ذیشان خان

Administrator
سامان تجارت، منافع اور نقدی پر زکوۃ


ایک اہم سوال ہے کہ تجارتی مال کی زکوۃ کیسے نکالیں گے اورکیا سال بھر کے منافع کا بھی حساب کیا جائے گا نیز تجارتی مال کے ساتھ ساتھ موجودہ نقدی کو بھی شامل کیا جائے گا؟
اس سے متعلق دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر سال میں منافع سے زیادہ نقصان رہا ہو تجارت میں یا آمدنی برائے نام رہی ہو (یعنی حالات ایسے دگرگوں ہو چکے ہوں کہ سب کچھ کاروبار کی بقا کے لئے انویسٹ کر بیٹھے ہیں) تو کیا صورتحال ہو گی زکوٰۃ نکالنے کی؟
اسی طرح تیسرا سوال یہ ہے کہ گھر بھی ذاتی نہیں،دکان بھی ذاتی نہیں، ہر ماہ منافع کی رقم میں سے دکان کے ملازم اور کفیل کو بھی ایک معینہ رقم ادا کرنی پڑتی ہےتب کیا صورتحال ہو گی زکوٰۃ نکالنے کی؟
سائل : عبادالرحمن ، حیدرآباد، الھند
جواب :
پہلی بات یہ سمجھ لیں کہ آلات تجارت پر زکوہ نہیں مثلا تجارتی سامان ڈھونے کے لئے گاڑی ہو یا مصنوعات تیار کرنے کے لئے مشینریاں ہوں خواہ کتنے ہی قیمتی ہوں لیکن سامان تجارت( ( For Sale اوراس کے منافع پر زکوہ ہے نیز کچھ نقدی ہو تو اسے بھی کل مالیت میں جوڑا جائے گا ۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیں کہ
▪آپ کے پاس تجارتی سامان ہے اس کی مالیت کا اندازہ لگائیں۔
▪اس تجارت سے جو منافع خرچ ہوتا رہا اس کی کوئی گنتی نہیں جو منافع سال بھر بچا رہا اس کو جمع کریں۔
▪ان دونوں کے علاوہ جو دیگر نقدی روپئے ہوں جن پر سال گزر گیا ہو وہ سارے جمع کریں۔اگر نہیں ہے تو پھر کوئی بات نہیں ۔
ان سب پیسوں کو جوڑ کر کل مال کو دیکھیں ،اگریہ کل مال نصاب زکوہ تک پہنچ جارہا ہے یعنی 595 گرام چاندی کی قیمت کے برابر ہوجارہاہے تو اس میں سے چالیسواں حصہ زکوہ دیں، اس شرط کے ساتھ کہ ان مالوں پر ایک سال بھی مکمل ہوگیا ہو۔
رہی بات تجارت میں نقصان کی تو جب تجارت میں نقصان ہوا ہواور سامان تجارت کی مالیت نصاب زکوۃ تک نہیں پہنچ رہی ہو تو پھراس میں زکوہ نہیں دینی ہے لیکن یاد رہے کہ تجارت میں نقصان کے باوجود تجارتی سامان کی مالیت نصاب تک پہنچ رہی ہے اور اس پرسال بھی مکمل ہو رہا ہے تو پھر زکوہ دینی ہوگی۔ اور گھر و مکان پر زکوہ نہیں۔

واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمدسلفی
 
Top