ذیشان خان

Administrator
زکوۃ سے متعلق ایک بھائی کے چند سوالات

میرے پاس زکوۃ سے متعلق چند سوالات ہیں امید ہے کہ جواب دے شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں گے ۔ سوالات حسب ذیل ہیں۔
(1) میں گاڑی خریدتا ہوں ، اسے چلاتا بھی ہوں ، خریدتا اس نیت سے ہوں کہ کوئی خریدار ملے تو اسے بیچ دیا کروں تو کیااس گاڑی کی زکوۃ نکالنی ہوگی ؟
(2) میرے پاس ایک مکان ہے جو کرایہ پر دیتا ہوں ، کبھی کبھی مکان خالی بھی رہتا ہے ، اس مکان سے متعلق مستقبل میں میرا منصوبہ یہ ہے کہ اگر اس کا کوئی خریدار مل گیا تو اسے بیچ کر اس سے اچھی عمارت خرید لوں گاتوکیا اس مکان کی یا اس مکان کی مالیت کی زکوۃ بنتی ہے ؟
(3) میرے پاس ایک ڈیرا(جگہ) ہے اس پر باغ لگانے کا پروگرام ہے ،ساتھ ہی یہ نیت بھی ہے کہ کوئی اچھا خریدار ملا تو اسے بیچ دوں گا تو کیااس زمین پر زکوۃ بنتی ہے ؟
(4) میرے پاس ایک اور پلاٹ ہے اس کے متعلق بھی میری یہی نیت ہے کہ کوئی گاہک ملا تو بیچ دوں گا ورنہ پڑا رہے گاتو کیا اس پر بھی زکوۃ ہے ؟
(5) اس کے علاوہ لوگوں پر میرے کچھ پیسے بنتے ہیں جومجھے ملیں گے ، کچھ تو مل گئے ہیں اور ابھی کچھ باقی ہیں تو کیا ان پیسوں پر زکوۃ ہے جبکہ یہ معلوم رہے کہ کچھ پیسے ایسے بھی ہیں جن کے ملنے کی امید نہ کے برابر ہے اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیں کہ نقد یا سامان تجارت میں زکوۃ کا نصاب کیا ہے ؟
مذکورہ بالا تمام سوالوں کے جواب حسب ترتیب دئے جاتے ہیں ۔
جواب نمبر1- اگر کوئی گاڑی اس نیت سے خریدتا ہے کہ اسے اچھی قیمت پر بیچا کروں گا تو اس وقت گاڑی سامان تجارت کے زمرے میں آجاتی ہے اور ہر وہ سامان جو تجارت کے لئے ہو اس پر زکوۃ ہے اگر نصاب تک پہنچتا ہو اور اس پر ایک سال گزرجائے ۔ لہذا اگراس گاڑی میں یہ دونوں شرطیں نصاب زکوۃ اور حولان حول پائی جاتی ہیں تو اس پر سال میں ایک مرتبہ زکوۃ دینی ہوگی ۔ گاڑی پہ جس دن سال مکمل ہورہاہے اس دن کی قیمت کے حساب سے زکوۃ دینا ہے ۔
جواب نمبر2- اس صورت میں آپ کے لئے یہ ہے کہ آپ اس مکان کا کرایہ جوبچا رہے اور اس مکان کی مالیت کا اندازہ لگاکر دونوں پیسوں کو جمع کرکے اس میں سے ڈھائی فیصد زکوۃ ادا کریں جب دو شرطیں پائی جائیں جو پہلے جواب میں گزرگئی ہیں ۔
جواب نمبر3- یہ جگہ بھی سامان تجارت کی طرح ہے سال مکمل ہونے پر اس کی مالیت کا اندازہ لگاکرکل مال میں سے ڈھائی فیصدزکوۃ دینی ہوگی ۔
جواب نمبر4- اس کا بھی وہی جواب ہے جو تیسرے سوال کا جواب ہے ۔
جواب نمبر5- جو پیسے آپ نے قرض دئے ہیں ان پیسوں پر بھی سالانہ زکوۃ دینی ہوگی اگر نصاب تک پہنچ جاتے ہیں تو ، البتہ قرض میں دیا گیا وہ پیسہ جس کے ملنے کی امید نہیں ہے اس کی فی الفور زکوۃ نہیں دینی ہے اگر مل جائے تو پھرسال کے حساب سے زکوۃ نکالیں ورنہ نہیں ۔
سونے کا نصاب پچاسی گرام (85)اور چاندی کا نصاب پانچ سو پنچانوے گرام (595)ہے ، جب نقدی یا سامان تجارت سونے یا چاندی کی قیمت کے برابر ہوجائے تو نصاب تک پہنچ جاتا ہے اس پر سے ایک سال مکمل ہونے پر ڈھائی فیصد یعنی سو روپئے میں ڈھائی روپئے زکوۃ دینی ہوتی ہے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top