ذیشان خان

Administrator
کیا نبی ﷺ کے فضلات پاک ہیں؟


تحریر: مقبول احمد سلفی
داعی اسلامک دعوۃ سنٹر-شمال طائف( سعودی عرب)
نبی کریم ﷺ ہماری طرح ہی بشر(انسان ) تھے، کھاتے پیتے ، پیشاب وپاخانہ کرتے ، سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے اور کام کاج کرتے یعنی بشر ہونے کے ناطے ہماری طرح انسان تھے ۔ اس بات کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن میں کیا ہے ۔​
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف/ 110)
ترجمہ: اے نبی ! آپ لوگوں کو کہہ دیں کہ میں تمہارے ہی جیسا ایک بشر ہوں۔
یہ بات نبی ﷺ نے بھی بیان فرمائی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إنما أنا بشرٌ مثلُكم، أنسى كما تنسوْن، فإذا نَسِيتُ فذكروني(صحيح البخاري:401)
ترجمہ: میں تو تمہارے ہی جیسا آدمی ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں،اس لیے جب میں بھول جایا کروں تو تم مجھے یاد دلایا کرو۔
قرآن کی آیت اور حدیث میں لفظ "بشرمثلکم " قابل غور ہے ، یہاں یہ بتلانا مقصود ہے کہ محمد ﷺ نہ صرف انسان ہیں بلکہ ہمارے ہی جیسے انسان ہیں۔ اور حدیث میں انسان کی ایک بہت بڑی کمزوری بھولنے کا ذکر ہے جس کے متعلق آپ ﷺ کا یہ بتلانامقصودہے کہ بھولنا انسانی کمزوری ہے اور چونکہ میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں اس لئے میں بھول جاتا ہوں ، جب مجھ سے ایسا ہوجائے تو مجھے یاد دلادیاکرو۔
اس کے علاو ہ بہت سارے نصوص میں آپ ﷺ کے دیگر انسانی اوصاف کا ذکر موجود ہے جن تمام کا ذکر کرنا یہاں ضروری نہیں ۔اس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئےاس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ جس طرح ایک عام انسان کے فضلات (پیشاب وپاخانہ ) ناپاک ہیں اسی طرح آپ ﷺ کے فضلات بھی ناپاک ہیں ۔ اس پہلو کے علاوہ بہت سے دلائل بھی اس بات کو تقویت دیتے ہیں بلکہ بعض ادلہ سے آپ کے فضلات کی ناپاکی کی صراحت بھی ملتی ہے ۔
یہاں ان چند دلائل کا ذکر کیا جاتا ہے جن سے آپ کے فضلات (پیشاب وپاخانہ ) ناپاک ہونے پر ثبوت ہیں ۔​
(1) اللہ تعالی کا فرمان ہے: أو جاء أحد منكم من الغائط ۔[النساء: 43]
ترجمہ: یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت (پیشاب یا پاخانہ ) سے آیا ہو۔ یعنی جب تم پیشاب یا پاخانہ کرکے آؤ تو نماز نہ پڑھو یہاں تک کہ پاک ہوجاؤ (وضو نہ کرلو)کیونکہ پیشا ب اور پاخانہ پاکی کو ختم کردیتےہیں۔ یہ حکم تمام لوگوں سمیت آپ ﷺ کو بھی شامل ہے کہ جب آپ ﷺ پیشاب یا پاخانہ کرکے آئیں تو وضو کریں ۔ آپ ﷺ ہمارے لئے نمونہ بن کر آئے تھے ، آپ کا قول وفعل ہمارے لئے دلیل ہے ، اگر آپ کے ہر قول وفعل میں اختصاص ہوتا تو ہمارے لئے نمونہ نہیں ہوتے ،ہاں آپ کے کچھ اختصاص بھی ہیں ،ان کی خصوصیت کی دلیل موجود ہے جوکہ ایک الگ مسئلہ ہے ۔
(2) آپ کے پیشاب اور پاخانہ کی ناپاکی کی صریح دلیل ملاحظہ کریں ۔
أنه كان يحملُ معَ النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم إِداوَةً لوَضوئِه وحاجتِه، فبينما هو يَتْبَعُه بها، فقال: (مَنْ هذا؟) فقال: أنا أبو هُرَيرَةَ، فقال: (ابْغِني أحجارًا أستَنفِضْ بها، ولا تأتني بعظمٍ ولا برَوْثَةٍ) . فأَتَيْتُهُ بأحجارٍ أحملُها في طَرَفِ ثوبي، حتى وضعْتُها إلى جنبِه(صحيح البخاري:3860)
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو اور قضاءحاجت کے لئے ( پانی کا ) ایک برتن لئے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں ؟ بتایا کہ میںابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ استنجے کے لئے چند پتھر تلاش کرلاواور ہاں ہڈی اور لید نہ لا نا ۔ تو میں پتھر لے کر حاضر ہوا ۔ میں انہیں اپنے کپڑے میں رکھے ہوئے تھا اور لاکرمیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اسے رکھ دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا ۔
اس حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ صحابی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کے قضائے حاجت کے لئے برتن میں پانی لئے ہوئے تھے ۔ آپ ﷺ نے ان سے استنجا کے لئے پتھر طلب کیا۔ اگر آپ کے بول وبراز پاک ہوتے تو استنجا کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ اس سے صاف عیاں ہے کہ نبی کا بول وبراز بھی ناپاک ہے ۔
ایک امر کی وضاحت :
یہاں ایک بات دھیان میں رکھنا چاہئے کہ آپ ﷺ ہماری طرح انسان ہوتے ہوئے بعض انسانی اوصاف میں ہم سے الگ بھی ہیں جو آپ کی ذات کے ساتھ خاص ہیں ،مثلایہ حدیث دیکھیں ۔​
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے جنہوں نے دس سال تک نبی ﷺ کی خدمت کی بیان کرتے ہیں :
وما مسِستُ خزًّا قطُّ ولا حَريرًا ولا شيئًا كانَ أليَنَ مِن كفِّ رَسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ ، ولا شمِمتُ مِسكًا قطُّ ولا عِطرًا كانَ أطيَبَ مِن عَرَقِ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ(صحيح الترمذي:2015)
ترجمہ: میں نے کبھی کوئی ریشم، حریریا کوئی چیز آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم اور ملائم نہیں دیکھی اورنہ کبھی میں نے کوئی مشک یا عطر آپ ﷺ کے پسینے سے زیادہ خوشبوداردیکھی ۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ کی ہتھیلی ریشم سے بھی زیادہ نرم اور آپ کا پسینہ مشک سے بھی زیادہ خوشبودار تھا۔ اس حدیث سے ان دونوں چیزوں میں آپ کی خصوصیت ظاہر ہوگئی تو جہاں آپ کے لئے کسی خصوصیت کا ذکر صحیح دلیل سے ملتا ہے تو وہ آپ کے ساتھ خاص ہوگا ورنہ انسان کے جو اوصاف وخصوصیات ہیں آپ ﷺ کے لئے بھی ہم جیسے برابر ہوں گے ۔ ہاں معجزہ الگ چیز ہے ، آپ کا مقام ومرتبہ بھی ایک الگ چیز ہے ، اسی طرح آپ کی زندگی بحیثیت نبی بھی الگ معاملہ ہے ۔ یہاں بحث محض بشر ہونے کی حیثیت سے ہے اور پیشاب وپاخانہ کا تعلق بشریت یا بشری اوصاف سے ہے جو تمام انسانوں کے لئے یکساں ہیں ۔
شبہات کا رد :
بعض لوگوں نے نبی کے فضلات (پیشاب وپاخانہ ) پاک ہونے کا شبہ ہوا ہے جن کا رد یہاں کیا جاتا ہے ۔
(1)پہلا شبہ پیشاب پینے سے متعلق :
مستدرک حاکم اور طبرانی وغیرہ میں ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پیشاب پینے کا ذکر ہے ۔
عن أُمِّ أَيْمَنَ قالت : قام رسول الله صلى الله عليه وسلم مِنَ اللَّيْلِ إلى فَخَّارَةٍ في جَانِبِ الْبَيْتِ فَبَالَ فيها ، فَقُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ وأنا عَطْشَانَةُ فَشَرِبْتُ ما فيها وأنا لا أَشْعُرُ فلما أَصْبَحَ النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( يا أُمَّ أَيْمَنَ قَوْمِي فَأَهْرِيقِي ما في تِلْكَ الْفَخَّارَةِ ) قلت : قد وَالله شَرِبْتُ ما فيها ، قالت : فَضَحِكَ رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ثُمَّ قال ( أما إنك لا تَتَّجِعِينَ بَطْنَكِ أبدًا )( مستدرک حاکم :4 / 70 ) والحلية: 2 / 67 ) والطبراني الكبير:25 / 89 ، 90 ) .
ترجمہ: ام ایمن سے روایت ہے وہ کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات اٹھے اور گھر کے ایک جانب پیالے میں پیشاب کیا اسی رات میں پیاس کی شدت کے ساتھ اٹھی اور پیالے میں جو تھا میں نے پی لیا اور میں جان نہ سکی ۔صبح میں نبی ﷺ نے کہا : اے ام ایمن اٹھو اور پیالے میں جو ہے اسے بہاآؤ۔ تو اس نے کہی ، اللہ کی قسم ، پیالے میں جو تھا وہ پی گئی ۔ وہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ مسکرائے یہاں تک کہ دانت ظاہر ہوگئے اور فرمایا: خبردار! بے شک اب آج کے بعد کبھی اپنے پیٹ میں بیماری نہ پاو گی۔
یہ روایت ضعیف ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں ایک راوی ابومالک نخعی بالاتفاق ضعیف ہے ، دوسرا یہ کہ اس روایت میں انقطاع بھی ہے اس لئے یہ روایت استدلال کے قابل نہیں ۔
بیہقی اور طبرانی میں ایک دوسری روایت ہے جس میں مذکور ہے ام حبیبہ کی برکہ نامی خادمہ نے نبی ﷺ کا پیشاب پی لیا جو آپ نے ایک لکڑی کے برتن میں کرکے چارپائی کے نیچے رکھ دیا تھا۔ یہ روایت بھی ضعیف ہے ۔
نسائی میں صحیح روایت موجود ہے اس میں پیشاب پینے کا ذکر نہیں ہے ۔ حضرت امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
كان للنبيِّ قدحٌ مِن عِيدان يَبولُ فيه ، ويضعُه تحتَ السريرِ.(صحيح النسائي:32)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لکڑی کا ایک پیالہ تھا جس میں آپ (رات کے وقت) پیشاب کرتے تھے۔ اور اسے اپنی چارپائی کے نیچے رکھ لیتے تھے۔
(2) دوسرا شبہ خون پینے سے متعلق :
بعض احادیث میں صحابہ کرام سے نبی ﷺ کے خون پینے کا ذکر ملتا ہے اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ نبی کے فضلات پاک ہیں ۔ اس دلیل سے اولا یہ استدلال کرنا کہ آپ ﷺ کے پیشاب وپاخانہ بھی پاک ہیں قطعی صحیح نہیں ہے ۔ خون کی دلیل خون تک محدود ہوگی ۔ ثانیا اس سلسلے میں جو روایات ہیں ان سب میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ شیخ محمد صالح المنجد نے ان ساری روایات کی تخریج اور حکم بیان کیا ہے جو ملتقی اہل الحدیث پر بھی موجود ہے۔ تقریبا پانچ لوگوں سے خون پینے کا ذکر ہے ۔
٭ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ۔ اس روایت میں ایک راوی ہنید بن قاسم بن عبدالرحمن مجہول ہونے کی وجہ سے روایت ضعیف ہے ۔
٭ سفینہ رضی اللہ عنہ سے ۔ اس روایت میں ایک راوی بریہ ضعیف ہونے سے یہ روایت ضعیف ہے ۔
٭ سالم ابوہند الحجام رضی اللہ عنہ سے ۔ اس روایت میں ابوالحجاف راوی پر جرح ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے ۔
٭ ایک قرشی غلام سے ۔ اس میں ایک راوی نافع ابوہرمز کذاب راوی ہے ۔
٭ مالک بن سنان رضی اللہ عنہ سے ۔ یہ روایت بھی مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
تیسرا شبہ :
ایک گھڑی ہوئی روایت سے استدلال سے بھی استدلال کیا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کے فضلات پاک ہیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ كان إذا دخلَ الخلاءَ ثُمَّ خرجَ : دخلْتُ فلا أرى أثرَ شيءٍ ، إلَّا أَنِّي أَجِدُ رِيْحَ الطِّيبِ ، فذكرْتُ ذلكَ لهُ فقال : أما علِمْتَ أنَّا معشرَ الأنبياءِ نَبَتَتْ أَجْسامُنا على أَجْسادِ أهلِ الجنةِ ، فما خرجَ مِنَّا ابْتَلَعَتْهُ الأرضُ۔
ترجمہ: جب نبی ﷺ بیت الخلاء جاتے اور نکلتے تو میں اس میں داخل ہوتی اور وہاں کسی چیز کا اثر نہیں پاتی البتہ وہاں خوشبوکا اثر پاتی۔ میں نے اس بات کا نبی ﷺ سے ذکر کیا توآپ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتی ، ہم انبیاء کی جماعت ہیں ، ہمارے اجسام جنتیوں کے اجسام پر بنائے گئے ہیں ،ان سے جو کچھ بھی نکلتا ہے زمین اسے نگل لیتی ہے ۔
ابن عدی نے اس روایت کو الکامل فی الضعفا ء میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں حسین بن علوان ہے جس کی احادیث عام طور سے موضوع ہوتی ہیں اور یہ احادیث گھڑنے والا ہے ۔ ابن حبان نے بھی اسے موضوع کہا ہے ، ان کے علاوہ بہت سارے محدثین نے اس حدیث اور اس کے راوی حسین پر سخت جرح کی ہے ۔
چوتھا شبہ :
کچھ لوگ یہ شبہ پیدا کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے معجزات میں سے کہ آپ کے فضلات پاک ہیں اور پیشاب وپاخانہ کے لئے استنجا جو کرتے ہیں وہ محض امت کو تعلیم دینے کے لئے کرتے ہیں ۔
یہ دعوی بلادلیل ہے اور کوئی دعوی بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتا ۔ اگر بغیر دلیل کے یہ دعوی تسلیم کرلیا جائے تو دین میں کچھ بھی کہاجاسکتا ہے ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو پیشاب وپاخانہ لگتا ہی نہیں تھا ۔ آپ تو یونہی امت کی تعلیم کے لئے بیت الخلاء جاتے تھے ۔ جب ان حضرات سے سوال کیا جائے کہ آپ تو کہتے ہیں نبی کا پیشاب بہت سے صحابہ نے پیا ہے تو اس کا بھی جواب دیدیں گے ۔ آپ کو پیشاب آتا ہی نہیں تھا ،صحابہ نے جو پیشاب پیا ہے وہ تو ایک معجزہ تھا، ورنہ آپ کو پیشاب وپاخانہ نہیں آتا تھا۔ یہ ایک فرضی دلیل ان حضرات کو سمجھانے کے لئے دی ہے جو اپنے من سے فرضی معجزہ بنالیتے ہیں۔
پانچواں شبہ :
اہل علم کے درمیان نبی ﷺ کے فضلات پاک ہیں یا ناپاک اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ بعض نے پاک کہا ہے ۔مثلا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں ۔
اولا: بعض اہل علم نے فقہاء کا فقہی مذہب ذکر کیا ہے نہ کہ انہوں نے ترجیح دے کرالگ سے اپنا کوئی موقف بیان کیا ہے ۔
ثانیا: طہارت وعدم طہارت کی بات، فضلات سے متعلق روایات کی صحت وعدم صحت پر منحصر ہے ۔ جنہوں نے فضلات والی کسی روایت کو صحیح کہا ہے ان کے نزدیک آپ ﷺ کے فضلات پاک ہیں جبکہ یہاں آپ نے جان لیا کہ اس سلسلے میں کوئی روایت پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ہے ۔
ثالثا: علماء کے اقوال نصوص کے برخلاف دلیل نہیں ہواکرتے ۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ نبی ﷺ پیشاب وپاخانہ سے استنجا کرتے تھے تو یہ صریح دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے فضلات (پیشاب وپاخانہ ) ناپاک ہیں۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ نبی ﷺکے فضلات (پیشاب وپاخانہ ) ناپاک ہیں ، یہی مذہب مختار ہے ۔ واللہ اعلم​
 
Top