ذیشان خان

Administrator
تجارت ضروری کیوں ۔۔۔۔۔۔۔؟

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس قوم میں فکری زوال آ جائے تو اس کی پوری نسل زوال سے نہیں بچائی جاسکتی ۔۔۔۔۔!!!
عالمی معیشت میں تجارت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے ۔۔۔۔
جس قوم نے بھی تجارت کو اپنایا ہوا ہے ، اس کی نہ صرف معاشی حالت بہتر ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی ملکی اور عالمی سطح پر غالب ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ایک وقت تھا کہ جب مسلمان تجارت کے میدان میں ساری قوموں سے آگے تھے ، اس وقت مسلمانوں کو بہت سے دینی و دنیوی فوائد حاصل تھے ۔۔۔۔۔۔۔
تجارت سے دوری اور حصول رزق کے دوسرے ذرائع قوم کے زوال کے اسباب میں سے ایک سبب ہے ۔۔۔۔۔۔
بقول اکبر الہ آبادی :
زوال قوم کی ابتدا وہ تھی
جب تجارت ترک اور نوکری کر لی

ایک حدیث ۔
نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے کہ "تم میں سے کوئی شخص اگر رسی لے کر لکڑیوں کا گٹھا لائے ، پھر اسے فروخت کرے (اور اس سے اپنا گزر بسر کرے) اور اس طرح اللہ تعالی اس کی آبرو محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے اور اسے کچھ دیا جائے یا نہ دیا جائے (صحیح بخاری )

اللہ رب العالمین کا فرمان ۔
" واحل اللہ البیع وحرم الربا" (البقرہ 275 )
اللہ تعالی نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔۔۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ہم دنیا کی زندگی میں اللہ کی عبادت کے ساتھ ساتھ تجارت کو فروغ دیں ۔
جیسا کہ اللہ تعالی نے سورہ جمعہ میں ارشاد فرمایا ہے :
"اے ایمان والو جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الہی کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو ۔۔۔۔۔
اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عبادت کے وقت عبادت اور تجارت کے وقت تجارت ۔۔۔۔۔۔
کیوں کہ تجارت ایک ایسی ضرورت ہے جس سے انسان کی معیشت درست ہوتی ہے ، قوم و معاشرے کا وقار بلند ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عمدہ تاجر تھے ، آپ کی اصول تجارت کو دیکھ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ کے پاس شادی کا پیغام بھجوایا اور جب آپ کو نبوت ملی تو آپ نے تاجروں کا حوصلہ بڑھایا اور فرمایا :
"جو تاجر تجارت کے اندر سچائی اور امانت کو اختیار کرے تو قیامت کے دن انبیاء ۔۔۔ صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا ۔۔۔۔۔۔
مترم بھائیو! عبادت آدمی اس وقت خشوع و خضوع سے کرتا ہے جب وہ خود مختار ہوتا ہے اور غریب مفلس اکثر اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوا نظر آتا ہے یا پھر کسی مالدار کے دربار میں اپنے ضمیر کا سودا کرکے ان کے دیئے ہوئے ٹکڑوں کا ممنون و مشکور بنا پھرتا ہے ۔۔۔ بجائے اللہ کے شکر ادا کرنے کے انہیں لوگوں کے نام کی مالا جپتا ہی نظر آتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اسی لئے اللہ رب العالمین نے انسانی فطرت کو جانتے ہوئے قرآن میں اس بات کا لوگوں کو حکم دیا ہے کہ" پس جب نماز ادا ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ "
رزق تلاش کرنے کا مطلب تجارت ۔۔۔۔۔
اور جیسا کہ تجارت کے تمام اصول قرآن و حدیث اور فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
مگر افسوس! اس بات پر ھیکہ جس قوم کو اس کے مذہبی کتاب نے تجارت کا ، سیاست کا، وکالت کا ، عبادت کا اور بھی دیگر علوم و فنون کا علم دیا ہے ، وہی قوم آج اس سے کوسوں دور ہے ۔۔۔ نہ تجارت میں مہارت نہ ہی سیاست میں اس کی کوئی حیثیت ۔۔۔۔۔۔!!!
اگر مدارس میں "کتاب البیوع" طلبہ کو تجارت کی رغبت سے پڑھایا جاتا تو آج جو اسلامی اداروں کی صورتحال ہے شاید وہ نہ ہوتی ۔۔۔۔۔!
اساتذہ کی اتنی ناقدری نہ ہوتی ۔۔۔۔۔!
ان کے سالوں سال کی محنت اور خدمت کا یہ صلہ نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔!!!

یہ تمام تر وجوہات و معاملات ہمارے فکری انحطاط کا ہی اصل سبب ہیں ، اور جس قوم میں فکری زوال آ جائے تو اس کی پوری نسل زوال سے نہیں بچائی جا سکتی ۔۔۔۔۔۔
شاید ہماری قوم بھی اسی راستے پر ہے جہاں ہمارے ذی ہوش علماء کرام کو بچوں کو مدارس سے فارغ کرنے کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔۔! معذرت کے ساتھ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارت کو فروغ دیا ۔۔۔۔۔
حضرت ابوبکر۔۔۔ حضرت عمر۔۔۔ حضرت عثمان ۔۔۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم اجمعین اور اکثر مہاجرین کا ذریعہ معاش تجارت ہی تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے نبی گزرے ہیں تقریبا سبھی نے تجارت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
سوال ۔ جب انبیاء کرام علیہ السلام اتنی بڑی بڑی ذمہ داریوں کے ساتھ انہوں نے تجارت کی ہے تو کیا ہم اپنے تعلیمی نظام کے ساتھ تجارت کو فروغ نہیں دے سکتے ۔۔۔۔۔ ؟
جواب ۔ بالکل دے سکتے ہیں ، مگر فکری زوال ہماری ناکامی کا سبب بنی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کوخیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

گزارش ۔۔۔
اپنی قوم کے بکھرے ہوئے نوجوانوں کو سہارا دیں ۔۔۔ اداروں کو خود مختار بنائیں ۔۔۔ عالم ، مفتی اور شیخ الحدیث کے علاوہ کامیاب اور سچا تاجر بنانے کی فکر کریں ۔۔۔۔۔۔
حدیث ۔
" کسی انسان نے اس سے بہتر روزی نہیں کھائی جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے ، حضرت داود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھوں سے کام کرکے روزی کھایا کرتے تھے " (صحیح بخاری)
میرے بھائیو!
اٹھو معاشرے کی تجارت کے نظام کو بدل دو ۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کو بتلا دو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالوں نے دنیا کے تجارتی بازار میں قرآن و حدیث کا حکم نافذ کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو! دھوکہ دہی ۔۔۔ مکر و فریب کا خاتمہ کرکے اسلامی امتیاز و شان اور اپنے اچھے اخلاق سے دنیا کو مسخر کرنا سیکھو ۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو ! جمود کو توڑو اور اپنے آپ کو حرکت میں لاو ۔۔۔۔۔۔۔
پانی جب تک بہتا ہے صاف ستھرا رھتا ہے ۔۔۔
لیکن وہی پانی ساکت ہونے کے بعد میلا و گدلا ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔۔

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
 
Top