ذیشان خان

Administrator
کھینی یا نسوار (تمباکو کی ایک قسم).
سرجا پور دربھنگہ میں شیخ اکرام حیدر وفقہ اللہ کے زیر اہتمام چل رہے دار التحفيظ کی زیارت کے بعد میں اور میرے بھائی حافظ علیم الدین ایک آٹو رکشہ میں لوٹ رہے تھے، کمہر چوک پر آٹو والے کو تین سواری ملی لیکن کرایہ پر اتفاق نہیں ہو سکا اس لئے ڈرائیور نے انہیں چھوڑ دیا، تھوڑی دور جا کر ایک بوڑھا شخص جو ننگے پاؤں اپنے گاؤں جا رہا تھا آٹو والے نے اس کے قریب اپنی آٹو روکی اور کہا: چچا کھینی ہے؟ اس شخص نے کہا ہاں، آٹو والے نے اسے اپنی آٹو میں بلا معاوضہ بٹھا لیا اور کھینی بنانے کیلئے کہا، بوڑھا شخص چٹکی، تال اور انگلیوں کی حرکت کے ذریعہ کھینی بنانے لگا، لیکن سوئے قسمت کہ اس کے ہاتھ سے کھینی پھسل کر آٹو میں ہی گر گئی، آٹو والے کے چہرے پر یاس و قنوطیت کے بادل چھانے لگے، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری، تھوڑی دور جا کر ایک اور غیر مسلم بوڑھا بیٹھا اپنے خیالوں میں گم تھا، آٹو والے نے اس کے پاس جاکر فریاد کی اور اپنے ہاتھوں کو پھیلاتے ہوئے کہا کہ چچا ایک جُگ (یعنی ایک چٹکی یا ایک خوارک) کھینی ہے؟ وہ بوڑھا انسانیت کا بڑا ہمدرد لگا، فورا اپنی کمر سے چِنَوٹی (ایک ڈبہ جس میں کھینی اور چونا رکھا جاتا ہے) نکال کر دیا، آٹو والے نے محبت بھری نگاہ سے اسے دیکھا اور چِنَوٹی لے کر خود سے کھینی بنانے لگا، بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر تھوڑی کھینی رکھا، پھر اس میں تھوڑا چونا ڈالا، اور کبھی انگوٹھے سے تو کبھی گالیوں میں استعمال ہونے والی انگلیوں سے کھینی کو ایسے رگڑنے لگا جیسے پہلوان اپنے مد مقابل کو پچھاڑنے کی کوشش کرتا ہے، اخیر میں کھینی پر ایک تھپڑ مارا اور پھر ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک حصہ اپنے بغل میں بیٹھے بوڑھے کو دیا اور اور دوسرا حصہ اپنی دو انگلیوں کے درمیان دبا کر نیچے والے ہونٹ کے اندر ثنایا سفلی کی جڑ میں ڈال لیا، اس پورے عمل کے بعد اس ڈرائیور کے چہرے پر ایسی مسرت پھیلی گویا اسے ہندوستان کا پردھان منتری بنا دیا گیا ہو، ویسے ہم بچپن میں بعض لوگوں سے سنا کرتے تھے کہ کھینی "فرعون کا پاخانہ ہے"، کچھ بھی ہو شریعت کی نگاہ میں کھینی کا استعمال جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ مطلقا صحت کیلئے مضر ہے، اس میں مال کا ضیاع ہے اور یہ خبائث میں سے ہے، اسی ضمن میں گُل کرنا، گٹکھا کھانا، سگریٹ پینا، زردہ کھانا وغیرہ بھی آتا ہے.
عجیب بات یہ ہے کہ بعض مدارس کے طلبا اور اساتذہ بھی اس کا استعمال کرتے ہیں، بعض تو اس قسم کی چیزوں کا استعمال مساجد میں بوقت وضو اور نماز کرتے ہیں، اور پوچھنے پر کہتے ہیں کہ یہ حرام نہیں مکروہ ہے، ان کے اندازِ جواب سے ایسا لگتا ہے کہ "مکروہ" جواز و اباحت کی کوئی خاص قسم ہے، حالانکہ کتاب و سنت کے دلائل کی روشنی میں اس کا نا جائز ہونا بالکل واضح ہے.
واللہ اعلم بالصواب
ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
 
Top