو، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

کون ہے جو جنت کے پرکیف باغات کا خواہاں نہ ہو؟
کون ہے جو جنت کے بے مثال انعامات کا متمنی نہ ہو؟
نیک اور صالح بندوں نے جنت کی طلب میں اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کیا، مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ، خواب گاہوں سے الگ ہوکر لمبا لمبا سجود و قیام کیا ، رات کے سناٹے میں آہ و گریہ زاری کرتے رہے ۔۔۔۔

سجدے میں رکھا ہوا سر، ندامت کے آنسو، آہ و بکاء اور عاجزی میں ڈوبی ہوئی دعاوں سے اللہ اور اس کی جنت کو پانا بالکل آسان ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔!
ہم پھسلتے ہیں، ڈگمگاتے ہیں، گر بھی جاتے ہیں پھر وہ ہمارا ہاتھ تھام لیتا ہے، اپنے قریب کر لیتا ہے، شیطان لعین کہتا ہے: اب تم بہت گنہگار ہو گئے ہو، یہ منہ لے کرکیسے رب کے پاس جاؤ گے، اب تمہارے لیے نجات کا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔۔۔؟
اللہ کہتا ہے: میری رحمت میرے غضب پر بھاری ہے ۔۔۔
اللہ کہتا ہے: کہ توبہ کر لو تو گناہوں کو بھی نیکیوں میں بدل دوں گا ، میں نے اس شخص کو بھی معاف کر دیا جو 99 قتل کرنے کے بعد سچی توبہ کی نیت سے میری جانب آگے بڑھا۔۔۔۔۔

ایک حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنسے گا، جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا ہوگا، وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے ، یہ قتل ہونے والا اللہ کے راستے میں لڑتے لڑتے شہید کیا گیا تھا ، پھر اللہ تعالی نے اس کافر قاتل کو توبہ کی توفیق دے دی اور وہ مسلمان ہو کر اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا۔
متفق علیہ (ماخوذ: ریاض الصالحین)
معلوم ہوا کہ توبہ سے بڑے سے بڑا گناہ اور قبول اسلام سے سابقہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ" (التحریم8)
اے ایمان والو! تم اللہ کے سامنے سچی خالص توبہ کرو ۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناه مٹا دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔

جب ہر دَر بند ہو جائے تو سبھی جانب مایوسی نظر آتی ھے، لیکن روشنی کی ایک کرن اور امید کا ایک دروازہ انسان کی خاطر وقتِ معین تک کُھلا رہتا ھے، اور وہ روشنی اور امید یہ ہے کہ اپنے رب کے حضور گناہوں سے ہمیشہ کے لئے سچی پکی اور خالص توبہ، جی ہاں خالص توبہ۔۔۔۔۔
کیونکہ گناہوں پر ندامت گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور گناہوں کے اندھیروں کو آپ توبہ کی روشنی سے ختم کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔
کیا آپ کو معلوم نہیں! ذرا چوکنا رہیں کہ۔۔۔۔۔۔
قبرستان ایسے نوجوانوں سے بھرے پڑے ہیں جو بڑھاپے میں توبہ کرنے کے خواہشمند تھے ۔۔۔۔۔۔!
تو پھر سچی توبہ کرنے سے میرے بھائی اتنی دیر کیوں۔۔۔۔۔؟
آج ہی ہم توبہ کیوں نہیں کر لیتے۔۔۔۔۔۔!!!
اللہ تعالی ہمیں سچی توبہ کرنے اور خاتمہ بالخیر کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین
 

ذیشان خان

Administrator
تو جنت میں میرا بھی داخلہ آسان ہو جائے!( قسط2)

✍ عتیق الرحمن ریاضی،استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بیٹیوں کی کفالت؛ جنت کی بشارت"

میٹھی میٹھی پیاری سی کہانیاں ہیں
بیٹیاں تو رب کی سچی مہربانیاں ہیں
بیٹیاں وہ پھول ہیں جو باغوں میں نہیں کھلتیں
یہ رب کا دیا نور ہیں جو قسمتوں سے ہیں ملتیں

باپ کے آنگن کا پھول ، ماں کے آنچل کی خوشبو ، کبھی رحمت ، کبھی عظمت ، کبھی سکون اور کبھی راحت ہیں بیٹیاں۔۔۔۔۔

گھروں میں خوشبو پھیلاتی ہوئی محبت و امن کی علامت ، دوزخ کی آگ سے نجات اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہیں بیٹیاں۔۔۔۔۔۔۔

بیٹیاں وہ پھول ہیں جب یہ ایک شاخ سے جدا ہوتی ہیں تو نئی شاخ پہ نئے پھول کھلا دیتی ہیں ۔۔۔۔

ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ والدین ضعیف ہو جاتے ہیں، چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتے ہیں، انہیں خدمت کی سخت ضرورت ہوتی ہے، اس وقت بیٹیوں کی شادی ہو جاتی ہے یہ شوہر کی مرضی کی محتاج ہو جاتی ہیں؛ لیکن جس وقت انہیں موقع ملتا ہے یہ دل و جان سے والدین کی خدمت کرتی ہیں، والدین میں اگر کوئی اس مقام پر پہنچ جائے کہ بستر سے اٹھ کر کہیں نہ جاسکتے ہوں، بستر پر ہی پیشاب و پاخانہ کر دیتے ہوں، اس وقت ہر کوئی تعفن کی وجہ سے دور بھاگتا ہے، لوگ جلد مرنے کی دعائیں کرتے ہیں؛ ان میں صرف ایک بیٹی ہی ایسی ہوتی ہے جس کے دل میں اپنے والدین کی محبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے؛ یہی بیٹی کی پاکیزہ محبت ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے، بوڑھے ضعیف والدین کی صفائی کا خیال کرتی ہے، اس کے دل میں کسی طرح کی گھن پیدا نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔

در اصل بیٹیاں محبت اور خلوص کا پیکر ہوتی ہیں، والدین کا احساس بیٹوں سے زیادہ کرتی ہیں-
پیدا ہوتی ہیں تو خاندان والوں کے منہ لٹکے ہوتے ہیں، لیکن جب چلنا پھرنا سیکھ جاتی ہیں تو اپنی معصوم اداؤں سے والدین کا دل جیتنا بھی سیکھ جاتی ہیں ، گھرکےکاموں میں امی کا ہاتھ بٹانا یا تھکے ماندے ابو آفس ، دوکان یا مدرسہ سے لوٹیں تو ان سے چائے پانی کا پوچھنااور ان کا پیار سے منہ تکنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔
گھر کا سکون یہ بیٹیاں ہی قائم رکھتی ہیں۔۔۔۔۔

یاد رہے کہ بیٹیوں سے زیادہ والدین سے سچی محبت کرنے والا کوئی نہیں؛ کیونکہ یہ بیٹیاں گلشن کے پھول ہیں انہیں کے دم سے رونق ہے ، اسی لیے یہ باعث رحمت اور باعث جنت ہیں ، خوشی خوشی ان کی اچھی پرورش اور اچھی تعلیم و تربیت کرو اور انہیں وراثت میں حصہ ضرور دو ، ان کے ساتھ حق تلفی ہر گز ہرگز نہ کرو، بیٹوں کی طرح ان کا بھی خوب مان جان رکھو ، ان سے بھی خوب لاڈ پیار کرو ۔۔۔۔۔

قارئین کرام! اسلام نے بچیوں کے ساتھ اچھے سلوک کو ماں باپ کے لئے اللہ کی رحمت اور حصول جنت کا ذریعہ بتایا ہے۔۔۔۔۔۔

عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَتْهُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَتْ:‌‌‌‏ جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، ‌‌‌‌‌‏فَأَعْطَيْتُهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، ‌‌‌‌‌‏فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ مَنْ يَلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ.( صحیح بخاری: 5995)
حضرت عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک عورت (اور) اس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، وہ مانگنے آئی تھی۔ میرے پاس سے سوا ایک کھجور کے اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کردی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔۔۔۔۔

صرف یہی نہیں بیٹی کی پرورش کی ایک اور بھی عظیم فضیلت بیان کی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو میں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے اور آپ نے کیفیت بتانے کے لیے اپنی دونوں انگلیوں یعنی شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا (صحیح مسلم)
معلوم ہوا کہ بیٹیاں جہنم سے بچنے کا ذریع اور جنت میں جانے کی ضمانت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنت میں نبی کریم ﷺ کی رفاقت کا بھی سبب ہیں۔ یقینا یہ بہت بڑا اعزاز و اکرام ہے۔۔۔۔۔۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں بیٹیوں کی پرورش اور ان سے حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں ہر قسم کی کمی اور کوتاہی سے محفوظ رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین
 

ذیشان خان

Administrator
تو جنت میں میرا بھی داخلہ آسان ہو جائے!( قسط3)

✍عتیق الرحمن ریاضی،استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھوٹ سے بچنے والوں کیلئےجنت کی ضمانت

"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا"
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف ستھری بات کیا کرو۔
" أَنَا زَعِيمُ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا ببیت فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا ببیت فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ"
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ میں اس شخص کے لئے جنت کے بیچ میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو جھگڑا چھوڑ دے اگرچہ حق پر بھی ہو۔
اور اس شخص کے لئے جنت کے وسط میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں جو مذاق کے طور پر بھی جھوٹ نہ بولے اور جو اپنے اخلاق کو اچھا کرلے اس کے لئے جنت کے اعلےٰ درجے میں گھر کی ضمانت دیتا ہوں۔ ( السلسلة الصحیحة 302)

قارئین کرام!
مسکراتے ہوئے جھوٹ ایک طوفان کی مانند ہے ، اس میں داخل ہونا آسان ہے ، لیکن اس سے فرار ہونا مشکل۔ (دیجان اسٹوانووک)

سچ ایک تیر کی طرح سیدھا ہے ، جبکہ جھوٹ سانپ کی طرح گھومتا ہے - (سوزی کسیم)

سچ لکھنا یا بولنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے، آپ کو بس وہ لکھنا یا بولنا پڑتا ہے جو روز روشن کی طرح سامنے موجود ہوتا ہے ،اصل محنت تو جھوٹ بولنے و لکھنے والوں کو کرنا پڑتی ہے ، انہیں تاویلیں و دلیلیں گھڑنا پڑتی ہیں۔۔۔
تب کہیں جاکر اک جھوٹ اس قابل بنتا ہے کہ اسے بطور “حقیقت” پیش کیا جاسکے اور پھر اس کے بعد بھی ہر مخالف کو کوسنا پڑتا ہے تاکہ باعث خوف کوئی آپ کی بات کا رد کرنے کی کوشش ہی نہ کرے …!!

آنحضرت صلى الله علیہ وسلم نے ہمیں ایک مثال دی ہے کہ جس نے کسی چھوٹے بچے کو کہا آؤ میں تمہیں کچھ دیتا ہوں اور اسے دیتا کچھ نہیں تو جھوٹ میں شمار ہوگا۔ یہ جھوٹ کی تعریف ہے۔ اب اگر ہم میں سے ہر ایک اپنا جائزہ لے تو پتہ چلے گا کہ ہم روزانہ کتنی دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹ بول جاتے ہیں ، مذاق مذاق میں ہم کتنی ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جھوٹ ہوتی ہیں۔ تو آنحضرت صلى الله عليہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اگر ہم اس بارے میں گہرائی میں جا کر توجہ کریں گے تب ہم اپنے اندر سے اور اپنے بچوں کے اندر سے جھوٹ کی لعنت کو ختم کر سکتے ہیں۔۔۔۔

انسان اگر وہ مثبت، اچھے اور کھرے لوگوں کے درمیان رہتا ہے تو اس کی شخصیت بھی ویسی ہی ہو جاتی ہے۔ اگر وہ تنگ نظر، منفی سوچ کے حامل اور بری عادات کے مالک لوگوں کے ساتھ اپنا وقت گزارتا ہے تو اس کی سوچ اور عمل بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر ویسا ہی ہو جاتا ہے۔

دین اسلام میں جھوٹ بہت بڑا عیب اور بد ترین گناہ ہے۔
قرآن و حدیث میں جھوٹ کی بری عادت کو چھوڑنے کی سختی سے تاکید کی گئی ہے۔
"فی قلوبھم مرض فزادھم اللّٰہ مرضا۔ ولھم عذاب الیم بما کانوا یکذبون"
”ان کے دلوں میں مرض ہے تو اللہ نے ان کے مرض میں اضافہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

جھوٹ برائیوں اور گناہوں کا دروازہ ہے کیونکہ ایک جھوٹ بول کر اسے چھپانے کیلئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

کئی لوگ مذاق میں جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مذاق میں جھوٹ بولنے سے کچھ نہیں ہوتا، احادیث میں مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے منع کیا گیا ہے۔
کئی لوگ مسکراہٹ کی آڑ میں جھوٹ بولتے ہیں کیا مسکراہٹ ان کے جھوٹ پر پردہ ڈال دے گی؟
اللہ تعالیٰ تو دلوں کا حال جاننے والاِ ہے۔

یاد رہے کہ ایک سچ سو سکھ لاتا ھے جبکہ ایک جھوٹ آپ کی ذات میں ہزار کھوٹ پیدا کرتا چلا جاتا ھے!
کیا فائدہ جھوٹ کا اور جھوٹے کے ساتھ کا ۔۔۔

میرا فون بند تھا‘ یا ’میں ٹریفک میں پھنس گیا تھا، میسیج دیکھ نہ سکا، کثرت سے یہ جھوٹ بولا جاتا ہے۔

جانتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے دوسرا جھوٹ بولا جاتا ہے، دوسرے کو چھپانے کے لیے تیسرا، اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔۔۔ اور سخت ترین جھوٹ اکثر خاموشی کے ساتھ بولا جاتا ہے۔۔۔۔۔

جھوٹا اپنی غلط بات کو ثابت کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے، لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے اور پھر اپنی غلطی تسلیم بھی نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔

جھوٹ چاہے زبان سے بولا جائے یا عمل سے ظاہر ہو، ہر طرح سے غلط اور ایک قابلِ مذمّت فعل ہے اس سے جتنا ہو سکے بچنا چاہیے اور سچ کو اپنی عادت اور طاقت بنانا چاہیے۔

جھوٹا وعدہ، جھوٹی معذرت، فضول بہانے ہم سب اپنے تئیں ’بے ضرر‘ جھوٹ کا سہارا لے کر تنازعے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن جھوٹ اتنا بھی بے ضرر نہیں، یہ ہمیں بیمار اور ہمارے تعلقات کو تباہ کر دیتا ہے۔۔۔۔۔

پیغام:
کروڑ پتی بننے کے لئے جھوٹ دھوکہ دہی ، چوری اور امانت میں خیانت ترک کریں۔۔۔۔۔ ہرجگہ سچی بات کریں اورسچ کواپنی زندگی میں داخل کریں، جنت کے وسط میں ایک خوبصورت گھر ہمارے لئے تیار ہے، ان شاءاللہ
اللہ تعالیٰ ہم سب کو جھوٹ سے بچائے ، ہمیشہ سچ بولنے، سچی بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین
 

ذیشان خان

Administrator
تو جنت میں میرا بھی داخلہ آسان ہو جائے!( قسط4)

✍عتیق الرحمن ریاضی،استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاوگے

آخری رات کے پرسکون اور کیف آور ماحول میں جب کہ اللہ کی خاص رحمت بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے ، اللہ کے نیک بندے اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف ہوجاتے ہیں، اپنے پروردگار کے حضور سجدہ کا نذرانہ پیش کئے بغیر انہیں چین نہیں ملتا، رب کائنات بھی ایسے چنندہ بندوں کا تذکرہ کچھ ایسے انداز سے کرتا ہے۔۔۔۔

" تتجافٰی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفاوطمعا"
ان کے پہلو خواب گاہوں سے علیحدہ رہتے ہیں اپنے رب کو خوف و امید کے ساتھ پکارتے ہیں۔
"کانو قلیلا من اللیل مایھجعون"
وہ راتوں کو بہت کم سویاکرتے تھے۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو سلام کو پھیلاو ، کھانا کھلاو اور رات کو نماز پڑھو جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں ، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاوگے۔ ( ترمذی ، حسن ، صحیح)

ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عبداللہ اچھا آدمی ہے اگر یہ رات کو نماز پڑھتا"
حضرت سالم کہتے ہیں کہ اس کے بعد (میرے والد) عبداللہ بن عمر رات کو بہت کم سوتے تھے۔
(بخاری و مسلم)

تہجد ایک عظیم نعمت ہے، جو قرب الٰہی کا وسیلہ، جنت میں جانے کا ذریعہ ، دل کو تروتازہ ، شگفتہ اور گرم رکھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ جسے اس لذت کا ادراک ہوجائے اس کے سامنے ساری دنیا کی دولت ہیچ ہے۔۔۔۔۔۔

میرے بھائی! انسانی ذھن بہت طاقتور ہے ، آپ کسی بھی کام کو صرف ایک بار شعوری طور پر مشکل قرار دے دیں آپ کا لاشعور اس کو مشکل سے مشکل تر بنا دے گا ، آپ کو فرار کے سو راستے بتائے گا ، آپ اس کام کو سوچتے ہی نروس ہو جائیں گے ، اس کام کو کرنا تو دور کی بات! تصور کرنا آپ کے لیے محال ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بہترین مثالیں ۔۔۔۔ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت اور اس میں غور و فکر، باجماعت نماز ، تہجد اور صبح فجر کے لیے وقت سے بیداری وغیرہ کے حوالے سے ذہن میں موجود تصورات ہیں ، یہ سب کام ہمیں اس لئے مشکل لگتے ہیں کیونکہ ہم انہیں مشکل سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اگر ہم ان کو آسان تصور کرنا شروع کردیں تو یہ کام چند دنوں میں ہی آسان ہوجائیں گے ۔۔۔۔۔
"و انہا لکبیرة الا علی الخاشعین"

کہا جاتا ہے کہ کوئی کام آسان یا مشکل آپ کی اپنی تصورات اور سوچ کی وجہ سے ہے ، ہم جس کام کو مشکل کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں تو اس کام کے حوالے سے ہمارے ذہن کی حدود مختصر ہو جاتی ہے ، ورنہ اس دنیا میں کتنے ناممکن کو بھی ممکن بنا دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔

جہاز کے وجود میں آنے سے پہلے کبھی کسی نے یہ کہا کہ ہم ہوا میں اڑیں گے ، تو ساری دنیا نے کہا یہ ناممکن ہے ، اس شخص نے اس ناممکن کو آسان بنا دیا اور ہوا میں اڑنےکے لیے ہوائی جہاز بنا دیا ۔۔۔۔۔۔
آج تک کہ ساری ترقی انسان کے تجسس اور زندگی کو آسان بنانے کے تصور ہی کی وجہ سے ممکن ہو سکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھیں! کامیابی کے اصولوں کے مطابق آسان کام کرنے سے زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی ، اس لئے میرے بھائی! یا تو مشکلوں کو بدل دیں ، یا اگر ایسا نہ ہوسکے تو پھر مشکلوں کیلئےخود کو تیار کرلیں ، کیوں کہ کامیابی کا سفر ہوتا ہی مشکل ہے ۔۔۔۔۔۔۔
چڑھائی کہاں آسان ہوتی ہے ، لیکن بلندی کو پانے کے لئے چڑھائی کو طے کرنا ہی پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اس لیے یہ بات نوٹ کر لیں کہ اگر آپ مشکلات سے بچیں گے تو کامیابی سے بھی بچ جائیں گے ۔۔۔۔۔!

ہم سوچیں ، غور کریں اور جائزہ لیں کہ تہجد کی نماز کچھ لوگ بڑی ہی آسانی سے ادا کرتے ہیں ، لیکن ہمارے لئے یہ نماز کیوں بہت ہی مشکل اور گراں ہے۔۔۔۔۔۔!
میرے بھائی! جنت میں جانے کے لیے دنیا کے عیش و آرام کو قربان کرنا ہی ہوگا ۔۔۔۔۔۔
کیا خیال ہے آپ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

دنیا اور آخرت میں ایسا مقام و مرتبہ جہاں تم محمود خلائق ہوکر رہو ، ہر طرف سے تم پر مدح و ستائش کی بارش ہو۔۔۔۔۔۔!
ابھی فیصلہ کریں اور آج رات سے ہی تہجد گزار بنیں۔

یا اللہ! تہجد کی رغبت ، تہجد کا شوق اور تہجد کے آنسو ہم تمام مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے ، آمین
 

ذیشان خان

Administrator
تو جنت میں میرا بھی داخلہ آسان ہو جائے! (قسط5)

✍ عتیق الرحمن ریاضی،استاذ کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام اور اطاعت گزاروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے۔۔۔۔۔۔

قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی، خدمت کے لیےحور و غلمان ملیں گے، ہر طرح کے نہ ختم ہونے والے پھل ہوں گے ، مرغوب پرندوں کے گوشت ہوں گے ۔۔۔۔
انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔۔۔۔

نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے، نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اسے اپنے بندوں کو ہی عطا کرے گا، لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔۔۔۔۔

قارئین محترم!
جنت کاحصول بہت آسان ہے، جنت ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔۔۔۔۔

وضو اور جنت۔۔۔۔
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُبْلِغُ أَوْ فَیُسْبِغُ الْوَضُوْءَ ثُمَّ یَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِیَةُ یَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ۔(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر یہ کہے : أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُهُ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔‘‘

جنت میں حضرت بلالؓ کے قدموں کی آواز۔۔۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا: اے بلال تو مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہو اور جس کے نفع کی تجھے زیادہ امید ہو کیونکہ آج رات میں نے جنت میں اپنے سامنے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے۔ حضرت بلالؓ نے عرض کیا میں نے اسلام میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جس کے نفع کی مجھے زیادہ امید ہو سوائے اس کے کہ جب بھی میں رات یا دن کے وقت کامل طریقے سے وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جس قدر اللہ نے میرے مقدر میں لکھا ہوتا ہے نماز پڑھ لیتا ہوں۔(صحیح مسلم 6324)

جنت میں گھر۔۔۔
فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ جو شخص ہر روز بارہ رکعات نفل (یعنی سنتیں) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم:)۔

میرے بھائیو! ہم جنت میں جانا چاہتے ہیں؛ پر راستے بھول چکے ہیں! الا من رحم اللہ

اے وضو اور نماز سے دور رہنے والو!
اےخواہشات کے پیچھے بھاگنے والو!
اے نیند و آرام سے دوستی رکھنے والو!
اے آخرت کو فراموش کرنے والو!

تیری آنکھ کیسی۔۔۔۔۔۔۔۔؟
جو نمازوں کو ضائع کرنے پر افسوس کرتے ہوئے آنسو نہ بہائے ۔۔۔۔۔!
کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا۔۔۔۔۔۔؟
کہ تیرا پتھرجیسا سخت دل نرم ہو جائے!

اللہ کی قسم دنیا سے کوچ کا وقت اور آخرت کیلئے منتقل ہونے کا وقت بھی قریب ہے ۔۔۔۔۔
کیا تم نے اللہ رب العالمین کا یہ فرمان نہیں سنا۔۔۔۔؟
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ‌ۘ ۞ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن ۞ الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞ (المومنون)
جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں، یہی وہ وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

ذرا غور کریں کہ ہمارے گھروں ، محلوں اور گاؤں میں کتنے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں یا نماز پڑھتے ہی نہیں ۔۔۔۔!
کیا ہم نے ان کی رشد و ہدایت اور انہیں درست راستے پر لانے کے لیے انتہائی بے چینی اور بے قراری محسوس کی ۔۔۔۔۔۔؟
کیا ہم نے ان کی اصلاح کیلئے ٹھوس قدم اٹھایا ۔۔۔۔۔؟
کیا ہم نے اپنی جبینوں سے مسجدوں کو سجایا۔۔۔۔۔۔؟

میرے بھائیو! سینہ کھول کر ان باتوں پر غور کرو ، اپنے کانوں میں میرے الفاظ ڈالو تو آپ کا دل خود بخود غفلتوں کی شہادت اور آپ کو آواز دے گا۔۔۔۔۔!!!

خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مسجد سے نکلتے ہیں تو دوسری نمازوں کے لیے ان کے دلوں میں مسجد کی طرف شوق و رغبت موجود ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
دنیا کی ہر خواہش و تمنا سے بڑھ کر ان کی تمنائیں جماعت اور ادائیگی نماز پر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس تحریر کے الفاظ ایک غمگین دل کی آہ اور ایک درد بھرے دل کی کراہ ہیں ، ان جنتوں کی طلب میں جن کی مہک ہر سو ہیں ۔۔۔۔۔

امید کہ یہ باتیں تمام روحوں میں سرایت کر جائیں اور ہم جنتیوں کے راستے پر چلنے والے بن جائیں!
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین
 

ذیشان خان

Administrator
تو جنت میں میرا بھی داخلہ آسان ہو جائے! (قسط6)

✍ عتیق الرحمن ریاضی، پرنسپل کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنت میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا شرف حاصل ہو ، اس کے لیے ضروری ہے کہ سلام کو عام کریں ، لوگوں کو کھانا کھلائیں اور کثرت سے نماز پڑھیں ۔

إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا تُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، ‌‌‌‌‌‏وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا ، ‌‌‌‌‌‏فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‌‌‌‏ لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ، ‌‌‌‌‌‏وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، ‌‌‌‌‌‏وَأَدَامَ الصِّيَامَ، ‌‌‌‌‌‏وَصَلَّى لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ .

جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا، ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول! یہ کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو اچھی طرح بات کرے، کھانا کھلائے ، خوب روزہ رکھے اور اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے جب کہ لوگ سوئے ہوں۔ (سنن ترمذی)

اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ :
يَا رَسُولَ اللهِ أَخْبِرْنِي بشَيْءٍ يُوجِبُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْكَلامِ، وَبَذْلِ الطَّعَامِ.
اے اللہ کے رسول! ایسا عمل بتائیں جو جنت واجب کر دے ؟ آپ ﷺنے فرمایا :اچھی بات کرنا اور کھانا کھلانا ۔(المعجم الڪبير)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: اسلام میں سب سے بہتر عمل کونسا ہے؟ آپ نے ارشادفرمایا: کھانا کھلانا اورہر ایک کو سلام کرنا خواہ اس سے تمہاری جان پہچان ہو یا نہ ہو۔(متفق علیہ)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی مسلمان کو احتیاجِ لباس کی صورت میں کپڑا پہناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا سبز ملبوس پہنائے گا۔
جو شخص کسی مسلمان کو بھوک کی حالت میں کھانا کھلاتا ہے اللہ کریم اسے جنت کے ثمرات سے سیر کریں گے اورجو شخص کسی مسلمان کو پیاس کی حالت میں پانی پلاتا ہے اللہ رب العزت اس کو اپنی خالص شراب پلا ئیں گے جس پر مہر لگی ہوگی۔(ابوداﺅد)

ایک گنہگار عورت نے سچے دل سے پیاسے کتے کو پانی پلایا اللہ نے اس کے گناہ کو معاف کر دیا اور اس کا عمل اتنا مقبول ہوا کہ جنت کی اسے خوشخبری مل گئی۔( بخاری شریف)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم جنت میں نہیں جاؤ گے یہاں تک کہ ایمان لاؤ اور تم مومن نہیں ہوگے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو، کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے۔ تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ اور عام کرو ۔ رواہ مسلم

ایک حدیث میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رحموں کو ملاؤ ( یعنی رشتہ داریوں کے حقوق ادا کرو) اور اس وقت اٹھ کر نماز پڑھو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں ( تہجد کی نماز) تو تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے ( رواہ الترمذی)

قارئین محترم! سلام کرنے والا اپنے سلام کے ذریعے سامنے والے کو یہ دعا دیتا ہے کہ آپ تمام آفات سے سلامتی اور شرور سے حفاظت میں رہیں خواہ دینی ہو یا دنیاوی، جانی ہو یا مالی، نیز سلام امن و شانتی کا پیغام، حفظ و سلامتی کا ذریعہ اور اتحاد و اتفاق کی شاہ کلید ہے۔

لیکن آج عموما لوگ چہرہ اور شخصیت دیکھ کر سلام میں پہل کرتے ہیں، غریبوں اور اجنبی لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں حالانکہ سلام شناسا و غیر شناسا اور واقف و اجنبی سب کو کرنا چاہیے۔۔۔۔
ذرا ہم اپنے آپ کو چیک کریں کہ مہینے میں کتنے لوگ ہمارے دسترخوان سے سیراب ہوتے ہیں۔۔۔۔!

خلاصہ کلام یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ سلام و حسن کلام ، راتوں میں قیام ، صلہ رحمی اور اطعام الطعام یعنی لوگوں کو کھانا کھلانا یہ ساری باتیں ایک مومن کے لیے ضروری ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک خصلت جنت میں لے جانے کا سبب ہے ۔۔۔۔۔
اللہ تعالی ہم سب کو جنت الفردوس کا وارث بنائے۔
 
Top