ذیشان خان

Administrator
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن!

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور ہمیں تلاوت کرتے ہوئے اس کی تلاوت کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، تلاوت کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم اس کے الفاظ کی ادائیگی ان کے صحیح مخارج کا لحاظ رکھتے ہوئے عمدہ لحن اور لب و لہجے میں کریں ، اس حق کی ادائیگی کے لیے ہمیں تجوید کا علم سیکھنا ہوگا تاکہ قرآن مجید کی تلاوت تجوید کے ساتھ کرنے کے ہم قابل بن جائیں ۔۔۔۔۔

علم تجوید کی تدریس میں اصل ہدف قرآن مجید کی صحیح تلاوت کے لئے ضروری قواعد و ضوابط کو جاننا اور اس کو تلاوت کے وقت عملی تطبیق دینا ہے کیونکہ کھانا بلا چبائے ہوئے کھانے سے نقصان کے ساتھ بہت سارے فوائد سے محروم بھی ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔
افسوس کہ آج ہمارے اداروں میں یہی چیز مفقود ہے اور ستم کی بات یہ ہے کہ تجوید کی کتابیں اکثر وہ لوگ پڑھاتے ہیں یا پڑھاتی ہیں جنہیں تطبیق کی خود مہارت اور مشق نہیں! جس کی وجہ سے طلبہ و طالبات تجوید پڑھنے کے باوجود قرآن مجید کی صحیح تلاوت کرنے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔۔۔!
آخر یہ کمی کب اور کیسے دور ہوگی۔۔۔۔۔؟
ضروری ہے کہ ذمہ داران ادارہ اپنی ذمہ داریوں کا حق ادا کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور قرآن جو اللہ کا کلام اور سب سے بہترین کتاب ہے اس کی صحیح تعلیم کے لیے بہترین اصول و ضوابط بناتے ہوئے بہترین استاذ کا انتخاب کریں اور خوش ہو جائیں اس بات پر کہ قرآن مجید سیکھنے اور سکھلانے والے سب سے بہترین لوگ ہیں ، اسی طرح سب سے بہترین محنت اور کاوش وہ ہے جو قرآن کی تلاوت ، تجوید و تطبیق اور درس و تدریس میں صرف ہو ۔۔۔۔۔۔۔

خوش ہوجائیں کہ قرآن مجید کی تلاوت اور درس و تدریس کے لیے جمع ہونے والوں پر سکینت نازل ہوتی ہے ، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے ، فرشتے انہیں گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالی ان لوگوں کا ذکر اپنے پاس موجود فرشتوں کی مجلس میں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
بھلا ہم میں سے کون شخص ایسا ہے جو ان مذکورہ باتوں کی تمنا نہ رکھتا ہو۔۔۔۔۔!

ابن حجر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید سیکھنا اور سکھانا اپنی ذات اور دوسروں کی ذات کی تکمیل کا باعث ہے اور اس میں ایسا فائدہ ہے جو اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لئے بھی ہے ۔۔۔۔۔!

آئیے قرآن مجید کو آئینہ بنا کر اپنی شخصیت کا جائزہ لیں اور اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش کریں۔
آئیے اپنی طلب کو قرآن کے ساتھ جوڑ لیں۔۔۔۔۔
ہم کیا چاہتے ہیں؟ اور قرآن اس کا کیا جواب دیتا ہے؟ ہمارے ذہنوں میں کیا سوال اٹھتے ہیں اور ان کے جواب ہمیں کہاں سے لینے ہیں۔۔۔۔۔۔؟
یاد رکھیں! مانگنے والے کو وہی ملتا ہے جس کی وہ طلب کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

مسئلہ تو یہی ہے کہ نہاں خانۂ قلب و نظر سے سوال ہی نہیں اٹھتا۔۔۔ کہ جواب کا انتظار بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ طلب ہی سچی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔!
ہمارا کاسہ، دامن اور پیٹ حیوانی ضرورتوں کے لیے خالی ہے، سو اس کے لیے تو مانگ رہے ہیں، اور مانگے چلے جا رہے ہیں۔۔۔ جس سے مانگنے کی ہوس اور حرص بڑھتی ہی جارہی ہے اور دوسری جو اہم چیزیں اور ضرورتیں ہیں اس کی بہتری کے لیے اس پر ہماری توجہ ہی نہیں۔۔۔۔۔۔!!!
اللہ ہم پر رحم فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں کو خالص کردے، قرآن مجید کو صحیح طرح سے سیکھنے ، سکھلانے اور کردار میں ڈھالنے اور سمونے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے ،آمین

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گُفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!
 
Top