ذیشان خان

Administrator
نبی ﷺ کے لئے لفظ آقا کا استعمال

===============
لفظ آقا فارسی سے آیا ہوا ہے ,اردو لغت کے حساب سے اس کے مندرجہ ذیل معانی ہیں ۔
مالک ، خداوند ، صاحب ، خاوند ، حاکم ، افسر ۔ (حوالہ : فیروز اللغات اُردو)
نبی ﷺ کے لئے سید کا لفظ حدیث میں آیا ہے ۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ (مسلم : 2278)
ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے دن بنی آدم کا سید (سردار) ہوں۔
لفظ سید اردو میں سردار اور آقا کے معنی میں آتا ہے ۔ ساتھ ہی جب لفظ آقا کی تاریخ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ آقا اصل میں ترکی لفظ ہے ۔ ترکی سے فارسی اور پھر فارسی سے اردو میں داخل ہوا۔
عثمانیوں کے زمانے میں یہ لفظ عام طور سے ان لوگوں کے درمیان استعمال ہوا کرتا تھا جو حاکم ، حکومت اور فوج سے جڑا ہوا تھایعنی عام بول چال میں نہیں تھا۔
اردو میں اس لفظ کی آمد بھی ایسے ہی معنوں میں لگتی ہے ۔ یہ لفظ سب سے پہلے اردو میں مرزا محمد رفیع سودا کی کلیات میں 1780 ء میں ملتا ہے ۔ اور سودا درباری شاعر تھا ۔ پہلے نواب بنکش کے دربار سے پھر نواب سجاع الدولہ کے دربار سے اورآخر میں نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ رہا۔آخرالذکر نواب نے انہیں ملک الشعراء کا خطاب دیا۔
اس سے پتہ چلا کہ اردو میں اس لفظ کی آمد بھی خوشامدی پس منظر اور حکومتی نسبت سے ہوئی ۔ ویسے اس کے استعمال میں بڑی قباحت نظر نہیں آتی مگر اس کے بجائے سید کا استعمال زیادہ بہتر ہے کیونکہ یہ نبی ﷺ کے فرمان میں موجود ہے ۔

واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top