ذیشان خان

Administrator
خطبہ جمعہ
جامع مسجد چاکر چوڑا، کپلوستو نیپال
خطیب: عتیق الرحمن الریاضی
مطابق29,جولائی؍2022 عیسوی
موضوع: جنت میں جانے والے لوگ اور جنت کی نعمتیں​

"وَسَارِعُوٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ" (آل عمران133)
اور اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف دوڑو، جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
{ فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ۔ إِنِّي ظَنَنتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ۔ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَّاضِيَةٍ ۔ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ۔ قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ۔ كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ( الحاقة 24)

"عَلَى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ ۔ مُتَّكِئِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ ۔ يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُخَلَّدُونَ ۔ بِأَكْوَابٍ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ ۔ لَا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنْزِفُونَ ۔ وَفَاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ ۔ وَلَحْمِ طَيْرٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ۔ ( سورة الواقعة)

"و فاکھة کثیرة لا مقطوعة و لا ممنوعة و فرش مرفوعة"

برادران اسلام! کون ہے جو جنت کے پرکیف باغات کا خواہاں نہ ہو؟
کون ہے جو جنت کے بے مثال انعامات کا متمنی نہ ہو؟

نیک اور صالح بندوں نے جنت کی طلب میں اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کیا، مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ، خواب گاہوں سے الگ ہوکر لمبا لمبا سجود و قیام کیا ، رات کے سناٹے میں آہ و گریہ زاری کرتے رہے ۔۔۔۔

سجدے میں رکھا ہوا سر، ندامت کے آنسو، آہ و بکاء اور عاجزی میں ڈوبی ہوئی دعاوں سے اللہ اور اس کی جنت کو پانا بالکل آسان ہے بھائی ۔۔۔۔۔۔!

میرے بھائی! جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام اور اطاعت گزاروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے۔۔۔۔۔۔

قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی، خدمت کے لیےحور و غلمان ملیں گے، ہر طرح کے نہ ختم ہونے والے پھل ہوں گے ، مرغوب پرندوں کے گوشت ہوں گے ۔۔۔۔
انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔۔۔۔

نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں، نہ کسی کان نے انہیں سنا ہے، نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم)

محترم حضرات! اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اسے اپنے بندوں کو ہی عطا کرے گا، لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔۔۔۔۔

میرے بھائیو! جنت کاحصول بہت آسان ہے، جنت ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے گا ۔۔۔۔۔۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُبْلِغُ أَوْ فَیُسْبِغُ الْوَضُوْءَ ثُمَّ یَقُوْلُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُهُ إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ الثَّمَانِیَةُ یَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ۔(رَوَاهُ مُسْلِمٌ)
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر یہ کہے : أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُهُ، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں کہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے۔‘‘

جنت میں حضرت بلالؓ کے قدموں کی آواز
۔۔۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلالؓ سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا: اے بلال تو مجھ سے وہ عمل بیان کر جو تو نے اسلام میں کیا ہو اور جس کے نفع کی تجھے زیادہ امید ہو کیونکہ آج رات میں نے جنت میں اپنے سامنے تیرے قدموں کی آواز سنی ہے۔ حضرت بلالؓ نے عرض کیا میں نے اسلام میں کوئی ایسا عمل نہیں کیا کہ جس کے نفع کی مجھے زیادہ امید ہو سوائے اس کے کہ جب بھی میں رات یا دن کے وقت کامل طریقے سے وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جس قدر اللہ نے میرے مقدر میں لکھا ہوتا ہے نماز پڑھ لیتا ہوں۔(صحیح مسلم 6324)

میرے بھائیو! ہم جنت میں جانا چاہتے ہیں؛ پر راستے بھول چکے ہیں! الا من رحم اللہ

اے وضو اور نماز سے دور رہنے والو!
اےخواہشات کے پیچھے بھاگنے والو!
اے نیند و آرام سے دوستی رکھنے والو!
اے آخرت کو فراموش کرنے والو!

تیری آنکھ کیسی۔۔۔۔۔۔۔۔؟
جو نمازوں کو ضائع کرنے پر افسوس کرتے ہوئے آنسو نہ بہائے ۔۔۔۔۔!
تیرا دل کیسا جو اذان سن کر نماز کے لیے بے چین نہ ہو۔۔۔۔۔؟

اللہ کی قسم دنیا سے کوچ کا وقت اور آخرت کیلئے منتقل ہونے کا وقت بھی قریب ہے ۔۔۔۔۔
کیا تم نے اللہ رب العالمین کا یہ فرمان نہیں سنا۔۔۔۔؟
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَلٰى صَلَوٰتِهِمۡ يُحَافِظُوۡنَ‌ۘ ۞ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْن ۞ الَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡفِرۡدَوۡسَؕ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ ۞ (المومنون)
جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں، یہی وہ وارث ہیں۔ جو فردوس کے وارث ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" (صحیح بخاری) جو فجر اور عصر کی نماز پڑھے وہ جنت میں داخل ہوگا-

حج مبرور کرنے والا جنت میں ہوگا:
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ" (صحیح بخاری)

پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرنے والا: آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ" (صحيح بخاری)

مسجد بنانے والا جنت میں ہوگا :
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ بَنَى مَسْجِداً لِلَّهِ كَمَفْحَصِ قَطَاةٍ أَوْ أَصْغَرَ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ" (سنن ابن ماجہ:603/صحيح) جس نے اللہ کے واسطے پرندے کے گھونسلے کے مانند مسجد بنائی یا اس سے چھوٹی مسجد بنائی تو اس کے بدلے اللہ جنت میں گھر بناتا ہے-

اپنی زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والا جنت میں ہوگا
:
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ" (صحيح بخاری:6474) جو مجھ کو شرم گاہ اور زبان کی حفاظت کی گارنٹی دے تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں-


بیٹیوں کی اچھی تربیت کرنے والا جنت میں ہوگا:

پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ" (صحیح مسلم) جس نے دو بیٹیوں کو پالا پوسا یہاں تک کہ بیٹیاں بڑی ہوگئیں تو وہ شخص کل قیامت کے دن آئے گا میں اور وہ دونوں اس طرح ہوں گے پھر آپ نے انگلیوں کو ملا لیا-

برادران اسلام! بیٹیوں کی کفالت؛ جنت کی بشارت ہے

میٹھی میٹھی پیاری سی کہانیاں ہیں
بیٹیاں تو رب کی سچی مہربانیاں ہیں
بیٹیاں وہ پھول ہیں جو باغوں میں نہیں کھلتیں
یہ رب کا دیا نور ہیں جو قسمتوں سے ہیں ملتیں

باپ کے آنگن کا پھول ، ماں کے آنچل کی خوشبو ، کبھی رحمت ، کبھی عظمت ، کبھی سکون اور کبھی راحت ہیں بیٹیاں۔۔۔۔۔

گھروں میں خوشبو پھیلاتی ہوئی محبت و امن کی علامت ، دوزخ کی آگ سے نجات اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہیں بیٹیاں۔۔۔۔۔۔۔

بیٹیاں وہ پھول ہیں جب یہ ایک شاخ سے جدا ہوتی ہیں تو نئی شاخ پہ نئے پھول کھلا دیتی ہیں ۔۔۔۔

ایک دن ایسا بھی آتا ہے کہ والدین ضعیف ہو جاتے ہیں، چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتے ہیں، انہیں خدمت کی سخت ضرورت ہوتی ہے، اس وقت بیٹیوں کی شادی ہو جاتی ہے یہ شوہر کی مرضی کی محتاج ہو جاتی ہیں؛ لیکن جس وقت انہیں موقع ملتا ہے یہ دل و جان سے والدین کی خدمت کرتی ہیں، والدین میں اگر کوئی اس مقام پر پہنچ جائے کہ بستر سے اٹھ کر کہیں نہ جاسکتے ہوں، بستر پر ہی پیشاب و پاخانہ کر دیتے ہوں، اس وقت ہر کوئی تعفن کی وجہ سے دور بھاگتا ہے، لوگ جلد مرنے کی دعائیں کرتے ہیں؛ ان میں صرف ایک بیٹی ہی ایسی ہوتی ہے جس کے دل میں اپنے والدین کی محبت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے؛ یہی بیٹی کی پاکیزہ محبت ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے والدین کی خدمت کرتی ہے، بوڑھے ضعیف والدین کی صفائی کا خیال کرتی ہے، اس کے دل میں کسی طرح کی گھن پیدا نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔

در اصل بیٹیاں محبت اور خلوص کا پیکر ہوتی ہیں، والدین کا احساس بیٹوں سے زیادہ کرتی ہیں-
پیدا ہوتی ہیں تو خاندان والوں کے منہ لٹکے ہوتے ہیں، لیکن جب چلنا پھرنا سیکھ جاتی ہیں تو اپنی معصوم اداؤں سے والدین کا دل جیتنا بھی سیکھ جاتی ہیں ، گھرکےکاموں میں امی کا ہاتھ بٹانا یا تھکے ماندے ابو آفس ، دوکان یا مدرسہ سے لوٹیں تو ان سے چائے پانی کا پوچھنااور ان کا پیار سے منہ تکنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔
گھر کا سکون یہ بیٹیاں ہی قائم رکھتی ہیں۔۔۔۔۔

یاد رہے کہ بیٹیوں سے زیادہ والدین سے سچی محبت کرنے والا کوئی نہیں؛ کیونکہ یہ بیٹیاں گلشن کے پھول ہیں انہیں کے دم سے رونق ہے ، اسی لیے یہ باعث رحمت اور باعث جنت ہیں ، خوشی خوشی ان کی اچھی پرورش اور اچھی تعلیم و تربیت کرو اور انہیں وراثت میں حصہ ضرور دو ، ان کے ساتھ حق تلفی ہر گز ہرگز نہ کرو، بیٹوں کی طرح ان کا بھی خوب مان جان رکھو ، ان سے بھی خوب لاڈ پیار کرو ۔۔۔۔۔

عن عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ‌‌‌‌‌‏أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، ‌‌‌‌‌‏أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‌‌‌‌‌‏حَدَّثَتْهُ، ‌‌‌‌‌‏قَالَتْ:‌‌‌‏ جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ، ‌‌‌‌‌‏فَأَعْطَيْتُهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا، ‌‌‌‌‌‏ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ، ‌‌‌‌‌‏فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ، ‌‌‌‌‌‏فَقَالَ:‌‌‌‏ مَنْ يَلِي مِنْ هَذِهِ الْبَنَاتِ شَيْئًا فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ.( صحیح بخاری: 5995)

حضرت عائشہ رض نے بیان کیا کہ میرے یہاں ایک عورت آئی جس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، وہ مانگنے آئی تھی۔ میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ اسے اور کچھ نہ ملا۔ میں نے اسے وہ کھجور دے دی اور اس نے وہ کھجور اپنی دونوں لڑکیوں کو تقسیم کردی۔ پھر اٹھ کر چلی گئی اس کے بعد نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص بھی اس طرح کی لڑکیوں کی پرورش کرے گا اور ان کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا تو یہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔۔۔۔۔

معلوم ہوا کہ بیٹیاں جہنم سے بچنے کا ذریعہ اور جنت میں جانے کی ضمانت ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنت میں نبی کریم ﷺ کی رفاقت کا بھی سبب ہیں۔ یقینا یہ بہت بڑا اعزاز و اکرام ہے۔۔۔۔۔۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں بیٹیوں کی پرورش اور ان سے حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں ہر قسم کی کمی اور کوتاہی سے محفوظ رکھے۔۔۔

صلہ رحمی کرنے والا جنت میں ہوگا:
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ" (سنن ابن ماجہ:3251،1334/صحیح) اے لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو، اور راتوں میں اٹھ کر تہجد پڑھو کہ جس وقت لوگ سوتے ہیں اور پھر تم جنت میں امن و امان اور سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ-

امید کہ یہ باتیں تمام روحوں میں سرایت کر جائیں اور ہم جنتوں کے راستے پر چلنے والے بن جائیں!
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین
 
Top