ذیشان خان

Administrator
تبدیلی چاہتے ہیں تو پہلے اپنے اندر تبدیلی لائیں!

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"

اللہ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

سماج اور قوم کو بہتر بنانے کےلیے سب سے پہلے خود کو بہتر بنانا ہوگا، اپنے اندر کی کمیوں ، کوتاہیوں اور کمزوریوں کو دور کرکے صحیح راستے کا انتخاب کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔

بعض لوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ جو بھی کر رہے ہیں صحیح کر رہے ہیں ، نہ مشورہ ، نہ ساتھیوں کا اعتماد؛ ایسے لوگ خود پسندی اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر حقیقی منزل اور بڑی کامیابی سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔

لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن میں غلطی کو تلاش کرنے اور اعتراف کرنے کا مزاج نہیں پایا جاتا ، جس کسی شخص کے اندر یہ فلسفہ پایا جائے تو اصلاح اور بہتری کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔!

یاد رکھیں! جو انسان خود کو بدلتا ہے اس کے رویئے میں اتنی تبدیلی ضرور آنی چاہیے کہ اس کے ساتھ رہنے والوں پر اس تبدیلی کا اثر نظر آئے ۔۔۔۔۔
ایسے شخص کی تبدیلی کیا تبدیلی جس کے بدلنے سے ساتھ رہنے والوں پر کوئی اثر نہ ہو سکے۔۔۔۔۔۔۔!

آج تربیت کدوں میں ہی تربیت مفقود؛ سماج میں بہتری کیسے آئے ۔۔۔۔۔۔۔!
ایسے اساتذہ کس کام کے جو قوم کے آئیڈیل نہ بن سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔!

شجر ثمر دار ہی خوبصورت اور اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔
آپ بہترین علم کے داعی ہیں، اس لئے بہترین اخلاق ، بہترین کردار اور بہترین انسان بن کر اپنی عظمت کو باقی رکھیں ۔۔۔۔۔

چراغ جلا کر اسے کہیں نیچے نہیں رکھا کرتے؛ بلکہ بلند مقام پر رکھتے ہیں تاکہ اس کی روشنی دور تک پھیلے۔۔۔۔

قارئین محترم! سماج و معا شرے کی حالات پر ہمیں افسو س و تکلیف ہے تو یہ ہماری اولین ذمہ داری ہے کہ ہم خود سےاصلاح و تبدیلی کی ابتدا کریں ۔۔۔۔۔

معلوم ہو کہ محنت, لگن , جد و جہد اور کوشس سے امت بنتی و بدلتی ہے ، عروج کی منزلیں طے کرتی ہے ۔۔۔۔

اخیر میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے مودبانہ التماس و گذارش کرتا ہوں کہ امت کے اندر اپنی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی قدر و قیمت کا اندازہ لگاتے ہوئے آج ہی سے خود اپنے اندر قرآن و حدیث کے موافق ہر طرح کی دینی , سماجی, سیاسی اور معاشی تبدیلیاں پیدا کریں، اسلامی احکامات پر عمل کریں اور برائیوں سے دور رہتے ہوئے طاقت بھر دوسروں میں بھی تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشس کریں ۔۔۔۔۔۔

آپ کی کوشسوں اور تبدیلیوں سے یہ امت بھی بدلے گی اور سماج بھی رسم و رواج ، فتنہ و فساد اور برے حالات سے باہر نکل آئے گا، ان شاء اللہ

اللہ تعالی ہمارا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین
 
Top