ذیشان خان

Administrator
مہک اٹھیں فضائیں زندگی آسان ہو جائے۔

✍ عتیق الرحمن ریاضی کلیہ سمیہ بلکڈیہوا نیپال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ثقافتی ، سماجی ، تعلیمی و رفاہی ادارے بے توقیر ، بے اثر و بے معنی ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔
سادگی ہمارا سماجی شعار نہیں رہا ، ہم اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ نمائشی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔
عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوتی جا رہی ہے ، احتساب نام کی کوئی موثر چیز باقی نہیں رہی، جس کے پاس حیثیت ہے وہ باعزت ہے ، وہ من مانی کر سکتا ہے ، لوگ اس کے ہاں میں ہاں ملاتے ہیں ، اس کے لیے کوئی نظام کوئی اصول نہیں۔۔۔۔۔!

جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے
ان کا ہر عیب لوگوں کو ہنر لگتا ہے

غریب گرا پہاڑ سے اوکر نہ پوچھے کوئے
امیر کے جب کاٹا گڑے تو گھر گھر پیرا ہوئے
آخر ایسا کیوں ۔۔۔۔۔۔ ؟

اخلاقی اقدار جن پر زندہ و صحت مند معاشرے کی بنیاد قائم ہوتی ہے ، کم و بیش سب دم توڑ رہی ہیں ۔۔۔
ایسا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

شرافت ، خدمت ، نیکی ، سچ ، ایثار کی قدریں بے معنی ہو کر سوکھ رہی ہیں، آخر اسباب کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔ ؟

طبقہ خواص کے کرتوت سے یہ سوال ذہن میں چکر لگاتا ہے کہ یہ رہنما ، یہ با بصیرت اور باتخیل قوم کے قائدین کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
قوم و ملت کو کہاں لے جا رہے ہیں۔۔۔؟
ان سب اعمال کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟
وہ نتائج جو نابیناوں کو نظر آ سکتے ہیں ، آخر انہیں نظر نہیں آتے ۔۔۔۔۔!
آخرایسا کیوں اور کیوں۔۔۔۔۔۔۔ ؟

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے
چراغ ہاتھ اٹھا کر دعائیں کرنے لگے

عجیب رنگ تھا مجلس کا خوب محفل تھی
سفید پوش اٹھے کائیں کائیں کرنے لگے

جھلس رہے ہیں یہاں چھاوں بانٹنے والے
وہ دھوپ ہے کہ شجر التجائیں کرنے لگے
( راحت اندوری )

آج غربت و بیچارگی دیکھنی ہو تو ہمارے مدرسوں کو دیکھو جہاں ہمیشہ خسارہ ہی خسارہ کا چرچہ ہوتا ہے ، ہاں مالداری و خوشحالی دیکھنا ہو تو ہماری شادیوں کو دیکھو جہاں ناجائز رسم و رواج ، مال و دولت اور جھوٹی شان و شوکت اور ہجوم کا دکھاوا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزہ تو جب ہے کہ گرتے کو تھام لے ساقی

آج ہمارا معاشرہ دراصل ایک دلدل ، ایک خار زار بن گیا ہے ، جس میں انسان دھنس سکتا ہے ۔۔۔۔۔
لہو لہان تو ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
مگر ذہنی صحت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔!
کون ہیں اس کے ذمے دار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟

مہک اٹھیں فضائیں زندگی آسان ہو جائے
اگر ہر ایک شخص سے امن کا اعلان ہو جائے

آج ہمارے مفکرین اور دانشوران کے سامنے دو راستے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ایک یہ کہ اس صورت حال کو قبول کر کے اس میں غرق ہو کر فنا ہو جائیں یا پھر اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کریں ۔۔۔۔۔

کیا ہمارے خطیبوں، ادیبوں ، دانشوروں اور رہنماؤں کو اس افراتفری کے عالم میں اپنی حقیقی شناخت کو دوبارہ دریافت کرنے اور معاشرہ کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
تاکہ ہم اس گھٹن والے سماج و معاشرے کو انصاف پسند اور عدل پرست اخلاقی قدروں پر قائم معاشرہ بنا سکیں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

میرے بھائیو! پتہ نہیں ہماری سانسیں کب رک جائیں!
ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے ۔۔۔۔۔۔ ؟

کوئی انقلاب لائے نہ لائے ۔۔۔۔۔۔
ہم اپنی ذات میں انقلاب لا سکتے ہیں ۔۔۔
ہم اپنی اولاد میں انقلاب لا سکتے ہیں۔۔۔۔۔
ہم اپنے گھر میں انقلاب لا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔

اگر ہم اپنے اندر ، اپنے گھروں اور اپنے دلوں میں انقلاب لے آئیں تو پورے معاشرے میں انقلاب آ جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ

اَفَمَنۡ يُّلۡقٰى فِى النَّارِ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ يَّاۡتِىۡۤ اٰمِنًا يَّوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ اِعۡمَلُوۡا مَا شِئۡتُمۡ‌ ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بصیر۔(سورة فصلت 40)
بھلا وہ شخص اچھا ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے ، یا وہ اچھا ہے جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا ۔۔۔۔۔ ؟
جیسا چاہو عمل کرو ، بے شک جو کچھ تم کروگے اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے ۔
 
Top